- فتوی نمبر: 35-282
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
کیا Kiddies(کڈیز) کمپنی کی Coco Loco (کوکو لو کو) چاکلیٹ ویفر کھانا درست ہے ؟
جس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں :
Sugar, Flour, Salt, Vegetable Fat, Soya Lecithin (E211), Cocoa Powder, Whey Powder, Milk Powder, Leavening Agent, Artificial Flavor (vanillin)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(کڈیز) کمپنی کی Coco Loco (کوکو لو کو) کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جز کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی لہذا جب تک مذکورہ مصنوع میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اس چاکلیٹ کے کھانے کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ چاکلیٹ ویفر کے پیکٹ پر دس (10)اجزائے ترکیبی مذکورہیں جن میں پانچ (5) نباتاتی، ایک (1) معدنی ، دو (2) حیوانی اور دو (2) مصنوعی ہیں ۔ان اجزاء کی تفصیل اور ان كا حکم درج ذیل ہے:
نباتاتی اجزاء:
1۔ Sugar (چینی)
2۔ Flour فلور (آٹا) مذکورہ چاکلیٹ کے ریپر پر اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ یہ آٹا کس چیز کا ہے چونکہ عموماً نباتاتی چیزوں کا ہوتا ہے اس لیے اس کو نباتاتی شمار کیا ہے۔
3۔ Vegetable Fat ویجیٹیبل فیٹ (سبزیوں کی چکنائی)
4۔ Soya Lecithin (E211) سویا لیسیتھن (تیل دار پودوں سے حاصل کیا جاتا ہے)
5۔ Cocoa Powder کوکو پاؤڈر (کوکو کے بیج سے حاصل ہوتا ہے)
نباتاتی اجزاء کا حکم:
ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور اور مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں ۔
معدنی اجزاء:
06۔Salt (نمک)
معدنی اجزاء کا حکم
ان کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب حلال اور پاک ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ جز نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذا یہ جزبھی حلال اور پاک ہے۔
حیوانی اجزاء
07۔ Whey Powder وے پاؤڈر (دودھ سے حاصل ہوتا ہے)
08۔ Milk Powder خشک دودھ
دودھ کا حکم:
دودھ کا حکم یہ ہے کہ جس جانور کا گوشت حلال ہے اس کا دودھ بھی حلال ہے ،اورجس جانور کا گوشت حلال نہیں اس کا دودھ بھی حلال نہیں، مذکورہ خشک دودھ کے بارے میں اگر چہ یہ معلوم نہیں کہ یہ حلال جانور کا ہے یا حرام جانور کا ، اور چونکہ جانوروں یا ان کے اجزاء میں اصل حرمت ہے اس لئے اصولی طور پر تو جب تک اس کے حلال ہونے کا علم نہ ہو اس وقت تک اسے حلال نہیں کہا جا سکتا لیکن چونکہ بازار میں عام طور پر حلال جانوروں(گائے،بھینس ،بکری وغیرہ) کا دودھ ہی دستیاب ہوتا ہے حرام جانوروں کا دودھ عموماً دستیاب نہیں ہوتا اس لیے جب تک اس خشک دودھ اور وے پاؤڈر کے کسی حرام جانور سے حا صل ہونے کا علم یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک اس جزکو بھی حلال کہا جائے گا۔
نوٹ: وے پاؤڈر رینٹ سے بنتا ہے اور رینٹ حیوانی، نباتاتی ، جراثیمی (مائیکروبیل) اور مصنوعی سب طرح کا ہوتا ہے۔ صنعتی پیمانے پر عام طور سے چونکہ غیر حیوانی رینٹ استعمال ہوتا ہے لہذا اسے حلال سمجھا جائے گا۔
مصنوعی اجزاء
09۔ Leavening Agent (پھلانے والا مادہ ) مذکور ہ جز نباتاتی بھی ہوتا ہے اور مصنوعی بھی ، نباتاتی چونکہ مہنگا ہوتا ہے اس لیے صنعتی پیمانے پر عموماً مصنوعی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے مذکورہ جز کو مصنوعی شمار کیا گیا ہے۔
10۔ Artificial Flavor (vanillin) مصنوعی ذائقہ وینیلن
مصنوعی اجزاء کا حکم
مصنوعی اجزاء بھی در حقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء(نباتاتی،معدنی اور حیوانی) میں سےکسی ایک سے یا ایک سے زائد سے ہی تیارہوتے ہیں ان سے ہٹ کرکسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے ، اس لیے مصنوعی اجزاءکا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس مصنوع میں ان میں سے کون سا مصنوعی جز استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ ان اجزاء کےکسی حیوان یا دیگر حرام اشیاء سے تیار ہونے کا یقین یا غالب گمان نہیں اس لیے جب تک ان مصنوعی اجزاء کے کسی حرام جانور یا کسی حرام شے سے حاصل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان مصنوعی اجزاء کو بھی حلال کہا جائے گا۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
صحیح بخاری (رقم:5507) میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها: «أن قوما قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكر اسم الله عليه أم لا، فقال: سموا عليه أنتم وكلوه» قالت: وكانوا حديثي عهد بالكفر
فتح الباری (9/ 635) میں ہے:
«ويستفاد منه أن كل ما يوجد في أسواق المسلمين محمول على الصحة وكذا ما ذبحه أعراب المسلمين لأن الغالب أنهم عرفوا التسمية»
تبیین الحقائق(6/219) میں ہے:
’’ألا ترى أن أسواق المسلمين لا تخلو عن المحرم من مسروق ومغصوب، ومع ذلك يباح التناول اعتمادا على الظاهر‘‘
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:600) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
امداد الفتاوی(96/4)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
