- فتوی نمبر: 35-52
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
1۔امام مسجد کے لیے جو تنخواہ مقرر ہوتی ہے وہ کس مد سے دی جائے گی؟ آیا وہ مسجد کے لیے جو پیسے ہیں ان میں سے دی جائے گی یا الگ سے جمع کرنا ہوگی اور اگر الگ جمع کی گئی تنخواہ متعین کردہ تنخواہ سے بڑھ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ مثلا 25 ہزار تنخواہ مقرر ہے اور جمع کرنے پر 30 ہزار ہو جاتی ہے تو زائد پانچ ہزار کا کیا حکم ہے؟
2- مسجد میں ایک باقاعدہ مدرسہ کے نام سے درسگاہ ہے اس کے لیے استاد بھی الگ ہے اور مستقبل میں مدرسہ بھی الگ جگہ بنایا جائے گا تو یہ جو درسگاہ ہے مدرسہ کے طور پر اس کے استاد کی تنخواہ کس مد سے دی جائے گی آیا اس کے لیے الگ مدرسے کا خانہ بنایا جائے جس میں مدرسے کے پیسے جمع ہوں یا مسجد کے پیسوں میں سے دی جائے یا اس کے لیے الگ تنخواہ جمع کی جائے جیسے امام مسجد کی الگ جمع کی جاتی ہے۔
نوٹ: امام مسجد کی ناظرہ قرآن کی درسگاہ مسجد سے دور جگہ پر لگتی ہے اس کا مدرسے سے کوئی تعلق نہیں۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ 2۔ مسجد میں مدرسہ کی درسگاہ کی انتطامیہ اور مسجد کی انتظامیہ ایک ہی ہے یا الگ الگ ہے؟
جواب وضاحت: 1۔ سائل مسجد کی انتظامیہ میں ہے۔2۔ جی فی الحال ایک ہی ہے مسجد کی انتظامیہ بھی اور درسگاہ کی بھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1-مسجد کے امام کو مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دینا جائز ہے البتہ اگر اس کے لیے الگ سے پیسے جمع کیے جائیں اور وہ پیسے متعینہ تنخواہ سے بڑھ جائیں تو اس اضافی رقم کو اگلی ماہ کی تنخواہ میں شامل کر دیا جائے ۔
2- مذکورہ صورت میں مسجد میں مدرسہ کے نام سے درسگاہ چونکہ مسجد کے تابع ہے اس لیے اس کے مدرس کو مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دینا جائز ہے۔
توجیہ: مسجد کے امام کی تنخواہ اور مسجد میں مسجد کے تابع مدرسے کے نام سے درسگاہ کے مدرس کی تنخواہ چونکہ مصالح مسجد میں داخل ہے اس لیے مسجد کے فنڈ سے امام مسجد اور مدرس کو تنخواہ دینا جائز ہے۔
درمختار (4/366) میں ہے:
(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح
وقوله إلى آخر المصالح: أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع
البحر الرائق (5/234) میں ہے:
أما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلفت الجهة بأن بنى مدرسة ومسجدا وعين لكل وقفا وفضل من غلة أحدهما لا يبدل شرط الواقف
خیر الفتاویٰ (6/487) میں ہے:
سوال: مدرسہ اگر مسجد کے تابع ہو تو مسجد کی اشیاء اور فنڈ مدرسہ میں استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں؟اور اگر مسجد مدرسہ کے تابع ہو تو مدرسہ کی اشیاء اور فنڈ مسجد میں استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: اگر مسجد و مدرسہ کا حساب کتاب الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تابع ہیں اور چندہ بھی مشترکہ ہوتا ہے تو ایک فنڈ دوسرے پر خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved