- فتوی نمبر: 36-268
- تاریخ: 30 ستمبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا ڈرامے دیکھنا گناہ ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جی ہاں ! گناہ ہے ۔
شامی (6/ 395) میں ہے:
(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام «كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه
«قوله وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام وإن سمع بغتة يكون معذورا ويجب أن يجتهد أن لا يسمع قهستاني»
فتاوی مفتی محمود (346/11) میں ہے :
بالفرض اگر کوئی ڈرامہ فحش اور غیر اسلامی خیالات کے اظہار سے خالی بھی ہو تب بھی عام طور پر لہو ولعب اور بے فائدہ ہونے سے خالی نہیں ہوا کرتا ۔ لہٰذا بوجہ عبث ہونے اور تلہی و تلعب کے مکروہ اور نا جائز ضرور ہوگا۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (416/8) میں ہے:
سوال: جناب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے اسلامی ملک پاکستان میں فلمیں اور ڈرامے بنتے ہیں، ان میں عجیب سی روایات ہیں، وہ یہ کہ ایک آدمی کو ایک فلم یا ڈرامے میں ایک عورت کا خاوند دِکھایا جاتا ہے، اسی آدمی کو دُوسرے ڈرامے میں اسی عورت کا یا تو بھائی، بیٹا اور یا کسی اور رشتے سے دِکھایا جاتا ہے، یہ چیزیں ہمارے مذہب (اسلام) میں کہاں تک جائز ہیں؟ اور اگر ناجائز ہیں تو اس کے لئے کیا روک تھام ہوسکتی ہے؟
جواب: جب فلمیں اور ڈرامے ہی جائز نہیں، تو جو چیزیں آپ نے لکھی ہیں، ان کے جائز ہونے کا کیا سوال ہے؟
آپ کے مسائل اور ان کا حل (433/8) میں ہے:
سوال: کیا ٹی وی میں بھی عورتوں کی شکل و صورت دیکھنا گناہ ہے؟ میں نے ایک جگہ رسالے میں پڑھا تھا کہ نامحرَم عورتوں کا دیکھنا اور اس کا عادی ہونا بہت بڑا گناہ ہے، موت کے وقت انجام اچھا نہیں ہوتا، کیا اس کا اطلاق ٹی وی پر بھی ہوتا ہے؟
جواب:ٹی وی دیکھنا جائز نہیں، اس پر نامحرَم عورتوں کا دیکھنا گناہ در گناہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved