• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جاندار کی تصاویر بنی کتابوں کی خرید وفروخت کا حکم

استفتاء

ایسی کتابیں فروخت کرنے کا کیا حکم ہے جن پر جاندار کی تصاویر بنی ہوں؟ نیز وہ درسی نصابی کتب ہوں تو کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جو کتاب صرف جانداروں کی تصاویر پر مشتمل ہو اس کو فروخت  کرنا جائز نہیں اور جو کتاب اصلاً  درسی مواد پر مشتمل ہو اور بیچ میں کہیں کہیں تصویر آجائے تو اس صورت میں چونکہ تصویریں تابع ہوتی  ہیں   اس ليے گنجائش ہے۔

توجیہ:جو کتاب صرف جاندار کی تصاویر  پر مشتمل ہو اس میں  چونکہ تصاویر اصل مقصود ہوتی ہیں  کہ تصویر کے بغیر ان کو خریدا  نہیں جاتا   لہذا ایسی کتابوں کو فروخت کرنا جائز نہیں البتہ اگر تصاویر تابع ہو ں کہ ان کے بغیر  بھی کتابوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے تو چونکہ اصل مقصود کتاب ہے  تصویر تابع ہے تو ایسی کتابوں کی خرید وفروخت جائز ہے لیکن ایسی کتابوں کا  چھاپنا جائز نہیں  کیونکہ اس میں تصویر سازی پائی جاتی ہے۔

شامی (2/360) میں ہے:

‌وظاهر ‌كلام ‌النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها

درر الحکام (1/56) میں ہے:

‌يغتفر ‌في ‌التوابع ما لا يغتفر في غيرها.

هذه القاعدة مأخوذة من كتاب الأشباه وقاعدة (يغتفر لشيء ضمنا ما لا يغتفر قصدا) قريبة من هذه القاعدة، وتترجم هذه القاعدة من التركية قد يجوز تبعا ما لا يجوز ابتداء.

فقہ البیوع (1/320) میں ہے:

أما إذا كان البيع شيئا آخر من المباحات وهو مشتمل على صور فتدخل فى البيع تبعا فيجوز بيعها وهذا مثل الجرائد والصحف والكتب التى يقصد منها مضمونها المباح  ولكنها ربما تشتمل على صور ممنوعة.

فتاویٰ محمودیہ (9/482) میں ہے:

سوال  جن رسالوں کے اندر تصویریں  ہوں جیسے ڈائجسٹ وغیرہ اور وہ دینی رسائل جن میں تصاویر ہوں، ایسے رسالوں کا خرید نا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلياً :جن رسالوں کو ذی روح کی تصویر کی وجہ سے خریدا جاتا ہے ان کا خریدنا جائز نہیں : “لأن الأمور بمقاصدها ” اگر مقصود مضامین صحیحہ کا پڑھنا ہے تو خرید نا درست ہے ، تصاویر تابع ہیں ان کو محو کر دیا جائے۔

کفایت المفتی (9/343) میں ہے:

جواب:ایسے مارکے جن پر تصاویر بنی ہوئی ہوتی ہیں سینکڑوں روز مرہ کی اشیاء پر موجود ہیں ہاتھی مارکہ کاغذ،دیاسلائی کی ڈبیاں اور کپڑے کے تھان،چینی کے برتن،اخبارات ورسائل اور ہزاروں چیزیں ہیں ان کی خریداری کا حکم یہ ہے کہ اگر تصویر کی خریداری مقصود نہ ہو اور تصویر کو اس چیز کی قیمت میں دخل نہ ہو یعنی  خود تصویر کی کوئی قیمت اسمیں شامل نہ ہو تو ایسی چیزوں کا خریدنا مباح ہے۔

جواہر الفقہ(7/263) میں ہے:

بیع و شراء میں اگر تصاویر خود مقصود نہ ہوں بلکہ دوسری چیزوں کے تابع ہو کر آجا ئیں جیسے اکثر کپڑوں میں مورتیں لگی ہوتی ہیں یا برتنوں اور دوسری مصنوعات جدیدہ میں اس کا رواج عام ہے، تو اس کی خرید و فروخت تبعاً جائز ہے، كما يستفاد من بلوغ القصد والمرام معزيا للهيثمي (بلوغ ص : (۱۸) ولما هو من القواعد المسلمة من فقه الاحناف ان كثيرا من الافعال لا يجوز قصدا ويجوز تبعا كما صرحوا في جواز بيع الحقوق تبعا للدار ولا اصالة وقصدا

لیکن جبکہ خود تصاویر ہی کی بیع و شراء مقصود ہو تو خریدنا اور فروخت کرنا دونوں نا جائز ہیں، اور اگر تصویر مٹی کی بنی ہوئی ہو تو شرعاً اُس کی کچھ قیمت کسی کے ذمہ واجب نہیں ہوتی ، البتہ اگر کسی دھات یا لکڑی وغیرہ کی ہو تو اتنی قیمت واجب ہوتی ہے جس قدر اس لکڑی یا دھات کی قیمت تصویر سے قطع نظر کر کے ہو سکتی ہے۔

مسائل بہشتی زیور (2/432) میں ہے:

بیع وشراء میں اگر تصاویر خود مقصود نہ ہو ں بلکہ دوسری چیزوں کے تابع ہو کر آجائیں جیسے اکثر کپڑوں میں تصویریں بنی ہوتی ہیں یا برتنوں اور دوسری مصنوعات جدیدہ میں اس کا رواج عام ہے تو اس کے خرید و فروخت تبعاً جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved