• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

خلوت صحیحہ ہونے اور جماع نہ ہونے کی صورت میں تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے؟

استفتاء

میرے شوہر نے ایک ہی نشست میں سات جملوں میں طلاق کا لفظ کہا۔ پہلے انہوں نے کہا “طلاق دی”، پھر تقریباً ایک یا دو منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ کہا “طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی”اس وقت گواہ بھی موجود تھے۔ ہم دراصل صلح کے لیے بیٹھے ہوئے تھے لیکن بحث کی وجہ سے یہ بات ہو گئی۔دو دن بعد انہوں نے مجھے ایک طلاقنامہ بھی بھیجا جس میں لکھا تھا کہ وہ مجھے  تین طلاقیں دے رہے ہیں۔

ہماری شادی تقریباً ساڑھے چھ ماہ رہی۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارے درمیان  جماع (ازدواجی تعلق) نہیں ہوا، اگرچہ ہم نے کوشش کی۔ میرے شوہر کو شادی سے پہلے  فالج (اسٹروک) ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ ازدواجی تعلق قائم کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ہم نے تنہائی بھی اختیار کی اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن ان کے طبی مسئلے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے ڈاکٹر سے بھی مشورہ کیا اور ڈاکٹر نے بتایا کہ فالج کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں ہیں۔اسی وجہ سے ہماری شادی جماع کے ذریعے Consummate  (مکمل) نہیں ہو سکی۔

میں نے  فقہ حنفی  کے مطابق ایک فتویٰ بھی آپ کو بھیجا ہے جس کے مطابق اگر کوئی  جسمانی، طبعی یا شرعی رکاوٹ  ہو جس کی وجہ سے جماع ممکن نہ ہو تو اسے  خلوَتِ فاسدہ کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں اگر شوہر پہلی طلاق دے دے تو وہ طلاقِ بائن ہو جاتی ہے اور اس کے بعد دی جانے والی باقی طلاقیں غیر مؤثر (invalid)  ہو جاتی ہیں۔ اس فتوے میں اس کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اس صورت میں دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے  نیا نکاح کرنا پڑتا ہے اور حلالہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔میرے سوالات یہ ہیں:

1۔ چونکہ  ہماری شادی کے پورے عرصے میں بالکل بھی جماع نہیں ہوا اور جماع کے لیے جسمانی یا طبعی رکاوٹ موجود تھی، تو کیا اس بنیاد پر اس معاملے کو  خلوَتِ فاسدہ سمجھا جائے گا؟

2۔کیا اس صورت میں دی گئی طلاق ایک ہی شمار ہوگی؟

3۔کیا میں اسی شخص سے دوبارہ نیا نکاح کر سکتی ہوں جبکہ ہماری شادی طبی مسائل کی وجہ سے Consummate   (مکمل) نہیں ہو سکی؟

وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: ******

دارالافتاء کے ذریعے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے مذکورہ صورتحال کی تصدیق کی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت خلوت فاسدہ  کی نہیں  ہے بلکہ خلوت صحیحہ کی ہے ۔

2۔ مذکورہ صورت میں چونکہ خلوت  صحیحہ ہوچکی ہے اس لیے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن  کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے ۔

3۔ اسی شخص  سے آپ دوبارہ نکاح نہیں کرسکتیں۔

توجیہ :  مذکورہ  صورت میں شوہر عنین ہے اور عنین کی خلوت ، خلوت صحیحہ ہوتی ہے اور خلوت صحیحہ کے بعد دی جانے والی طلاق کی عدت بھی ہوتی ہے  اور اس عدت میں دی جانے والی طلاق بھی پہلی طلاق کو لاحق ہوجاتی ہے  لہذا تینوں طلاقیں واقع ہوں گی۔

البنایہ شرح الہدایہ (5/585) میں ہے:

‌ولها ‌كمال ‌مهرها إن كان خلا بها، فإن خلوة العنين صحيحة وتجب العدة لما بينا من قبل

شامی (4/248) میں ہے:

‌والحاصل ‌أنه ‌إذا ‌خلا ‌بها خلوة صحيحة ثم طلقها طلقة واحدة فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لا تقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لا يلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.

والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأن طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا.

شامی (4/240) میں ہے:

(‌والخلوة)  ……… (بلا مانع حسي) ………(وطبعي) ……. (وشرعي)  ….. (كالوطء) …. (ولو) كان الزوج (مجبوبا أو عنينا أو خصيا)

ہندیہ (1/473) میں ہے:

وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved