- فتوی نمبر: 36-56
- تاریخ: 12 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے ایک ماموں فوت ہوئے ہیں ان کی بیوی اور ان کے والدین ان سے پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔اب ان کے ورثاء میں دو حقیقی بھائی، دو حقیقی بہنیں، ایک رضاعی بہن، دو بھانجے اور پانچ بھتیجے زندہ ہیں۔انکی جائیداد اور مال کی وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرما دیجئے۔
وضاحت مطلوب: مرحوم کے بھائی یا بہن میں سے کوئی فوت ہوا ہے؟
جواب : نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی کل جائیداد کے 6 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو، دو حصے(33.33 فیصد فی کس) ہر ایک بھائی کو اور ایک ، ایک حصہ ( 16.66 فیصد فی کس) مرحوم کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔
نوٹ: رضاعی بہن تو شرعاً وارث بنتی ہی نہیں اور بھتیجے ، بھانجے اگرچہ بعض صورتوں میں وارث بنتے ہیں تاہم مرحوم کے بھائیوں کے ہوتے ہوئے شرعاً وراثت سے محروم ہوتے ہیں۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
6
| 2 بھائی | 2 بہنیں | 2 بھانجے | 5 بھتیجے |
| 2+2 | 1+1 | محروم | محروم |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved