- فتوی نمبر: 26-241
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارۃ الاعیان
استفتاء
ہمارے علاقے میں مختلف جگہوں پر حکومت کی طرف سے سائن بورڈز لگے ہوئے ہیں جن پر اشتہارات چلتے ہیں۔میراکام یہ ہے کہ میں انتظامیہ سے کچھ عرصے کے لیے ان سائن بورڈز کا ٹھیکہ لیتا ہوں پھر مختلف کمپنیوں سے ڈیل کرکے ان کے اشتہارات ان بورڈز پر لگواتا ہوں اور اس کے عوض ان کمپنیوں سے کرایہ وصول کرتا ہوں ۔اشتہارات ہر قسم کے ہوتے ہیں،یعنی ان میں جاندار کی تصاویر بھی ہوتی ہیں ۔کیا میرا یہ کام کرنا جائز ہے ؟
وضاحت مطلوب ہے:
کیا آپ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ اشتہار کیسا ہو گا ؟
جواب وضاحت :
جی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اشتہار کن چیزوں پر مشتمل ہو گا ۔ اس میں ہم مختلف سروسز دیتے ہیں۔
1)بعض اوقات کمپنی والے ہمیں صرف آوٹ لائن دیتے ہیں کہ ہم نے اس طرح کا اشتہاربنوانا ہے ،اس کے بعد ہم خود ہی اشتہار بنواتے ہیں اور خودہی اس کو لگاتے ہیں ۔
2)جبکہ بعض اوقات ہم صرف اشتہار لگاتے ہیں ۔
3) اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم صرف جگہ فراہم کرتے ہیں اور اشتہار بنانا ،لگانا کمپنی کا اپنا کام ہوتا ہے البتہ ہمیں علم ضرور ہوتا ہے کہ اشتہار کا مواد کیا ہو گا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جن اشتہارات پر جاندار کی تصاویر نہ ہوں ان کا بنوانا ،لگانا اور لگانے کے لیے جگہ فراہم کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ اشتہار کسی خلاف شرع چیز کا نہ ہو ۔
اور جو اشتہارات جاندار کی تصاویر پر مشتمل ہوں اور آپ کو علم بھی ہو کہ اشتہار ناجائز تصویر پر مشتمل ہو گا تو ان کا بنوانا آپ کے لیے جائز نہیں ہے ۔اور اسی طرح ان کا لگانا اور ان کے لگانے کے لیے جگہ فراہم کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔
الاصل للشیبانی قطر (4/ 16) میں ہے:
وإذا استأجر الرجل الذمي من المسلم بيتاً ليبيع فيه الخمر فإن هذا باطل لا يجوز. وليس في شيء من (1) هذا أجر قليل ولا كثير في قول أبي يوسف ومحمد.
المحیط البرهانی فی الفقہ النعمانی (16/ 65)
وإذا استأجر الذميّ من المسلم داراً ليسكنها فلا بأس بذلك؛ لأن الإجارة وقعت على أمر مباح فجازت وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير، لم يلحق المسلم في ذلك شيء لأن المسلم لم يؤاجر لها إنما يؤاجر للسكنى،……………………………….. قال شيخ الإسلام رحمه الله: وأراد بهذا إذا استأجرها الذمي ليسكنها، ثم أراد بعد ذلك أن يتخذ كنيسة أو بيعة فيها، فأما إذا استأجرها في الابتداء ليتخذها بيعة أو كنيسة لا يجوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved