- فتوی نمبر: 36-265
- تاریخ: 30 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > مکروہات نماز کا بیان
استفتاء
اگر گھر کے کمروں میں پیسوں کے ہار چاروں طرف لٹکے ہوئے ہوں تو اس کمرے میں نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مکروہ ہوگی لہٰذا پیسوں کے ہاروہاں سے اتار دینے چاہئیں۔
تبیین الحقائق (1/166) میں ہے:
قال رحمه الله (وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو بحذائه صورة) لقوله صلى الله عليه وسلم لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة؛ ولأنه يشبه عبادتها فيكره وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه، ثم على يمينه، ثم على يساره، ثم خلفه
فتاویٰ عثمانی (1/294) میں ہے:
سوال: جس کمرے میں کسی مرد یا عورت کا فوٹو آویزاں ہو تو اس جگہ نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: جس مکان میں کسی ذی روح کی تصویر لگی یا لٹکی ہو، اس میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اور سب سے زیادہ کراہت اس تصویر میں ہے جو نمازی کے سامنے جانب قبلہ میں ہو، پھر وہ جو نمازی کے سر پر معلق ہو، پھر وہ جو اس کے داہنے ہو، پھر وہ جو جانب ہو، اور سب سے کم کراہت اس میں ہے کہ نمازی کے پیچھے کسی دیوار وغیرہ میں ہو، اور اگر تصویر قدموں کے نیچے ہو تو اس وقت بھی بعض فقہاء کے نزدیک کراہت ہے اور بعض کے نزدیک نہیں ہے۔ لہٰذا پرہیز اس سے بھی کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved