- فتوی نمبر: 37-44
- تاریخ: 12 اکتوبر 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > سیر و مناقب اور تاریخ
استفتاء
میرا ایک سوال ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام اللہ نے آزر بتایا ہے جبکہ اکثر لوگ ان کو چچا کہتے ہیں اور تارخ کو والد کہتے ہیں جو کہ توریت سے لیا ہے۔ اللہ نے جب واضح کر دیا تب کیوں آزر کو ان کا چچا کہا جاتا ہے،اس کی راہنمائی چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآن پاک میں “آزر” کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا والد نہیں کہا گیا بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا”اب” کہا گیا ہے اور “اب” کا لفظ خود قرآن میں “چچا پر بھی بولا گیا ہے جیسا کہ آیت”قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاق” میں اسماعیل علیہ السلام کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے آباء (جوکہ “اب” کی جمع ہے) میں شمار کیا گیا ہے حالانکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا ہیں اس لیے یقین سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن میں “اب” سے مراد والد ہی ہو ۔ اور چونکہ مؤرخین اور علماء انساب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام “تارخ ” بتلایا ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا ہو اور والد “تارخ” ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ والد کا نام ” تارخ” ہی ہو اور “آزر ” ان کا لقب ہو۔
تفسیر ابن کثیر (3/288) میں ہے:
{وإذ قال إبراهيم لأبيه آزر } ……. قال الضحاك، عن ابن عباس: إن أبا إبراهيم لم يكن اسمه آزر، إنما كان اسمه تارح. رواه ابن أبي حاتم.
وقال أيضا: حدثنا أحمد بن عمرو بن أبي عاصم النبيل، حدثنا أبي، حدثنا أبو عاصم شبيب، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس في قوله: {وإذ قال إبراهيم لأبيه آزر} يعني بآزر: الصنم، وأبو إبراهيم اسمه تارح، وأمه اسمها مثاني
وهكذا قال غير واحد من علماء النسب: إن اسمه تارح
تفسیر المظہری (3/256) میں ہے:
{وإذ قال إبراهيم لأبيه آزر } وكان آزر على الصحيح عما لابراهيم والعرب يطلقون الأب على العم كما فى قوله تعالى نعبد إلهك واله ابائك ابراهيم واسمعيل وإسحاق الها واحدا وكان اسمه ناخور…….. وكان ناخور على دين آبائه الكرام كما ذكرنا فى سورة البقرة ثم لما صار وزير النمرود اختار الكفر للحرص فى الدنيا وترك دين آبائه
شرح الزرقانی علی مواہب اللدنیہ (1/330) میں ہے:
أن العرب تسمي العم أبا وبلغتهم جاء القرآن، فقال: “وأما قوله: إنه كان عمه” وفيه: أنه لم يقله بل نقله وهو إمام ثبت حجة في النقل، ثم قال وجد عن السلف، “فعدول عن الظاهر من غير دليل” بل دليله كالشمس، فقد صرح الشهاب الهيثمي بأن أهل الكتابين والتاريخ أجمعوا على أنه لم يكن أباه حقيقة، وإنما كان عمه والعرب تسمي العم أبا؛ كما جزم به الفخر بل في القرآن ذلك. قال تعالى: {وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ} [البقرة: 133] ، مع أنه عم يعقوب، بل لو لم يجمعوا على ذلك وجب تأويله بهذا جمعًا بين الأحاديث. قال: وأما من أخذ بظاهره كالبيضاوي وغيره فقد استروح وتساهل، انتهى.
وقال في الدرج المنيفة: الأرجح أن آزر عم إبراهيم؛ كما قال الرازي لا أبوه، وقد سبقه إلى ذلك جماعة من السلف، فروينا بالأسانيد عن ابن عباس ومجاهد وابن جريج والسدي، قالوا: ليس آزر أبا إبراهيم إنما هو إبراهيم بن تارخ ووقفت على أثر في تاريخ ابن المنذر صرح فيه بأنه عمه
معارف القرآن (3/379) میں ہے :
مشہور یہ ہے کہ” آزر ” حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام ہے اور اکثر مؤرخین نے ان کا نام “تارخ ” بتلایا ہے اور یہ کہ “آزر ” ان کا لقب ہے۔ امام رازی اور علماء سلف میں سے ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام “تارخ “اور چچا کا نام “آزر ” ہے ان کا چچا “آزر ” نمرود کی وزارت کے بعد شرک میں مبتلا ہو گیا تھا اور چچا کو باپ کہنا عربی محاورات میں عام ہے اس محاورے کے تحت آیات میں “آزر ” کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ فرمایا گیا ہے۔ زرقانی نے “شرح مواہب ” میں اس کے کئی شواہد بھی نقل کیے ہیں۔
تفسیر عثمانی (1/629) میں ہے:
علمائے انساب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام “تارخ ” لکھا ہے۔ ممکن ہے تارخ نام اور آزر لقب ہو۔ ابن کثیر نے مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ آزر بت کا نام تھا۔ شاید اس بت کی خدمت میں زیادہ رہنے سے خود اس کا لقب آزر پڑ گیا ہو۔
فتاویٰ مفتی محمود ( 11/225) میں ہے :
سوال: ایک شخص کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر نہیں بلکہ طارق ہے، اس بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں؟
جواب:آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ہیں اور بعض کا قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ اور آزر آپ کے والد کا لقب ہے تارخ نام۔ وآزر ابو ابراهيم، وقیل اسمه تارخ وآزر لقبه.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved