- فتوی نمبر: 32-267
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حج و عمرہ کے فضائل
استفتاء
1۔جو مسجدیں حدود حرم میں ہیں کیا ان میں نماز پڑھنے سے بھی ایک لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ملتا ہے؟
2۔اور حدود حرم کہاں تک ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ حدود حرم میں نماز پڑھنے سے بھی ایک لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے ملتا ہے تاہم ہماری تحقیق میں ایک لاکھ نماز کا تعلق مسجد حرام سے ہے۔
2۔ حرم کی حدود مدینہ منورہ کی جانب “تنعیم”(مسجد عائشہؓ) تک ، جو کہ مکہ سےتقریبا تین میل کے فاصلے پر ہے،اور یمن کی جانب “اضاۃ لبن”تک ، جو کہ مکہ سےتقریبا سات میل کے فاصلے پر ہے ، اور عراق کی جانب “جبل مقطع”تک ، جو کہ مکہ سےتقریبا سات میل کے فاصلے پرہے ، اور جعرانہ کی جانب “شعب آل عبد اللہ بن خالد”تک ، جو کہ مکہ سےتقریبا نو میل کے فاصلے پر ہے ، اور طائف کی جانب مقام”عرنہ”تک، جو کہ مکہ سےتقریبا سات میل کے فاصلے پرہے اور جدہ کی جانب “حدیبیہ”تک ، جو کہ مکہ سے تقریبا دس میل کے فاصلے پرہے ۔آسانی کے لئے مسجد حرام کے تمام اطراف میں راستوں پر مختلف فاصلوں پر محراب نما ستون بنے ہوئے ہیں جن پر حدود حرم کا آغاز یا انتہا ء لکھی ہوتی ہے وہاں سے معلوم کرسکتے ہیں۔
سنن ابن ماجہ (رقم الحدیث:1406) میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة في مسجدي أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام وصلاة في المسجد الحرام أفضل من مائة ألف صلاة فيما سواه.
ترجمہ:حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی)میں ایک نماز دیگر مساجد میں ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے،اور مسجد حرام میں ایک نماز دیگر مساجد میں ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
مسنون حج وعمرہ (صفحہ نمبر:96،97 مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ) میں ہے:
تنبیہ: یہ خاص مسجد حرام کی فضیلت ہے ۔ بعض حضرات نے یہ فضیلت پورے حرم کے لیے کہی ہے لیکن یہ بات دلیل سے ثابت نہیں ۔ علاوہ ازیں حرم کے اندر تو بہت سی مسجدیں ہیں پھر بجائے حرم کے صرف اس کی ایک خاص مسجد یعنی مسجد حرام کی تخصیص جو مندرجہ ذیل حدیث میں ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ فضیلت صرف مسجد حرام کو حاصل ہے پورے حرم کو نہیں۔۔۔۔۔۔ علاوہ ازیں پورے حرم کے لیے فضیلت ماننے کی صورت میں لازم آئے گا کہ اگر لوگ مکہ مکرمہ میں اپنے ہوٹل میں جماعت سے نماز پڑھ لیں تو وہ بھی ثواب پانے کے مستحق ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
غنیۃ الناسک(صفحہ نمبر:229،230) میں ہے:
واختلف فى المراد بالمسجد الحرام الذى فيه المضاعفة فقيل مسجد الجماعة حول الكعبة وقيل: الحرم كله والاول مذهب الامام مالك رضى الله عنه وجزم به النووى فى المجموع والتهذيب
وقال الاسنوي انه الظاهر واختاره ابن حجر فى التحفة وصححه وايده “المحب الطبري” بأن الإشارة في المستثنى منه إلى مسجد الجماعة فليكن المستثنى كذلك .
غنیۃ الناسک(صفحہ نمبر:102)میں ہے:
فحد الحرم من طريق المدينة إلى التنعيم على ثلاثة أميال من مكة، ومن طريق اليمن إلى أضاة لبن في ثنية لبن على سبعة أميال من مكة، ومن طريق العراق إلى ثنية حل بالمقطع على سبعة أميال من مكة، ومن طريق الجعرانة إلى شعب آل عبد الله بن خالد على تسعة أميال من مكة، وبينها وبين الحرم نحو ثلاثة أميال، وحده من هذه الجهة لا يعرف موضعه، قاله ابن حجر، ومن طريق الطائف إلى عرنة على سبعة أميال، ومن طريق جدة إلى الحديبية على عشرة أميال من مكة .قال في المبسوط: نصف الحديبية من الحرم ونصفها من الحل اهـ، وإنما نحر النبي عندنا في الحرم.وأما الغايات السابقة فكلها من الحل.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved