• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جنیہ کیساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے والے شخص کی امامت کا حکم

استفتاء

ایک مسجد کے امام صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک مادہ جن آتی ہے اور وہ اس کے ساتھ جسمانی تعلق (جماع) قائم کرتے ہیں۔اس سلسلے میں درج ذیل امور کے شرعی احکام مطلوب ہیں:

1۔کیا شرعی، عقلی اور واقعاتی اعتبار سے کسی انسان اور مادہ جن کے درمیان جسمانی تعلق (وطی یا جماع) کا قائم ہونا ممکن ہے؟

2۔اگر کوئی شخص، بالخصوص مسجد کا امام، اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ایسے شخص کو امام مقرر کرنا یا اس کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے؟ نیز اس کے دعوے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔شرعی عقلی اور واقعاتی اعتبار سے کسی انسان اور مادہ جن کے درمیان جسمانی تعلق (وطی /جماع ) کا قائم ہونا ممکن ہے۔

2۔اگر وہ شخص اس تعلق میں خود مختار نہ ہو بلکہ کوئی جنیہ اسے مغلوب کر کے اس کے ساتھ مذکورہ عمل کرے تو ایسا شخص فاسق نہ ہوگا اور اس کو امام مقرر کرنا جائز ہوگا ، اور اگر وہ شخص اس تعلق میں خود مختار ہو تو ایسا شخص فاسق ہے اور اس کو امام مقرر کرنا جائز نہیں اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔

شامی(3/ 5) میں ہے:

في الأشباه عن السراجية: لا تجوز المناكحة بين بني آدم والجن، وإنسان الماء؛ لاختلاف الجنس. اهـ. ومفاد المفاعلة أنه لا يجوز للجني أن يتزوج إنسية أيضا وهو مفاد التعليل أيضا. (قوله: وأجاز الحسن أي البصري رضي الله عنه) كما في البحر والأولى التقييد به لإخراج الحسن بن زياد تلميذ الإمام رضي الله عنه لأنه يتوهم من إطلاقه هنا أنه رواية في المذهب، وليس كذلك لكنه نقل بعده عن شرح المنتقى عن زواهر الجواهر الأصح أنه لا يصح نكاح آدمي جنية كعكسه لاختلاف الجنس فكانوا كبقية الحيوانات. اهـ.

شامی (1/ 161) میں ہے:

(قوله: وإذا لم يظهر لها إلخ) وهو بحث لصاحب البحر وسبقه إليه صاحب الحلية، لكنه تردد فيه فقال: أما إذا ظهر في صورة آدمي وكذا إذا ظهر للرجل جنية في صورة آدمية فوطئها وجب الغسل لوجود المجانسة الصورية المفيدة لكمال السببية، اللهم إلا أن يقال هذا إنما يتم لو لم توجد بينهما مباينة معنوية في الحقيقة، ومن ثم علل به بعضهم حرمة التناكح بينهما فينبغي أن لا يجب الغسل إلا بالإنزال كما في البهيمة والميتة، نعم لو لم يعلم ما في نفس الأمر إلا بعد الوطء وجب الغسل فيما يظهر لانتفاء ما يفيد قصور السببية۔

الأشباه والنظائر ، لابن نجیم (ص282) میں ہے:

«فمنها النكاح: قال في السراجية: لا تجوز المناكحة بين بني آدم والجن وإنسان الماء لاختلاف الجنس (انتهى) .

وتبعه في منية المفتي والفيض، وفي القنية: سئل الحسن البصري رضي الله عنه عن التزويج بجنية فقال: يجوز بلا شهود، ثم رقم آخر فقال: لا يجوز ثم رقم آخر: يصفع السائل لحماقته (انتهى) ………… وسئل عنها أبو حامد رحمه الله فقال لا يجوز (انتهى)

وقد استدل بعضهم على تحريم نكاح الجنيات بقوله تعالى في سورة النحل: {والله جعل لكم من أنفسكم أزواجا} أي من جنسكم ونوعكم وعلى خلقكم، كما قال الله

تعالى: {لقد جاءكم رسول من أنفسكم} أي من الآدميين (انتهى) .

وبعضهم استدل بما رواه حرب الكرماني في مسائله عن أحمد وإسحاق

قال: حدثنا محمد بن يحيى القطيعي: حدثنا بشر بن عمر بن لهيعة عن يونس بن يزيد عن الزهري قال: {نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن نكاح الجن} ، وهو وإن كان مرسلا فقد اعتضد بأقوال العلماء، فروي المنع عن الحسن البصري وقتادة والحاكم بن قتيبة وإسحاق بن راهويه وعقبة بن الأصم رضي الله عنهم.

فإذا تقرر المنع من نكاح الإنسي الجنية؛ فالمنع من نكاح الجني الإنسية من باب أولى، ويدل عليه قوله في السراجية: لا تجوز المناكحة، وهو شامل لهما۔

شامی (1/ 559) میں ہے:

(ويكره) تنزيها (إمامة عبد) ………… (وفاسق وأعمى)

(قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك،وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا قال: ولذا لم تجز الصلاة خلفه أصلا عند مالك ورواية عن أحمد، فلذا حاول الشارح في عبارة المصنف وحمل الاستثناء على غير الفاسق، والله أعلم۔

حاشیۃ الطحطاوی علی  مراقی الفلاح (ص302) میں ہے:

و” لذا كره إمامة “الفاسق” العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه إلى غير مسجده للجمعة وغيرها وإن لم يقم الجمعة إلا هو تصلى معه “والمبتدع” بارتكابه ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة أو استحسان وروى محمد عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وأبي يوسف أن الصلاة خلف أهل الأهواء لا تجوز والصحيح أنها تصح مع الكراهة خلف من لا تكفره بدعته لقوله صلى الله عليه وسلم: “صلوا خلف كل بر وفاجر وصلوا على كل بر وفاجر وجاهدوا مع كل بر وفاجر” رواه الدارقطني كما في البرهان وقال في مجمع الروايات وإذا صلى خلف فاسق أو مبتدع يكون محرزا ثواب الجماعة لكن لا ينال ثواب من يصلي خلف إمام تقي

الدر المختار مع ردالمحتار (6/137) میں ہے:

(ولو أكره على الزنا لا يرخص له)

وفي الشامية: وإذا لم يرخص له يأثم في الإقدام عليه وأما المرأة هل تأثم ذكر شيخ الإسلام إن أكرهت على أن تمكن من نفسها، فمكنت تأثم وإن لم تمكن وزنى بها فلا

فتاوی عثمانی (1/173 ) میں ہے :

جہاں تک انسان اور جنیہ کے درمیان نکاح کا تعلق ہے شریعت میں اس کی اجازت تو نہیں ہے، لیکن جہاں تک اس کے عقلی امکان کا تعلق ہے اس میں کوئی بات غیر ممکن نہیں ہے۔ علامہ بد ر الدین شبلیؒ معروف محقق عالم ہیں، انہوں نے اپنی کتاب (آکام المرجان فی غرائب الاخبار و احکام الجان       )کے باب۳۰ میں صفحہ۶۶ پر اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے۔اور آپ نے جو اعتراض کیا ہے کہ خاکی انسان کا نکاح ناری جن سے کیسے ہوسکتا ہے؟

اس کا یہ جواب دیا ہے کہ انسان بے شک خاکی اور جن بے شک ناری ہیں لیکن جس طرح انسانوں میں سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام خاک سے پیدا کئے گئے لیکن ان کے بعد جب توالد و تناسل جاری ہوا تو ہر انسان براہ راست خاک سے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس میں تمام عناصر کار فرما رہے، اسی طرح جنات میں سب سے پہلا جن جس کا قرآنی نام “الجان” ہے براہ راست آگ سے پیدا کیا گیاتھا اس کے بعد تمام جنات توالد و تناسل سے پیدا ہوتے رہے اور ان میں بھی انسانوں کی طرح دوسرے عناصر کار فرما رہے ہیں، لہٰذا اب جنات مطلقاً آگ یا حرارت کا پیکر مجسم نہیں ہوتے بلکہ ان میں حرارت و برودت کا اعتدال ہوتا ہے، اس بناء پر عقلی طور سے انسان اور جن کے درمیان جنسی اختلاط ممکن ہے ۔علامہ شبلیؒ نے اس سے استدلال بھی کیا ہے کہ قرآن کریم نے جنت کی حوروں کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ  {لم یطمثهن انس قبلهم ولا جان}  یعنی ان کو جنتیوں سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا اور نہ کسی جن نے۔اگر جن و انس کے درمیان اختلاط عقلاً ناممکن ہوتا  تو یہاں جن کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔خلاصہ یہ کہ عقلاً نکاح ہونا غیر ممکن نہیں اور علامہ شبلیؒ نے اس پر سند کے ساتھ کچھ واقعات بھی لکھے ہیں کہ جنات و انسان کے درمیان شادیاں ہوئیں۔ ان واقعات کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ان کو عقلاً ناممکن نہیں کہا جاسکتا اور معارف القرآن میں بھی اتنی ہی بات کہی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved