• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کسی کے مرنے کے بعد اس کی امانت کا حکم۔ کسی وارث کا مورث کو دی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ

استفتاء

میری آپا جو رشتے میں میری نند اور میری تائی جی بھی لگتی  تھیں۔ اب وہ وفات پا گئی ہیں۔  اللہ پاک اُن کی مغفرت کردے۔ اُن کے 5 بچے ہیں۔ 3بیٹیاں  اور دو بیٹے ہیں۔ اُنہیں کسی پر اعتماد نہ تھا۔ اس لیے انہوں نے میرے پاس گولڈ جو ایک لاکٹ اور دو بالیاں ہیں اور 14000 نقد امانت رکھوائے تھے۔ اور پابند کیا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ کیونکہ ایک بیٹا شر پسند ہے، وہ پہلے بھی بہت کچھ بیچ چکا تھا، نِکما اور نِکھٹو تھا۔ اب انہیں وفات پائے ہوئے  9سال ہوگئے ہیں۔ مَیں نے اُن کی وفات کے دوسرے دن ہی اُن کی اولاد سمیت 7بندوں کی موجودگی میں امانت ایک بیٹی کے کہنے پر دوسری بیٹی کو دے کر خود سُرخرو ہوگئی   تھی۔

اب 2سال پہلے بڑے بیٹے نے جو گولڈ ماں کو دیا تھا اس کی  واپسی کا مطالبہ کیا ہے کہ میری چیز مجھے واپس کر دیں، اُس وقت آپا نے جب امانت رکھی تھی میرے پاس تو کہا تھا کہ میرا دل ہے یہ میں پوتی کو بنا کر دوں کیونکہ اس کے نِکمے باپ نے کیا ڈالنا ہے؟ مگر زندگی نے ساتھ نہ دیا ۔

اب یہ مسئلہ ٹیڑھا ہو گیا ہے کہ سب سے بڑی بہن نے جھگڑا ڈال دیا ہے کہ یہ وراثت ہے اور تقسیم ہوگی ، جبکہ بڑا بیٹا اپنا گولڈ واپس مانگ رہا ہے۔ اب آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا کریں۔ یہ ساری اولاد جانتی ہے کہ گولڈ بیٹے نے دیا تھا ماں کو۔

صورتِ حال اس لئے بدل گئی ہے کہ اب چھوٹے بیٹے نے سب بہن بھائیوں کا حق مار لیا ہے کوئی بڑے ماموں کی وراثت خود ہڑپ کر گیا ہے۔ ماموں کی وراثت سے جو ان کی والدہ کو ملنا تھا وہ سارا مال ۔

تو بیٹی نے جس کو میں نے دوسرے دن قل پر ہی امانت سونپ دی تھی اور اطمینان ہوا تھا،  اس نے واپس مجھے دے دیا ہے کہ خود آپ فیصلہ کریں۔ اس لیے کہ میں اللہ کے حضور سرخرو رہوں  آپ سے فیصلہ چاہ رہی ہوں کہ کیا کروں؟ میری پکڑ نہ ہو۔ اللہ مجھے معاف کرے۔ آپ خوب سمجھ کر شرعی نقطہ سے فیصلہ لکھ دیں۔

وضاحت مطلوب ہے: بیٹے نے والدہ کو جو سونا  دیا تھا، کیا بطور ملکیت کے دیا تھا یا کسی اور نیت سے؟

جواب وضاحت:بیٹے نےوالدہ کو بطور ملکیت کے سونا دیا تھا اورجس بیٹے نے دیا ہے اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میں نے بطور ملکیت کے دیا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں جو سونا بیٹے نے والدہ کو دیا تھا بیٹے کے لیے وہ سونا واپس لینے کا اختیار نہیں۔ لہٰذا تمام سونا اور نقد رقم تمام ورثاء میں بطور وراثت تقسیم ہوگی۔ چونکہ والدہ کے فوت ہونے کے بعد اس سونے اور نقد رقم میں تمام ورثاء شریک ہوگئے ہیں، اس لیے  ہر ایک وارث کو اس کے شرعی حصہ کے مطابق حصہ پہنچانا آپ کے ذمے ہے۔ کسی ایک وارث کو دوسرے ورثاء کا حصہ ان کی اجازت کے بغیر دینا جائز نہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved