• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ہجرت کے بعد حکومت پاکستان کی مہاجرین کو دی گئی زمین میں وراثت کا حکم

استفتاء

آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایک خاتون عائشہ کا زید کے ساتھ نکاح ہوا جس سے اس کی دو بیٹیاں پیدا ہوئیں کلثوم اور فاطمہ، پھر عائشہ کا شوہر ( زید ) فوت ہو گیا اس نے اپنا دوسرا نکاح خالد سے کر لیا ، خالد کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں تھیں خدیجہ اور حفصہ، اور دوسری بیوی ( عائشہ ) سے کوئی اولاد نہ ہوئی اور کچھ عرصہ میں خالد کا انتقال ہوگیا ۔

یہ متحدہ ہندوستان کی بات ہے وہاں کے قانون کے مطابق بیٹیوں کو جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ملا ساری جائیداد  انگریز حکومت  کی طرف سے بیوی ( عائشہ ) کے نام کر دی گئی پھر پاکستان ہندوستان کی تقسیم ہوگئی ، اور عائشہ اپنی دونوں سگی بیٹیوں ( کلثوم ، فاطمہ ) سمیت پاکستان آگئی اسی طرح دوسرے شوہر ( خالد ) کی ایک بیٹی حفصہ بھی پاکستان آگئی۔ حکومت پاکستان نے جن لوگوں کے نام ہندوستان میں زمینیں تھیں ان کو یہاں پاکستان میں زمینیں نام کر دیں ۔ چونکہ ہندوستان میں صرف عائشہ کے نام زمین لگی تھی اس لیے پاکستان میں ساری زمین اسے ہی ملی۔

اب خالد کی بیٹی (حفصہ ) کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ہندوستان والی زمین ہمارے والد کی تھی اس لئے اس میں ہمارا حصہ ہے بلکہ اکثر حصہ ہمارا ہے، اب جھگڑا دوسری تیسری نسل میں منتقل ہو گیا ہے۔

آپ شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمائیں کہ (1) کیا خالد کی بیٹی کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟(2) کیا حکومت پاکستان کی طرف سے عطیہ کی گئی زمین میں وراثت جاری ہوگی ؟(3)جو بیٹی ہندوستان میں رہ گئی تھی کیا پاکستان والی جائیداد میں  بطور وارث اس کا بھی حصہ ہے ؟(4) اگر اس کا حصہ بنتا ہے تو  کیااس تک پہنچانا ضروری ہے یا عدم رابطہ کی وجہ سے اس کی طرف سے صدقہ کردینا کافی ہوگا   ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔خالد کی بیٹی کا مطالبہ درست ہے ۔

2۔ وراثت جاری ہوگی ۔

3۔ہندوستان میں رہ جانے والی حفصہ کا   بھی پاکستان کی اس جائیداد میں حصہ ہے ۔

4۔اس تک اور اگر وه  فوت ہوگئی ہو تو اس کے ورثاء تک اس کا  حصہ پہنچانا ضروری ہے البتہ اگر پوری کوشش کے باوجود اس کا یا اس کے ورثاء کا   اتا پتا نہ مل سکے تو اس کا حصہ اس کی طرف سے صدقہ کردیا جائے ۔

توجیہ : ہندوستان کی زمین میں خالد کے تمام ورثاء کا حق تھا۔ اور خالد کے ورثاء میں  منجملہ دیگر ورثاء  کے ان کی دو بیٹیاں (خدیجہ اور حفصہ )بھی تھیں  ۔ نیز حکومت پاکستان کی طرف سے جو زمین عائشہ کو دی گئی تھی وہ بھی ہندوستان کی  اسی خالد کی زمین کی بنیاد پر ہی  دی گئی تھی    لہٰذا پاکستان کی زمین میں بھی خالد کے تمام ورثاء کا حصہ ہے اس لیے جب تک کسی یقینی ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہوجاتا کہ ان (خدیجہ اور حفصہ )کا حصہ اپنے والد کی جائیداد میں سے بیع ، ہبہ اور  استیلاء کفار وغیرہ کے ذریعہ ختم ہوگیا تھا اس وقت تک ان کا اپنے والد کی جائیداد میں سے حصہ ختم نہ ہوگا لان الیقین لا یزول بالشک اور مذکورہ صورت میں کسی یقینی ذریعہ سے ان کا اپنے والد کی جائیداد میں سے حصہ ختم ہونا ثابت نہیں  لہٰذا  یہ اپنے والد کی جائیداد میں اپنے شرعی حصوں کے بقدر وارث ہوں گی ۔

فتاوی شامی  (4/ 61) میں ہے :

«لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير ‌سبب ‌شرعي.»

الاشباه وانظائر  (ص47)میں ہے :

«‌‌القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك»

الاشباہ والنظائر (ص188) میں ہے :

الحق لايسقط بتقادم الزمان قذفا او قصاصا او لعانا او حقا للعبد كذا في لعان الجوهرة

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ (2/ 51) میں ہے :

«‌الإرث ‌جبري لا يسقط بالإسقاط»

کفایت المفتی(249/8)میں ہے :

سوال :   ایک  مسلمان بے وارث کا کچھ مال اور نقد رہ گیا ہے صاحب موصوف انتقال کرگئے ہیں  اب کچھ  نقد اور کچھ سامان چھوڑ گئے ہیں مرتے وقت کچھ نصیحت وغیرہ نہیں کی یہاں کے مسلمانوں میں تفرقہ پڑا ہوا ہے کچھ کہتے ہیں کہ مرحوم جو روپیہ نقد  اور سامان چھوڑ گئے ہیں یہ سب مسجد کے کاروبار پر خرچ کیا جاوے اور بعض کہتے ہیں کہ مرحوم نے وقف تو نہیں کیا مسجد کے لئے مسجد پر خرچ  کرنا جائز نہیں ؟

جواب :   مرحوم  کا کوئی قریب یا  بعید  کا وارث موجود ہو تو مرحوم کا مال اس کا حق ہے۔ اگر وہ کہیں باہر کے تھے تو ان کے وطن سے تحقیق کی جائے اور تکمیل تحقیق  تک مال امانت رکھا جائے ۔اس کے بعد بیت المال میں دیدیا جائے لیکن چونکہ  اب بیت المال نہیں ہے تو میت کی طرف سے کسی بھی کارخیر میں خرچ کردیا جائے ۔

فتاوی محمودیہ (20/238)میں ہے :

جواب: محض نہ لینے سے وارث کی ملک مال مورث سے زائل نہیں ہوتی لہٰذا اگر ہندہ وغیرہ نے باب اللہ کو اپنا حصہ ہبہ کرکے باقاعدہ قبضہ کرادیا تھا تب تو ہندہ کے ورثہ کو باب اللہ کے ورثہ سے اس کے لینے کا حق حاصل نہیں۔ اور  اگر باقاعدہ ہبہ نہیں کیا تو پھر حق حاصل ہے۔ جس کی مقدار خواجہ کے انتقال سے اس وقت تک نام بنام موتیٰ کی ترتیب اور ورثہ کی تفصیل معلوم ہونے پر تحریر کی جاسکتی ہے۔ لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقه اذ الملک لا یبطل بالترک

اسلام کا نظام اراضی از مفتی محمد شفیع صاحب (ص 142) میں ہے:

لیکن جب حکومت نے اس عطاء مستقل کا معیار مترو کہ جائیدادوں کو قرار دیا اور قانون یہ بنا دیا کہ جس شخص کی جتنی جائیداد ہندوستان میں چھوڑ نا ثابت ہو اس کو اسی تناسب سے یہاں جائیداد دی جائے گی تو اب ہر شخص کے لیے یہاں کی مترو کہ جائیداد اس قدر حلال اور جائز ہوگی جو مذکورہ معیار کے مطابق حاصل کی گئی ہو………. الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved