• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود رقم کی وراثت کا حکم

استفتاء

اگر بیٹی نے جوائنٹ  اکاؤنٹ کھلوایا ہو اور اپنی والدہ کو اس میں شامل کیا ہو تو بیٹی کی وفات کے بعد اکاؤنٹ میں جتنا بھی مال ہوگا تو کیا وہ ماں کی مِلک  سمجھا جائے گا؟ اور اسی طرح ماں کا انتقال ہوجائے تو کیا سارا مال بیٹی کی ملک سمجھا جائے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر ماں فوت ہو گئی اور جوائنٹ اکاؤنٹ میں ماں کے  پیسے موجود ہوئے تو اکاؤنٹ شریک یعنی بیٹی سمیت تمام ورثاء کا  ماں کے پیسوں میں حق ہوگا اور شرعی حصوں کے مطابق تمام ورثاء  میں یہ رقم تقسیم ہوگی اور اگر اکاؤنٹ میں ماں کی کوئی رقم موجود نہ ہوئی  تو جتنی رقم اکاؤنٹ میں ہوئی وہ بیٹی کی ہوگی اور اس میں ماں کے ورثاء کا حصہ نہیں ہوگا، ،  یہی حکم بیٹی کی وفات کی صورت میں ہے۔

تو جیہ : جوائنٹ اکاؤنٹ میں جو مال ہوتا ہے  جتنا جس نے اکاؤنٹ میں جمع کیا ہوتا ہے وہ اس  کی ذاتی ملکیت ہوتا  ہے  صرف جوائنٹ اکاؤنٹ کی وجہ سے دوسرے کی ملکیت نہیں بنتا لہذا  وہ مال اس کے مرنے کے بعد اس کے تمام ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا۔

بدائع الصنائع (7/540)میں ہے:

كل واحد من الشريكين في شركة الاملاك أجنبي عن صاحبه محجور عن التصرف في نصيبه.

تبیین الحقائق (6/229) میں ہے:

والمراد من التركة ‌ما ‌تركه ‌الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه

شامی (10/528) میں ہے:

لأن التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved