- فتوی نمبر: 26-240
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > آن لائن کمائی > کلک ارننگ
استفتاء
جوشل(Jocial) ایک اشتہاری (ایڈورٹائزمنٹ )کمپنی ہے۔مختلف کمپنیاں جب کوئی نئی پراڈکٹ لانچ(launch) کرتی ہیں، تو وہ جوشل سے رابطہ کرتی ہیں تاکہ جوشل اس چیز کی تشہیر کرے پھر جوشل اکاؤنٹ ہولڈرزکےفیس بک اکاؤنٹ کے ذریعےسے اس پراڈکٹ کی تشہیر کرتی ہے۔
اب جوشل میں ہمارا کام یہ ہوتاہے کہ ہم اس میں اکاؤنٹ بناتے ہیں، اکاؤنٹ بنانے کےبعد اکاؤنٹ کو ایکٹو(Active) کرنے کیلئے 60ڈالر کا پیکج 3 مہینوں کیلئے لیتے ہیں ،پیکجز کی مالیت مختلف ہوتی ہے۔
اکاؤنٹ ایکٹو کرنے کے بعد کمپنی ہمارے اکاؤنٹ میں ہر ہفتے 2، 3 اور 5 ڈالر کے مختلف اشتہارات دیتی ہے جن میں سے ہم اپنی مرضی کے صرف 2 اشتہارات اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اپلوڈ کرسکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں، جس پر ہمیں ہر اشتہار کے 2، 3 یا 5 ڈالر( اشتہار کے حساب سے) کچھ متعین دنوں کے بعد ملتے ہیں۔ (اکثر لوگ 5 ڈالر والے اشتہار اپلوڈ کرتے ہیں جس پر لوگوں کو 10 ڈالر ایک ہفتے میں ملتے ہیں اور اسطرح ہر ہفتے کام کرنے پر 60 ڈالر والے 3 مہینے کے پیکج میں 120 ڈالر مل جاتے ہیں) جس ہفتے ہم اشتہار اپلوڈ نہیں کرتے ہمیں ڈالر نہیں ملتے یعنی کام کرنے پر ملتے ہیں اگر کام نہ کریں تو نہیں ملتے۔
اسکے علاوہ ریفرل کے ذریعے بھی کمائی کرتے ہیں یعنی ہم اگر کسی کو کمپنی میں شامل کرواتے ہیں تو اس کے بھی ہمیں 6 ڈالر کمپنی اپنی طرف سے دیتی ہے اور ماہانہ بھی کمپنی اپنی طرف سے کچھ ڈالر اسی ریفرل کے حساب سے دیتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر اکاؤنٹ ہولڈر کو ایک ٹیم بنانی پڑتی ہے جس میں کچھ ممبرز دائیں جانب ہوتے ہیں اور کچھ بائیں جانب ہوتے ہیں اور اس طرح جب ایک مخصوص تعداد تک ممبرز پہنچ جاتےہیں تو اکاؤنٹ ہولڈر کو ان ممبران کی کمائی سے اور یہ ممبران آگے کسی کو ممبربنائیں ،ان کی کمائی سے بھی حصہ ملتا ہے ۔
1۔ ان 60 ڈالرز کا کیا حکم ہے جو اکاؤنٹ ایکٹو (Active) کرنے کے لیے لگتے ہیں؟
2۔ اگر کوئی اکاؤنٹ ایکٹو کرنے کے بعد اس کمپنی میں کام کرےتو اسے جو ڈالر ملتے ہیں انکا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جوشل پر اکاؤنٹ بناکر اس سے کمائی کرنادو وجہوں سے جائز نہیں ہے ۔
1۔ اکاؤنٹ ایکٹو کرنے کے لیے کم از کم 60ڈالر دینے پڑتے ہیں جوکہ جائز نہیں ہے ۔
توجیہ:جو شخص جوشل پراکاؤنٹ بناکرکام کرتا ہے اس کے کام کی حقیقت یہ ہے کہ وہ جوشل کمپنی کو ملنےوالے اشتہارات اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لگاکر اس کی تشہیر کرتاہے اور اس پر فی اشتہار روپے لیتاہے ،شرعاً یہ عقد اجارہ ہے اور کمپنی کی فیس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ عقد اجارہ میں داخل ہونے کے لیے اجیر سے 60ڈالر لیتی ہے ،شرعی لحاظ سے کسی عقد میں داخل ہونے کے لیے روپے دینا رشوت ہےاورجائز نہیں ہے ۔
2۔اس کمپنی میں ملٹی لیول مارکیٹنگ(MLM)ہوتی ہے یعنی اکاونٹ ہولڈرنے کسی کو اس کمپنی کا ممبر بنایا اور اس ممبر نےمزید کسی کو ممبر بنایا اس تیسرے ممبر اور اسی طرح ممبرز کی پوری ٹیم کی کمائی میں سے پہلے شخص کو بھی نفع ملتا ہے،جوکہ جائز نہیں ہے اس لیے کہ جن لوگوں کواکاؤنٹ ہولڈر نے خود ممبر بنایا ہے ان کی کمیشن کا تو اکاؤنٹ ہولڈرمستحق ہےلیکن وہ ممبر مزید لوگوں کو ممبر بنائیں اور ان کی کمائی سے بھی پہلے والے کو کمیشن ملے ،شرعاً یہ ناجائز ہے اس لیے کہ اس میں پہلے شخص کی کوئی ایسی محنت شامل نہیں ہے جو قابل اجرت ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved