- فتوی نمبر: 35-270
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > جمعہ کی نماز کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک گاؤں بنام” لمڑان”جو “کلی حرمزئی ” ضلع پشین کے قرب وجوار میں آباد ہے اور کلی حرمزئی کے ساتھ متصل ہے، کلی حرمزئی میں جمعہ کی تمام شرائط موجود ہیں اور وہاں 1998 سے نماز جمعہ ادا ہورہی ہے جس کی آبادی تقریباً 1300 نفوس پر مشتمل ہے ،گاؤں میں لگ بھگ6 دکانیں٫ پختہ سڑکیں، دو بڑی مسجدیں اور گلی کوچے بھی ہیں جبکہ گاؤں کی بیشتر آبادی کوئٹہ کےگردونواح نقل مکانی کرچکی ہےاور بستی دو مختلف اضلاع پر منقسم ہے،ایک حصہ میونسپل حرمزئی ضلع پشین اور دوسرا حصہ ضلع قلعہ عبداللہ کے زیرِ انتظام ہےاور چیئرمین بھی جدا ہے۔ حال ہی میں ایک نئے مدرسہ “جامعۃ السعيد”کلی لمڑان کی زیرِ تعمیر مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی، جس پر گاؤں اور علاقے کے دیگر علماء کرام نے اعتراض اٹھایا کہ یہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی درست نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گاؤں کی ایک مسجد اور نیا مدرسہ ضلع قلعہ عبداللہ میں ہے جبکہ ایک مسجد ضلع پشین کے علاقے میں واقع ہے۔سوال یہ ہے کہ حنفی مسلک کی شرائط کے مطابق ہماری اس بستی میں نمازِ جمعہ ہوسکتی ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔روز مرہ کی ضروریات ( کریانہ، سبزی گوشت، جوتا، کپڑے،دوائی، ڈاکٹر و دیگر ضروریات کی تفصیل کیا ہے؟2۔سب سے بڑی مسجد میں اس بستی کے بالغ مرد سماجاتے ہیں یا مسجد کم پڑ جاتی ہے؟
جواب وضاحت: 1۔تین دکانیں کریانہ کی ہیں اور تین دکانیں کپڑوں کی ہیں۔ ووٹر لسٹ کے مطابق بالغ مردوں کی تعداد 1000 اور عورتوں کی 1500 ہیں۔ 800ضلع پشین اور باقی ضلع قلعہ عبداللہ کے زیرِ انتظام ہیں۔2۔ صرف عید کی چھٹیوں میں مسجد اور برآمدہ بھر جاتا ہے ، مسجد کم نہیں پڑتی۔
تنقیح: مذکورہ بالا دکانوں کے علاوہ سبزی، گوشت، جوتی، دوائی وغیرہ کی کوئی دکان نہیں، بس یہی دکانیں ہیں۔
وضاحت مطلوب ہے: جب “کلی حرمزئی ” میں جمعہ ہورہا ہے اور “لمڑان ” کلی حرمزئی سے متصل ہے تو علاقے کے علمائے کرام اعتراض کیوں اٹھا رہے ہیں؟ کیا وہ “لمڑان “کے ذکر کردہ محل وقوع یعنی اتصال والی بات سے متفق ہیں؟
جواب وضاحت: جنازہ گاہ الگ ہے ،لیکن اتصال پایا جاتا ہے۔ علاقے کے دیگر علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ جمعہ کی نماز شروع کرنے میں ہم سے مشورہ نہیں ہوا اور نہ ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ گاؤں بنام “لمڑان” اگر کلی حرمزئی کے ساتھ متصل ہے تو اس میں نماز جمعہ ہو سکتی ہے۔
تو جیہ: مذکورہ گاؤں میں اگرچہ نماز جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں لیکن مذکورہ گاؤں چونکہ کلی حرمزئی کے ساتھ متصل ہے اور گلی حرمزئی میں جمعہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں اور 1998 سے وہاں جمعہ کی نماز ادا ہو رہی ہے لہٰذا مذکورہ گاؤں میں بھی جمعہ کی نماز درست ہے۔
شامی (3/6) میں ہے:
عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح
فتاویٰ محمودیہ (8/46) میں ہے:
جو بستیاں اتنی متصل ہیں کہ دیکھنے میں وہ ایک ہی معلوم ہوتی ہیں اگرچہ سرکاری کاغذات میں ان کے نام جدا جدا ہیں ان کو جواز جمعہ کے مسئلہ میں ایک ہی قرار دیا جائے گا جبکہ کسی بستی میں شرائط کے ماتحت نمازجمعہ جائز ہو تو حسب حاجت وہاں متعدد جگہ جمعہ جائز ہے جیسا کہ ایک شہر کے متعدد محلوں میں ہوتا ہے بہتر صورت یہ ہے کہ اپنے کسی عالم فقیہ کو قریب سے بلا کر مشاہدہ کرا دیں پھر جو کچھ وہ فیصلہ کریں اس پر عمل کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
