• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جفتی کرانے پر اجرت لینے کا حکم

استفتاء

میں نے  نسل کشی  کے لیے   بیل  رکھا  ہو ا ہے  جوکہ  کا فی  مہنگا ہے  اور  اس کی خوراک  کا  خرچہ  بھی بہت زیادہ ہے  لو گ جفتی کے لیے گائے لے آتے ہیں جس کے ہم ان سے 500/روپے لیتے ہیں  جبکہ ہمارے آس پاس ایسا کوئی نہیں  ہے  جولوگوں کی ضرورت    کے لیےبیل   رکھ سکے اوراگر کوئی   نہ رکھے  تو سب  کا  نقصان ہو گا۔ کیااسلام میں  جانورکے جفتی کا معاوضہ لینا  جائز  ہے یا  نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بیل سے جفتی کرانے پر اجرت لینا جائز نہیں  البتہ لوگوں کےنقصان کے تدارک   کاایک طریقہ تو یہ ہے کہ  لوگ گا ئے کو جفتی کرانے کی بجائے ٹیکہ لگوالیں ۔دوسراطریقہ یہ ہےکہ سارے گاؤں  والے پیسے اکٹھے کرکے  ایک بیل خریدلیں جوسب کے کام آئے  اور ماہانہ یا سالانہ لحاظ سے  اس  کی خوراک کےلیےآپس میں پیسے   جمع کر لیں اور جو  شخص  اس کی دیکھ بھال  کرے اس کو   دیکھ بھال کا معاوضہ دے  دیں ۔

الدر المختارمع الرد المحتار (9/92)میں ہے:

 (لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث

قال الشامي:قوله ( لا تصح الإجارة لعسب التيس ) لأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved