• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

1۔جمعہ کی سنتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت پڑھنا2۔ جوتے پہن کر جنازہ پڑھنا3۔ بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا

استفتاء

1۔مفتی صاحب نمازِ جمعہ یعنی 2 فرض امام صاحب کے ساتھ پڑھنے کے بعد جو سنتیں پڑھتے ہیں ان میں سورت  فاتحہ کے بعد کوئی سورت  پڑھنی ہو گی یا نہیں؟ راہنمائی فرمائیں.

2۔نمازِ جنازہ جوتے پہن کر پڑھ سکتے ہیں  جبکہ یقین بھی ہو کہ جوتے صاف ہیں، پڑھنا مناسب ہو گا؟

3۔بغیر ٹوپی پہنے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔سنتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانا ضروری اور لازمی ہے۔

2۔ پڑھ سکتے ہیں  (بشرطیکہ جوتے خود بھی پاک ہوں اور زمین بھی پاک ہو)

3۔ بغیر ٹوپی کے نماز پڑھی جا سکتی ہے لیکن بغیر ٹوپی کے نماز کو معمول نہ بنا یا جائے  کیونکہ ایسی صورت میں نماز مکروہ ہوگی۔

مراقی الفلاح (ص:93) میں  ہے:

فصل في واجبات الصلوة: ……….. وهو ثمانية عشر شيئا: قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات في ركعتين غير متعينتين من الفرض وفي جميع ركعات الوتر والنفل

“و” الثاني “ضم سورة” قصيرة “أو ثلاث آيات” قصار لقوله صلى الله عليه وسلم: “‌لا ‌صلاة ‌لمن لم يقرأ بالحمد لله” وسورة في فريضة أو غيرها “في ركعتين غير متعينتين من الفرض” غير الثنائي وفي جميع الثنائي “و” يجب الضم “في جميع ركعات الوتر” لمشابهة السنة “و” جميع ركعات “النفل”

شرح سنن ابی داؤد للعینی (3/19) میں ہے:

قوله: ” خالفوا اليهود ” يعني: ‌خالفوا ‌اليهود ‌في ‌لبس ‌النعال ‌والخفاف في الصلاة ” فإنهم ” الفاء فيه للتعليل، والخفاف جمع ” خف ” وفيه جواز الصلاة في النعل والخف إذا كانا طاهرين، وكذلك كل ما يلبسه الرجل في رجله تجوز الصلاة فيه إذا كان طاهرا

مرقاۃ المفاتیح (2/637) میں ہے:

وعن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «‌إذا ‌صلى ‌أحدكم ‌فلا ‌يضع ‌نعليه ‌عن ‌يمينه، ولا عن يساره، فتكون عن يمين غيره، إلا أن لا يكون عن يساره أحد، وليضعها بين رجليه» ) ، وفى رواية: (أو ليصل فيهما) ، رواه أبو داود، وروى ابن ماجه معناه

قوله: (” أو ليصل فيهما “) ، أي: إن كانا طاهرين

البحر الرائق (1/282) میں ہے:

لو ‌قام ‌على ‌النجاسة وفي رجليه نعلان أو جوربان لم تجز صلاته

الدر المختار مع ردالمحتار  (1/640) میں ہے:

(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب ……………. (‌وصلاته ‌حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل.

(قوله للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمرا مهما في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاونا بالصلاة.

فتاوی رشیدیہ (2/78) میں ہے:

سوال: صلاۃ جنازہ مع جوتہ درست ہے یا نہیں؟ بالخصوص زمین نجس پر؟

جواب: اگرجوتی پاک ہے تو نماز جنازہ درست ہے،ورنہ درست نہیں،ایسا ہی حال زمین کا ہے پر زمین ناپاک پر کھڑے ہو کر پھر درست نہ ہووےگی اور زمین خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے۔

فتاوی دار العلوم دیوبند(5/221) میں ہے:

سوال: جوتے پہن کر نماز جنازہ درست ہے یا نہیں؟

جواب: جوتا مستعملہ جو ناپاک جگہ پر رکھا جاتا ہے اس جوتا کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنی جائز نہیں ہے۔اور اس جوتا کے اوپر پیر رکھ کر بھی نماز جنازہ پڑھنا درست نہیں ہے۔غرض یہ ہے کہ جس طرح تمام نمازیں مستعملہ ناپاک جوتا کے ساتھ جائز نہیں ہے اسی طرح جنازہ کی نماز بھی درست نہیں ہے کیونکہ پاکی لباس اور جوتوں وغیرہ کی ہر ایک نماز میں شرط ہے۔

مسائل بہشتی زیور (1/317) میں ہے:

اگر جوتا پہن کر نماز جنازہ پڑھیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس  جگہ پر کھڑے ہوں وہ جگہ اور جوتے دونوں پاک ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved