• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حیلہ اسقاط کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ(1) ہمارے ہاں اسقاط اس طرح ہوتے ہیں  کہ مردے کی پوری زندگی  کی نمازوں اور روزوں کا حساب لگا کر جتنے پیسے بنتے ہیں تو تدفین میں جتنے لوگ حاضر ہوتے ہیں ان میں جن کے والد زندہ ہوتے ہیں ان  کو دو یا تین سو روپے دیتے ہیں اب یہ جائز ہے یا نہیں ؟(2)اگر جائز نہیں ہے تو پھر قرآن وحدیث اور فقہ حنفی میں اس کی شرعی حیثیت اور طریقہ کار کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)اسقاط کا مذکورہ طریقہ درست نہیں ہے کیونکہ اولاً توورثاء میں نابالغ بھی ہوتے ہیں اور نابالغ کی اجازت کا اعتبار نہیں، دوسرے بالغ بھی رواج کی وجہ سے شرما شرمی میں اجازت دیتے ہیں،دل کی رضامندی سے اجازت نہیں دیتے اور جن لوگوں کو وہ پیسے دیئے جاتے ہیں ان کا مستحق ہونا یقینی نہیں ۔

(2) اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جتنی نمازیں اور روزے میت کے ذمہ ہیں ان کی مقدار کے موافق   فدیہ کی رقم کا حساب کیا جائے  مثلاً میت کی نمازوں اور روزوں کے فدیہ کی رقم  پچاس ہزار روپے بنی اب اگر یہ پچاس ہزار روپے  میت کے ترکہ کے ثلث(ایک تہائی) مال سے پورے  ہو جائیں  تو پورے پچاس ہزار روپے فقیروں(مستحق زکوٰۃ لوگوں) میں تقسیم کر دیئے جائیں اور اگر میت کا ثلث مال پچاس ہزار سے کم ہو تو پھر جتنی رقم میت کے ثلث مال  سے نکل سکتی ہو وہ فقیر کو فدیہ   میں دےدی جائے پھر اگر فدیہ کی باقی رقم ادا کرنے کا کوئی اور انتظام نہ ہوسکتا ہو تو اس فقیر سے کہا جائے کہ اگر تم چاہو تو یہ رقم ہمیں ہدیہ کردو پھر جب وہ اپنی خوشی سے یہ رقم ہدیہ کردے تو وہ رقم اس کو فدیہ میں دے دی جائے یہ عمل اسی طرح دوہراتے رہیں یہاں تک کہ مکمل فدیہ ادا ہو جائے۔

نوٹ:یہ صورت بھی محض ایک حیلہ ہے جسے صرف بامر مجبوری اختیار کیا جائے اسے مستقل معمول نہ بنایا جائے۔

رسائل ابن عابدین(1/225) میں ہے:

ويجب الاحتراز من أن يديرها أجنبي إلا بوكالة كما ذكرنا وأن يكون الوصي أو الوارث كما علمت ويجب الاحتراز من أن يلاحظ الوصي عند دفع الصرة للفقير الهزل أو الحيلة بل يجب أن يدفعها عازما على تمليكها منه حقيقة لا تحيلا ملاحظا أن الفقير إذا أبى عن هبتها إلى الوصي كان له ذلك ولا يجبر على الهبة.

فتاویٰ ہندیہ (422/10) میں ہے:

إذا أراد أن يؤدي الفدية عن صوم أبيه أو صلاته وهو فقير فإنه يعطي منوين من الحنطة فقيرا ثم يستوهبه ثم يعطيه هكذا إلى أن يتم كذا في الفتاوى السراجية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved