- فتوی نمبر: 31-339
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مذکورہ صورت میں بیوی شوہر کے لیے حلال ہے یا حرام ہو گئی ہے؟
والد کا بیان:
میں ***حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کے جسم کو چھوا ، جسم پر باریک کپڑا تھا جس میں سے جسم کی حرارت محسوس ہو رہی تھی، آلہ میں انتشار بھی ہوا تھا، میں نے بیٹی کی شرم گاہ کو کپڑے کے اوپر سے ہاتھ لگایا تھا، کپڑے کے اندر ہاتھ نہیں ڈالا، حائل کے بغیر جسم سے جسم ٹچ نہیں ہوا، منی بھی نہیں نکلی، کپڑوں کے اوپر سے ہی ہاتھ لگایا، بیٹی سوئی ہوئی تھی میری اس حرکت کی وجہ سے جاگ گئی، میری بیٹی کی عمر تقریبا 12 یا 13 سال تھی اور میری عمر 42 سال تھی، یہ گزشتہ سال کا واقعہ ہے، اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ ایسا معاملہ ہوا تھا کہ بیٹی کی شرم گاہ کو حائل کے بغیر چھوا تھا، اور دخول کی کوشش کی تھی لیکن دخول نہیں ہوا، اس وقت بیٹی کی عمر 5 یا 6سال تھی، اس کے علاوہ اور کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
بیٹی کا بیان:
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر بیان دیتی ہوں کہ جب میں تقریبا پانچ سال کی تھی تو میرے والد نے گندی ویڈیو لگا کر میری شلوار اتار کر گندی حرکت کی تھی، اور جب میں 13 سال کی تھی اور بالغ تھی تو رمضان کے مہینے میں فجر کے بعد میں سوئی ہوئی تھی، والد صاحب میری چارپائی پر آئے اور میری شلوار میں ہاتھ ڈال کر گندی حرکت کی، میں نے محسوس کیا کہ یہ میرا خیال ہے لیکن آنکھیں کھول کر دیکھا تو ابو غلط حرکت کر رہے تھے یعنی شلوار میں ہاتھ ڈالا ہوا تھا، میں ایک دم ڈر گئی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی، پھر ماما کے پاس جا کر روتی ہوئی بیڈ پر لیٹ گئی، اس واقعہ کے تین ماہ بعد رات کو ہم سب سوئے ہوئے تھے تو ابو نے میری چھاتی کے اندر ہاتھ ڈال کر دبایا ، میں نے چیخ مار دی اور امی کو اٹھایا، اس کے بعد ابو مجھے بلیک میل کرنے لگ گئے اور مجھے مارتے تھے اس لیے میں کچھ عرصہ نانا کے گھر ٹھہری رہی۔
نوٹ: لڑکی کے ساتھ والدہ بھی دارالافتاء آئی تھی، اس نے بیٹی کے بیان کی تصدیق کی اور کہا کہ شوہر نے بھی ان تمام واقعات کا میرے سامنے اقرار کیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنا جائز نہیں نیز شوہر پر واجب ہے کہ بیوی کو طلاق دیدے یا زبان سے کہہ دے کہ ’’میں نے تمہیں چھوڑ دیا‘‘ اس سے نکاح ختم ہو جائے گا۔ اگر شوہر طلاق نہ دے تو عورت خود بھی یہ کہہ کر کہ “میں نے تمہیں چھوڑ دیا” اپنا نکاح ختم کرسکتی ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے پہلے اور دوسرے واقعہ کا اقرار کیا ہے، پہلے واقعہ سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی کیونکہ اس واقعہ کے وقت بیٹی کی عمر 5 سال تھی اور حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے بیٹی کا مراہقہ(قریب البلوغ) ہونا شرط ہے اور مراہقت کی حد لڑکی کے لیے کم از کم 9 سال ہے، دوسرے واقعہ میں چونکہ بیٹی کی عمر 13،12 سال تھی اور بالغ تھی نیز شوہر کے بیان کے مطابق اگرچہ فرج پر مس بالحائل تھا لیکن حائل باریک تھا جو جسم کی حرارت سےمانع نہیں تھا اس لیے اس واقعہ کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی۔
نوٹ: مذکورہ صورتحال میں بیٹی کے دیگر عزیز واقارب پر فرض ہے کہ وہ بیٹی کے لیے کوئی ایسا نظم بنائیں کہ جس سے مذکورہ نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں اور ایسے باپ سے بیٹی کا پردہ کرنا بھی فرض ہے الا یہ کہ باپ اس طرح کی حرکات سے سچی توبہ کرلے اور بیٹی کو بھی اس پر اطمینان ہوجائے۔
(و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة
درمختار مع ردالمحتار (117/4)میں ہے:
(هذا إذا كانت حية مشتهاة) ولو ماضيا (أما غيرها) يعني الميتة وصغيرة لم تشته (فلا) تثبت الحرمة بها أصلا
(قوله: هذا) أي جميع ما ذكر في مسائل المصاهرة (قوله: مشتهاة) سيأتي تعريفها بأنها بنت تسع فأكثر (قوله: ولو ماضيا) كعجوز شوهاء؛ لأنها دخلت تحت الحرمة، فلا تخرج ولجواز وقوع الولد منها كما وقع لزوجتي إبراهيم وزكريا عليهما الصلاة والسلام (قوله: فلا يثبت الحرمة بها) أي بوطئها أو لمسها أو النظر إلى فرجها وقوله: أصلا أي سواء كان بشهوة أو لا وسواء أنزل أو لا.
درمختار مع ردالمحتار (4/113) میں ہے:
(و) حرم أيضًا بالصهرية (أصل مزنيته) اراد بالزنى الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة
(قوله: وحرم أيضًا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبًا ورضاعًا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبًا و رضاعًا كما في الوطء الحلال…..(قوله: وأصل ممسوسته إلخ) ؛ لأن المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط هداية. واستدل لذلك في الفتح بالأحاديث والآثار عن الصحابة والتابعين. (قوله: بشهوة) أي ولو من أحدهما كما سيأتي (قوله: بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب، وكذا لو جامعها بخرقة على ذكره، فما في الذخيرة من أن الإمام ظهير الدين أنه يفتى بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس، وإن كان على المقنعة محمول على ما إذا كانت رقيقة تصل الحرارة معها بحر.
درمختار مع ردالمحتار (4/113 میں ہے:
وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة.
(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها.وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم.
درمختار مع ردالمحتار (266/4) میں ہے :
(و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه.
(قوله فلا ينافي وجوبه) قال في النهر: وقول الزيلعي ولكل منهما فسخه بغير محضر من صاحبه لا يريد به عدم الوجوب، إذ لا شك في أنه خروج من المعصية والخروج منها واجب بل إفادة أنه أمر ثابت له وحده. اهـ. ح وضمير ينافي لتعبير المصنف باللام في قوله ولكل، وضمير وحده لكل أي يثبت لكل منهما وحده.
فتاوی عالمگیری (328/5) میں ہے:
ويجوز له أن يسافر بها ويخلو بها يعني بمحارمه إذا أمن على نفسه، فإن علم أنه يشتهيها أو تشتهيه إن سافر بها أو خلا بها أو كان أكبر رأيه ذلك أو شك فلا يباح له ذلك.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved