• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

خواتین کی وراثت سے متعلق عدالت عظمی کا فیصلہ

استفتاء

علماء کرام و مفتیان کرام سے ایک اہم گزارش :

السلام علیکم  ورحمۃ اللہ و برکاتہ

خواتین کے بارے میں عدالت عظمی کا ایک اہم فیصلہ پیش خدمت ہے اس کے بارے میں ذمے دار مفتیان کرام کی طرف سے شرعی تبصرہ اور رائے کا بروقت اظہار ضروری ہے ۔

گزارش ہے کہ خصوصی توجہ فرمائیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عدالت عظمی کے فیصلے کے بارے میں شرعی تبصرہ  دعوی اور اصل فیصلہ یا ان کی کاپی دیکھے بغیر ممکن نہیں ، باقی جتنی بات مذکورہ اخبار میں ہے وہ علی الاطلاق تو شرعا درست نہیں البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ وراثت اگر اعیان کی شکل میں ہو تو اعیان سے دستبرداری کرنے سے محض عورتوں کا حق ختم نہ ہوگا اور عورتوں نے اگر اپنی زندگی میں اپنا حق نہ لیا تو اولاد کو اپنے شرعی حصے کے بقدر اپنا حق لینے اور اس کا دعوی کرنے کا اختیار ہوگاالبتہ اگر حکومت نے دعوی سننے کے لئے کوئی مدت مقرر کر لی تھی تو  اس کی گنجائش ہے لہذا اس مدت کے بعد اگر کوئی وراثت کا دعوی کرے گا اور تاخیر کا کوئی معقول عذر پیش نہ کرسکے اور مدعی علیہ اس دعوی کو تسلیم نہ کرے   تو عدالت اس کو نہ سنے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا حق ختم ہوگیا کیونکہ حق میراث ایسا حق نہیں جو تقادم زمان سے ساقط ہوجاتا ہو،بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ عدالت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ یہ دعوی نہ سنے اور اسے خارج کردے ۔

عالمگیری(427/6) میں ہے:

لأن التركة عين والإبراء عن الأعيان باطل.

الاشباہ والنظائر(256) میں ہے:

الارث يجرى فى الأعيان.

در مختار(245/5) میں ہے:

فإن تقادم الزمان لا يبطل الحق في قذف وقصاص وحقوق عباد.

ہدایہ(28/4) میں ہے:

وعليه الفتوى أن الحق متى ثبت واستقر لا يسقط إلا بإسقاطه وهو التصريح بلسانه كما في سائر الحقوق۔

بدائع الصنائع(19/5)میں ہے:

والأصل أن الحق متى ثبت لإنسان لا يبطل إلا بإبطال۔

الاشباہ والنظائر(219) میں ہے:

الْحَقُّ لَا يَسْقُطُ بِتَقَادُمِ الزَّمَانِ۔

شرح المجلہ للاتاسی(170/5) میں ہے:

مادة 1670 إذا ترك المورث الدعوى مدة وتركها الوارث أيضا مدة وبلغ مجموع المدتين حد مرور الزمان فلا تسمع حتى لو سمعها القاضى والحالة هذه وحكم لذلك الوارث بعد سماع بينة لايكون حكمه نافذا لأن السلطان لم يوكل بسماع الدعوى بعد خمس عشر سنة كذا فى فتاوى المرحوم علامة الروم علي آفندي۔

دررالاحکام(276/4) میں ہے:

( إذا ترك المورث الدعوى مدة وتركها الوارث أيضا مدة وبلغ مجموع المدتين حد مرور الزمن فلا تسمع ) . تضم مدة ترك المورث والوارث والمنتقل منه والمنتقل إليه إلى بعضها فلذلك إذا ترك المورث الدعوى مدة وتركها الوارث أيضا مدة وبلغ مجموع المدتين حد مرور الزمن فلا تسمع دعوى الوارث . مثلا : لو ترك أحد الدعوى بمطلوبه الذي في ذمة آخر مدة ثماني سنوات وترك بعد وفاته وارثه الدعوى سبع سنوات فلا تسمع الدعوى بعد ذلك . كذلك لو ترك أحد مطلوبه الذي في ذمة آخر خمس سنوات ثم توفي وترك وارثه بالحصر ابنه الدعوى خمس سنوات أخرى ثم توفي وترك وارثه بالحصر بنته الدعوى خمس سنوات أيضا ثم ادعت بعد ذلك فلا تسمع دعواها كذلك لو ضبط أحد روضة مدة عشر سنوات على وجه الملكية في مواجهة زيد وسكت زيد هذه المدة بلا عذر ثم توفي زيد وترك بنتا فتصرف المذكور أيضا في الروضة تسع سنوات في مواجهة البنت وسكتت تلك المدة بلا عذر فادعت البنت بأن الروضة المذكورة هي ملك لوالدها زيد وقد باعها لك وفاء فلا تسمع دعواها ( على آفندي )

در مختارمع الشامی(128/8) میں ہے:

القضاء مظهر لا مثبت ويتخصص بزمان ومكان وخصومة حتى لو أمر السلطان بعدم سماع الدعوى بعد خمسة عشر سنة فسمعها لم ينفذ۔

 قلت فلا تسمع الآن بعدها إلا بأمرإلا في الوقف والإرث ووجود عذر شرعي وبه أفتى المفتي أبو السعود فليحفظ ۔

قال ابن عابدین تحت قوله ( إلا في الوقف والإرث ووجود عذر شرعي ) استثناء الإرث موافق لما مر عن الحموي ولما في الحامدية عن فتاوى أحمد آفندي أحمد آفندي المهمنداري مفتي دمشق أنه كتب على ثلاثة أسئلة أنه تسمع دعوى الإرث ولا يمنعها طول المدة ويخالفه ما في الخيرية حيث ذكر أن المستثنى ثلاثة مال اليتيم والوقف والغائب ومقتضاه أن الإرث غير مستثنى فلا تسمع دعواه بعد هذه المدة وقد نقل في الحامدية عن المهمنداري أيضا أنه كتب على سؤال آخر فيمن تركت دعواها الإرث بعد بلوغها خمس عشرة سنة بلا عذر أن الدعوى لا تسمع إلا بأمر سلطاني ونقل أيضا مثله فتوى تركية عن المولى أبي السعود وتعريبها إذا تركت دعوى الإرث بلا عذر شرعي خمس عشرة سنة فهل لا تسمع الجواب لا تسمع الا إذا اعترف الخصم بالحق, ونقل مثله شيخ مشايخنا التركماني عن فتاوى علي آفندي مفتي الروم ونقل مثله أيضا شيخ مشايخنا السائحاني عن فتاوى عبد الله آفندي مفتي الروم وهذا الذي رأينا عليه عمل من قبلنا فالظاهر أنه ورد نهي جديد بعدم سماع دعوى الإرث والله سبحانه أعلم.

فقہی مقالات (307/3)وفتاوی عثمانی للشیخ تقی عثمانی (524/3)میں ہے:

قانون “میعادسماعت “کی حقیقت، تاریخ،شرعی تصور، دلائل، پچھلے زمانوں میں اس کی موجودگی، اور اس قانون کی حکمت:

قانون میعاد سماعت سراسر غیر اسلامی قانون نہیں ہے اور یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اسلام کی تاریخ میں شفعہ کو چھوڑ کر اس نوعیت کے قوانین کبھی نافذ نہیں رہے،واقعہ یہ ہے کہ اسلامی عدالتیں بھی میعاد سماعت کا لحاظ کرتی رہی ہیں خاص طور سے ترکی خلافت کے دور میں عالم اسلام کے تمام قاضی خلیفہ وقت کی مقرر کردہ میعاد سماعت پر عمل کرتے رہے ، اور فقہاء اسلام نےان کے اس عمل کی نہ صرف توثیق و تائید کی ہے بلکہ خلیفہ وقت کے منشور جاری ہونے کے بعد اس کو واجب العمل قرار دیاہے………..البتہ مختلف زمانوں میں مختلف میعاد یں مقرر کی گئی ہیں ،فقہ حنفی کی کتابوں میں بعض مقدمات کے لئے پندرہ سال، بعض کے لئے تینتیس سال اور بعض کے لئےچھتیس سال کی مدتیں مقرر کی گئی ہیں……….البتہ یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے اور شاید آپ کو بھی یہی شبہ ہوا ہو کہ محض تاخیر کی بناء پر ایک صاحب حق کو حق سے محروم کرنے کا کیا جوازہے؟ موجودہ قوانین میں اس سوال کا جواب نصفت(EQUITY) کے ان مقولوں کے ذریعہ دیا گیا ہے کہ “قانون چوکس لوگوں کی مدد کرتا ہےغافلوں کی  نہیں”نیز”عدالتی مخاصمتوں کی کوئی انتہاء ہونی چاہئے” لیکن یہ مقولے موجودہ قوانین کے حق میں اس لئے پوری طرح اطمینان بخش نہیں ہوئے کہ وہاں دیانت اور قضاء کی کوئی تفریق کم از کم عملاً نہیں ہےبلکہ جو حق عدالت سے مسترد ہوگیا عملاً وہ حق ہی نہیں رہا، اس کے بجائے اسلامی فقہ میں دیانت اور قضاء کے احکام ساتھ ساتھ چلتے ہیں لہذا اگر عدالت نے کسی حق کا تصفیہ کرنے سے انکار کردیا ہے تو اس کا یہ  مطلب نہیں کہ وہ حق نہیں رہابلکہ وہ حق موجود ہے اور جس کے ذمے حق ہے اس پر دیانۃً فرض ہے کہ وہ اسے صاحب حق تک پہنچائے،خواہ کتنا زمانہ بیت چکا ہو،اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو عدالت خواہ اسے کچھ نہ کہے لیکن وہ گنہگار ہوگا،اسی لئے فقہاء کا یہ مقولہ “الاشباہ والنظائر” وغیر میں درج ہے کہ ” الْحَقُّ لَا يَسْقُطُ بِتَقَادُمِ الزَّمَانِ”یعنی حق زمانہ گذر جانے کی بناء پر ساقط نہیں ہوتا،اس سے مراد یہی ہے کہ میعاد سماعت گذر جانے کے باوجود وہ حق موجود ہے جس کا ایک اثر تو اخروی ہے کہ اس حق کو تلف کرنے والا گنہگار ہوگا،دوسرا اثر دنیوی ہے کہ جس شخص کو بھی اس حق تلفی کا یقینی علم ہوگا وہ اس پر فاسق کے احکام جاری کرے گا جس سے اس کےساتھ  اس کے سارے معاملات متاثر ہوں گے،تیسرا اثر یہ ہے کہ اگرچہ عدالت اس مسئلے کو سننے سے انکار کرچکی ہےلیکن اگر خلیفہ کے پاس اپیل پہنچے اور وہ محسوس کرے کہ مقدمہ جان دار ہےاور اس میں چال بازی بظاہر نہیں ہے تو فقہاء نے لکھا ہے کہ وہ اسے کسی قاضی کے پاس بھیج سکتا ہے اس صورت میں قاضی اس کی سماعت کرے گا،نیز ایسی صورت میں صاحب حق قاضی کو ثالث بنا کر بھی فیصلہ کراسکتا ہے۔

اس سے صاف واضح ہے کہ صرف زبانی طور پر نہیں بلکہ عملاً بھی میعاد سماعت سے حق ساقط نہیں ہوتا، میعاد سماعت مقرر کرنے کی بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ مدت دراز گزرنے کے بعد بھی اگر حق سماعت باقی رکھا جائے تو اس سے ایک طرف تو مقدمات میں مکر و فریب اور جھوٹی گواہیوں کا امکان بڑھ جائے گا، کیونکہ مدت دراز گزرنے کے بعد واقعے کے عینی گواہ ملنے مشکل ہوتے ہیں ،اور مل بھی جائیں تو واقعے کی پوری تفصیلات ذہن میں نہیں رہتیں ، اس لئے اس قسم  کے مقدمات عدالتوں میں داخل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مقدمات میں غیر ضروری تعویق ہو اور لاینحل مسائل کھڑے ہوجائیں، میعاد سماعت کی یہی حکمت ہمارے فقہاء نے بھی بیان فرمائی ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلامی فقہ میں اس کی بنیاد موجود ہے، اور جب کبھی شریعت کی بنیاد پر موجودہ قوانین کی تدوین نو کی جائے گی تو اس قانون کو بالکلیہ مسترد یا منسوخ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس پر مذکور ہ فقہی بنیادوں پر نظر ثانی کی جائے گی،اور میں سمجھتا ہوں کہ اس قانون میں اتنی ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی جتنی دوسرے بہت سے قوانین میں ضرورت پیش آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

 

 

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved