- فتوی نمبر: 26-286
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح و کنایہ دونوں طرح کے الفاظ سے طلاق دینا
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کے رشتہ داروں یعنی بیوی کی ماں ، بیوی کے بھائی، بیوی کی بہن، اور بیوی کے ماموں وغیرہ کےسامنے غصے میں یہ الفاظ کہے کہ اس بات کو چچا نے بھی سنا:
” میرا آپ سے کوئی بھی تعلق نہیں، میری طرف سے آپ کو جواب ہے، آپ لوگوں نے مجھ سے کچھ تعلق بنایا ہی نہیں ہے، جسطرح بیٹے کےلیے رشتہ دیکھ لیا اسی طرح اپنی بیٹی کےلیے بھی رشتہ ڈھونڈلو، میری طرف سے جواب ہے، میں طلاق دیتاہوں، میری طرف سے جواب ہے۔ میں ابھی تک آپ کےکہنے پر چپ بیٹھارہا اب میری طرف سے جواب ہےآپ کو سمجھ آئے یا نہ آئے میرے والدصاحب آپ کے پاس آئیں یا نہ آئیں ، میری طرف سے جواب ہے ، میں کہہ رہاہوں میں نے ابھی تک بہت برداشت کیا۔6سالوں کے بعد اب آپ کو یاد آیا ہوں اس سے پہلے آپ کہاں رہے اب تک کوئی وارث نہ تھے نہ ماں، نہ باپ ، نہ بھائی جو کچھ ہوتا رہا خاموش کیوں رہے”
اور یہ الفاظ بولتے ہوئے میری طلاق کی نیت نہیں تھی میں صرف ڈرانے دھمکانے کےلیے کہہ رہاتھا کہ شاید وہ باز آجائیں۔اس کے بعد میں نے ان سے کہا کہ میں دوسری شادی کروں گا اس پرمیری بیوی کی بہن نے کہا کہ تو کرکے دکھا، اور چچا نے کہا کہ آپ کو کھلی اجازت ہےمیں نے کہا کہ پتا چل جائے گا۔ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور اگر ہوئی ہےتو کونسی طلاق واقع ہوئی ہے رجعی، بائنہ یا مغلظہ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو بائنہ طلاق واقع ہوچکی ہیں۔ جن کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہوگیا ہے۔ اب اگر میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں۔
توجیہ:جب شوہر نے غصے میں اپنی بیوی کے رشتہ داروں سے کہا کہ “میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں، میری طرف سے آپ کو جواب ہے، “تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ یہ الفاظ شوہر نے بیوی سے نہیں کہے بلکہ بیوی
کے رشتے داروں سے کہے ہیں لہٰذا یہ طلاق کےلیے نہ صریح ہیں نہ کنایہ، پھر اس کے بعد جب شوہر نے یہ کہا کہ “اپنی بیٹی کےلیے رشتہ ڈھونڈ لو، میری طرف سے جواب ہے”تو ان الفاظ سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی کیونکہ یہ الفاظ بیٹی کےلیے رشتہ ڈھونڈنے کے قرینہ سے کنایہ بن گئےاور کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں جن سے حالت غضب میں نیت کے بغیربھی بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ پھر اس کے بعد جب شوہر نےیہ جملہ کہاکہ”میں طلاق دیتا ہوں”تواس سے الصریح یلحق البائن کے تحت دوسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔ پھر کیونکہ پہلی طلاق بائنہ تھی لہٰذا دوسری طلاق بھی بائنہ واقع ہوگی۔ اس کے بعدتین مرتبہ “میری طرف سے جواب”کہنے سے البائن لایلحق البائن کے تحت کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
نوٹ: دوبارہ نکاح کی صورت میں شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا۔
درمختارمع ردالمحتار (528/4) میں ہے:
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية…………(لا) يلحق البائن (البائن)
قوله:(الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها أنا طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا قوله (ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية ثم قال وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة.
فتاوی عالمگیری (473/1) میں ہے:
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.
امدادالفتاوی جدید مطول(295/5) میں ہے:
“سوال:کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ میرے شوہر زید نے بحالت غضب مجھ کو یہ لفظ کہا کہ اگر تو شام تک میرے گھر نہ آئی تو میری طرف سے جواب ہے زید نے یہ الفاظ میرے مواجہہ میں بھی کہے ہیں اور اس وقت اور رشتہ دار بھی میرے موجود تھے اور پھر انہی الفاظ کا اقرار میرے تایاصاحب کے روبرو جاکر کیا اور وہاں یہ بھی جاکر کہا کہ معافی نامہ مہر بھی میرے پاس ہے جو خود قرینہ نیت طلاق کا ہوسکتا ہے اب زید ان الفاظ کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ لفظ کہے تھے کہ تو اگر شام تک میرے گھر میں نہ آئی تو میں جواب دیدونگا اور حالت غصہ کا بھی انکار کرتا ہے لیکن میرے نزدیک وہ اپنے انکار میں سچا نہیں ان الفاظ کے حالت غصہ میں سرزد ہونے کے شاہد میرے تایا اور میری والدہ اور نانی اور تائی اور چچی ہیں جو ثقہ اور عادل ہیں پس اس صورت میں مجھ پر طلاق واقع ہوئی یانہیں ؟اور قضاء ً بھی ہوئی یا صرف دیانۃً اگر محض دیانۃً ہی واقع ہوئی ہو تو مجھ کو زید کے دیانۃً ہی واقع ہوئی ہو تو مجھ کو زید کے ساتھ مقام اور تمکین وطی حلال ہے یا حرام اور اگر طلاق واقع ہوئی تو کون سی طلاق واقع ہوگی زید یہ بھی کہتا ہے کہ اُس وقت میری نیت ہر گز طلاق کی نہ تھی میں اُس کو اس میں بھی سچا نہیں جانتی ہوں اس بارے میں جو حکم شرع شریف کا ہو تحریر فرماکر عنداللہ ماجور ہوں ۔
الجواب: یہ لفظ کہ میری طرف سے جواب ہے عرفاً کنایہ ہے طلاق سے جیسا کہ اہل زبان پر مخفی نہیں ہے اور یہ کنایہ کے اقسام میں سے وہ قسم ہے جس میں رد اور سب کا احتمال نہیں بلکہ محض جواب میں مستعمل ہے اور یہ بھی ظاہر ہے اور اس قسم کا حکم یہ ہے کہ صرف حالت رضاء میں نیت شرط ہے دلالۃ حال یعنی غضب اور مذاکرہ میں شرط نہیں کما صرح بہ الفقہاء اور صورۃ مسئولہ میں دلالت حال متحقق ہے پس اگر واقعہ اسی طرح ہو تو حکم یہ ہے کہ طلاق واقع ہوگئی اور چونکہ اس لفظ کو اہل عرف قطعی فیصلہ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور قطعی فیصلہ کا اثر ہے تحریم اور وہ مخصوص ہے بائن کے ساتھ اس لئے طلاق بائن ہوگئی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved