- فتوی نمبر: 32-215
- تاریخ: 06 مئی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ قُلْتُ قَدْ کَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ فَقَالَتْ الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ وَأَخْشَی أَنْ يَکُونَ فِي احْتِبَاسِکَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّی ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ مَنْ کَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَکَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَهَلَّا أَجَبْتَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْکَ مَنْ قَاتَلَکَ وَأَبَاکَ عَلَی الْإِسْلَامِ فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ کَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِکُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِکَ فَذَکَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ قَالَ حَبِيبٌ حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ قَالَ مَحْمُودٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَنَوْسَاتُهَا [رقم الحديث:4108، صحيح بخاري]
ترجمہ: مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں معمر بن راشد نے ، انہیں زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر ؓنے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ، ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے حضرت ابن عمر ؓنے بیان کیا کہ میں حضرت حفصہؓ کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی۔ حضرت حفصہ ؓنے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ، لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر حضرت حفصہؓ کے اصرار پر حضرت عبداللہ ؓ گئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو حضرت معاویہ ؓنے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔ یقیناً ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ۔ حضرت حبیب بن مسلمہ ؓنے ابن حضرت عمرؓسے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓنے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی (جواب دینے کو تیار ہوا) اور ارادہ کرچکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہوجائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آگئیں جو اللہ تعالیٰ نے (صبر کرنے والوں کے لیے) جنت میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ، آفت میں نہیں پڑے۔ محمود نے عبدالرزاق سے (نسواتها. کے بجائے لفظ) ونوساتها. بیان کیا (جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حدیث مبارکہ میں بظاہر حضرت امیر معاویہ ؓنے اپنے آپ کو خلافت میں حضرت عمر سے زیادہ حقدار کہا ہے ۔علمائے اہلسنت اسکی کیا توجیہ کرتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ روایت میں اولاً تو اس بات کی صراحت نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے خلافت میں زیادہ حقدار کہا ہو بلکہ عمومی الفاظ استعمال کیے اورثانیاً یہ بھی ممکن ہے کہ “من ابيه” کے الفاظ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوں جیسا کہ حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ( جو کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے حکم مقرر کیے گئے تھے ان)کے اپنے خطبے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وهو احق الناس کہنے سے معلوم ہوتا ہے۔
اور ثالثاً یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد حضرت عبداللہ بن عمر ہوں اور “من ابيه” کالفظ بات میں زور پیدا کرنے کے لیے بول دیا ہو جیسا کہ ایک موقع پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو بات میں زور پیدا کرنے کے لیے کہہ دیا تھا کہ “انا افقه منك ومن ابيك” ترجمہ”میں تم سے (یعنی عبداللہ بن زبیر سے) اور تمہارے والد( حضرت زبیر ؓ)سے زیادہ فقیہ ہوں حا لانکہ مقصود یہ تھا کہ میں تم سے(یعنی عبداللہ بن زبیرؓ) سے زیادہ فقیہ ہو ں ۔
نوٹ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کااپنے آپ کو حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے یا دیگر حضرات سے خلافت میں زیادہ حقدار کہنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے میں خلافت کا زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو امور سلطنت میں زیادہ مہارت رکھتا ہو خواہ اس نے اسلام لانے میں سبقت نہ کی ہو لہٰذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت امیر معاویہؓ اپنے آپ کو ان حضرات سے افضل سمجھتے تھے۔
فتح الباری لابن حجر (7/ 404)میں ہے :
ويدخل في هذه المقاتلة علي وجميع من شهدها من المهاجرين ومنهم عبد الله بن عمر ومن هنا تظهر مناسبة إدخال هذه القصة في غزوة الخندق لأن أبا سفيان والد معاوية كان رأس الأحزاب يومئذ ووقع في رواية حبيب بن أبي ثابت أيضا قال بن عمر فما حدثت نفسي بالدنيا قبل يومئذ أردت أن أقول له يطمع فيه من قاتلك وأباك على الإسلام حتى أدخلكما فيه فذكرت الجنة فأعرضت عنه .
فتح الباري لابن حجر (7/ 404)میں ہے:
قيل أراد عليا وعرض بالحسن والحسين
لامع الدراری (3/140)میں ہے
وجاء عمروفقام مقامه فحمدالله واثني علیه ثم قال ان هذا قد قال ماسمعتم وانه قد خلع صاحبه وانی قد خلعته کما خلعه واثبت صاحبي معاوية فانه ولي عثمان والمطالب بدمه وهو احق الناس
فتح الباری لابن حجر(7/ 404) میں ہے:
وقيل أراد عمر وعرض بابنه عبد الله وفيه بعد لأن معاوية كان يبالغ في تعظيم عمر
أنساب الأشراف للبلاذری ت:679ھ (4/ 39) میں ہے:
«حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا الحجاج بن محمد، حدثني ابن جريج قال: قال لي ابن أبي مليكة جاء ابن الزبير مال أول ما جاءه، فانطلق ابن عباس إليه وهو في قعيقعان فقال: إنك قد دعوت الناس إلى ما قد علمت، وقد جاءك مال وبالناس حاجة، فقال ابن الزبير: وما أنت وهذا إنك عم ، أعمى الله قلبك، قال ابن عباس: بل أعمى الله قلبك، قال ابن الزبير: والله ما أنت بفقيه، فقال ابن عباس: والله لأنا أفقه منك ومن أبيك»
فتح الباری لابن حجر (7/ 404)میں ہے :
وكان رأي معاوية في الخلافة تقديم الفاضل في القوة والرأي والمعرفة على الفاضل في السبق إلى الإسلام والدين والعبادة فلهذا أطلق أنه أحق ورأي بن عمر بخلاف ذلك وأنه لا يبايع المفضول إلا إذا خشي الفتنة ولهذا بايع بعد ذلك معاوية ثم ابنه يزيد ونهى بنيه عن نقض بيعته كما سيأتي في الفتن وبايع بعد ذلك لعبد الملك بن مروان.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved