- فتوی نمبر: 32-207
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
ميرا ایک سوال ہے کہ “حضرت علی ؓ نے ایک ہاتھ سے خیبر اکھاڑ دیا” اس کا مطلب کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت علی ؓ کے ایک ہاتھ سے خیبر اکھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے ایک ہاتھ سے خیبر کے قلعے کا دروازہ اکھاڑ دیا جس کی تفصیل یہ ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت علی ؓ پر ایک یہودی کے حملہ کرنے سے حضرت علی ؓ کی ڈھال گر گئی تو حضرت علی ؓ نے خیبر کے قلعے کے ایک دروازے کو پکڑا اور اسے اپنی ڈھال بنا لیا اور یہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ بعد میں 8 آدمی اور بعض روایات کے مطابق 40 آدمی اور بعض کے مطابق 70 آدمی اس کو نہ اٹھا سکے۔
نوٹ:جن روایات میں اس واقعہ کا ذکر ہے ان میں سے بعض روایات کا بعض اہل علم نے ترجمہ قلعے کا دروازہ اکھاڑنے کا کیا ہے جبکہ ہماری معلومات کے مطابق واقعہ سے متعلق روایات میں کوئی ایسا صریح اور واضح لفظ نہیں جس کا ترجمہ “اکھاڑنے ” کا بنتا ہے بلکہ زیادہ واضح ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ایک ایسے دروازے کو اٹھایا جو قلعے کے پاس تھا۔تاہم ترجمہ جو بھی ہو اس سے اصل مقصود یعنی حضرت علی ؓ کی بہادری اور کرامت کے ثبوت پر اثر نہیں پڑتا۔
مسند احمد (ج:13، ص:274، رقم الحدیث:23748)میں ہے:
عن أبي رافع، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” خرجنا مع علي حين بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم برايته، فلما دنا من الحصن خرج إليه أهله فقاتلهم، فضربه رجل من يهود، فطرح ترسه من يده، فتناول علي بابا كان عند الحصن، فترس به نفسه، فلم يزل في يده وهو يقاتل، حتى فتح الله عليه، ثم ألقاه من يده حين فرغ، فلقد رأيتني في نفر معي سبعة أنا ثامنهم نجهد على أن نقلب ذلك الباب، فما نقلبه “
البدایہ والنہایہ لابن کثیر،ت:۷۷۴ھ (4/154) میں ہے:
وقال يونس، عن ابن إسحاق، عن بعض أهله، عن أبي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: خرجنا مع علي حين بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم برايته، فلما دنا من الحصن خرج إليه أهله، فقاتلهم، فضربه رجل منهم من يهود، فطرح ترسه من يده، فتناول علي باب الحصن، فترس به عن نفسه، فلم يزل في يده وهو يقاتل حتى فتح الله عليه، ثم ألقاه من يده، فلقد رأيتني في نفر معي – سبعة أنا ثامنهم – نجهد على أن نقلب ذلك الباب، فما استطعنا أن نقلبه. وفي هذا الخبر جهالة وانقطاع ظاهر.
ولكن روى الحافظ البيهقي، والحاكم من طريق مطلب بن زياد، عن ليث بن أبي سليم، عن أبي جعفر الباقر، عن جابر، أن عليا حمل الباب يوم خيبر حتى صعد المسلمون عليه فافتتحوها وأنه جرب بعد ذلك، فلم يحمله أربعون رجلا. وفيه ضعف أيضا. وفي رواية ضعيفة، عن جابر: ثم اجتمع عليه سبعون رجلا، وكان جهدهم أن أعادوا الباب۔
دلائل النبوۃ للبیہقی،ت:۴۵۸ھ (4/212) میں ہے:
وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ، قال: حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، قال: حدثنا الهيثم بن خلف الدوري، قال: حدثنا إسماعيل بن موسى السدي قال حدثنا مطلب بن زياد عن ليث بن أبي سليم عن أبي جعفر وهو محمد بن علي قال دخلت عليه فقال حدثنا جابر بن عبد الله أن عليا حمل الباب يوم خيبر حتى صعد المسلمون عليه فافتتحوها وأنه حرب بعد ذلك فلم يحمله أربعون رجلا.
موافقۃ الخبرلابن حجرالعسقلانی (1/193،مکتبہ شاملہ)میں ہے:
وبالسند الماضى إلى عبد اللَّه بن أحمد ثنا أبي ثنا يعقوب هو ابن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن محمد بن إسحاق حدثني عبد اللَّه بن الحسن عن بعض أهله عن أبي رافع رضي اللَّه عنه مولى رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: خرجنا مع علي بن أبي طالب رضي اللَّه عنه حين بعثه رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- برايته -يعني يوم خبير- فلما دنا من الحصن خرجوا إليه فقاتلهم، فضرب رجل من يهود خيبر عليا ضربة فألقى ترسه من يده، فتناول علي بابا كان عند الحصن فترس به، فلم يزل في يده وهو يقاتل، حتى فتح اللَّه عليه فألقاه، فلقد رأيتني في سبعة سواي نَجْتهدُ على أن نقلب ذلك الباب فلا نقلبه .
هذا حديث حسن، أخرجه الإِمام أحمد هكذا والحاكم في الإِكليل والبيهقي في الدلائل من طريق يونس بن بكير عن ابن إسحاق ، وسقط من رواية البيهقي من إسناده عبد اللَّه بن الحسن ولابد منه، والبعض المبهم لم أقف على اسمه، لكن السياق يقتضي أنه تابعي من أهل البيت، فالذي يظهر أنه صدوق۔
حیاۃ الصحابہ (1/586) میں ہے:
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علیؓ کے ساتھ خیبر کے لیئے روانہ ہوئے۔ حضور نے ان کو اپنا جھنڈا دے کر بھیجا تھا۔ جب حضرت علی قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ والے لڑنے کے لیئے قلعہ سے نکل کر باہر آگئے۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے ان سے جنگ شروع کر دی۔ ان یہودیوں میں سے ایک آدمی نے حضرت علی پر تلوار کا زور دار حملہ کیا جس سے حضرت علی کے ہاتھ سے ڈھال نیچے گر گئی۔ حضرت علی نے فورا قلعہ کا دروازہ اکھیڑ کر اسے اپنی ڈھال بنا لیا۔ اور دروازے کو ہاتھ میں پکڑ کر حضرت علی لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح نصیب فرمائی پھر انہوں نے اس دروازے کو زمین پر ڈال دیا۔ پھر میں نے سات اور آدمیوں کو لے کر کوشش کی کہ اس دروازے کو پلٹ دیں لیکن ہم آٹھ آدمی اسے پلٹ نہ سکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved