- فتوی نمبر: 32-379
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > عملیات، تعویذات اور جادو و جنات
استفتاء
السلام علیکم ! مولانا صاحب ! حکیم طارق محمود چغتا ئی صاحب کے وظائف اور عملیات کرنا جائز ہیں یا نہیں ؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ جو عملیات و وظائف سنت سے ثابت نہیں وہ خواہ طارق محمود چغتائی صاحب کے بتائے ہوئےہوں یا کسی اور صاحب کے بتائے ہوئے ہوں،افضل اور بہتر یہی ہے کہ ان میں نہ لگاجائے ۔[ دیکھئے حوالہ نمبر1]
2۔تاہم اگر کسی کو کسی مجبوری کی وجہ سے عملیات ووظائف میں لگنا پڑے تو وہ درج ذیل باتوں کا خیال رکھے:
۱۔ ان کو مؤثر بالذات نہ سمجھے یعنی یہ نہ سمجھے کہ ان میں جو اثر ہے وہ ان کا ذاتی ہے خدا تعالیٰ کا رکھا ہوا نہیں ہے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۱]
۲۔ان میں اثر کو یقینی خیال نہ کرے یعنی یہ نہ سمجھے کہ ان میں اثر تو ضرور تھا لیکن کسی مانع کی وجہ سے ان کا اثر ظاہر نہیں ہوا بلکہ یہ سمجھے کہ اگر کوئی مانع نہ بھی ہوتا تو پھر بھی ان کا اثر کرنا یقینی اور ضروری نہ تھا ، محض ظنی تھا ، تاہم اس سے وہ عملیات ووظائف مستثنیٰ ہیں جن کا اثر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۲]
۳۔یہ عملیات ووظائف کسی شرکیہ، کفریہ، فسقیہ مضمون پر مشتمل نہ ہوں۔[دیکھئے حوالہ نمبر۳]
۴۔ ان عملیات ووظائف کا معنیٰ معلوم ہو لہٰذا غیر معلوم المعنیٰ عملیات ووظائف جائز نہیں چنانچہ وہ عملیات جو ہندسوں(اعداد) پر مشتمل ہوں وہ جائز نہیں۔ البتہ ایسے عملیات ووظائف اگر کسی ایسے معتبر عالم دین سے منقول ہوں جس کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ ناجائز عملیات نہیں کرتے تو غیر معلوم المعنیٰ عملیات ووظائف بھی جائز ہیں۔[دیکھئے حوالہ نمبر۴]
۵۔ جو عملیات ووظائف دنیوی اغراض یا جسمانی بیماری وغیرہ کے پیش نظر کیے جائیں انہیں دینی ، روحانی اور نورانی نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں بھی طبی علاج کی طرح ایک دنیوی اور جسمانی علاج سمجھا جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر ۵]
۶۔ جوعملیات دنیوی کاموں کی خاطر کیے جائیں ان میں ثواب کا اعتقاد نہ رکھا جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۶]
۷۔جو لوگ عملیات ووظائف بتانے والے ہیں محض عملیات ووظائف کی وجہ سے ان کی بزرگی کا اعتقاد نہ رکھا جائے اور نہ ہی ان کو ایسے القابات دیے جائیں جن سے ان کی بزرگی ظاہر ہو (مثلا حضرت جی، پیر صاحب، شیخ الوظائف) البتہ عملیات ووظائف کے علاوہ ان کی بزرگی کی واقعی وجوہات ہو ں تو الگ بات ہے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۷]
۸۔جو عملیات ووظائف کسی دنیوی غرض یا جسمانی بیماری وغیرہ کی وجہ سے کیے جائیں انہیں مسجد میں کرنے کا معمول نہ بنایا جائے۔البتہ اگر مسجد میں کسی دینی غرض سے گئے ہوں اور اچانک کسی کو دم کرنا پڑجائے یا تعویذ لکھنا پڑجائے تو اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس پر اجرت نہ لی جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۸]
۹۔عملیات ووظائف میں کسی خاص دن، تاریخ ، مہینے یا کسی خاص وقت کی قید اور پابندی کو لازم نہ سمجھے یعنی یہ خیال نہ کرے کہ جب تک اس عمل کو اس خاص وقت میں نہیں کیا جائے گا تو یہ اثر ہی نہ کرے گا۔[دیکھئے حوالہ نمبر۹]
۱۰۔جس شخص کا عقیدہ کمزور ہو اسے ان عملیات ووظائف میں نہیں لگنا چاہیے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۱۰]
۱۱۔ان عملیات ووظائف کو کسی ایسے امر (کام) کے لیے نہ کیا جائے جو ناجائز ہے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۱۱]
۱۲۔جو کام کسی پر واجب نہیں اس پر کسی کو عملیات ووظائف کے ذریعہ مجبور نہ کیا جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۱۲]
۱۳۔عملیات ووظائف میں جنات سے مدد طلب نہ کی جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر ۱۳]
۱۴۔عملیات ووظائف کے ذریعے بغیر کسی شرعی مجبوری کے جنات کو تابع نہ بنایا جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر ۱۴]
۱۵۔لوگوں کے بتائے ہوئے عملیات ووظائف کو مسنون عملیات ووظائف پر ترجیح نہ دی جائے۔[دیکھئے حوالہ نمبر۱۵]
۱۶۔عملیات ووظائف میں سونے ، چاندی ،لوہے، پیتل، رانگ اور تانبے کے کڑے وغیرہ استعمال نہ کیے جائیں۔[دیکھئے حوالہ نمبر۱۶]
نوٹ: یہ موٹی موٹی شرطیں ہیں ان کے علاوہ بھی کچھ شرائط ہیں جن کو تفصیلاً بیان کرنا فتوے میں ممکن نہیں ۔ لہٰذا اگر کسی موقع پر کسی تعویذ کی ضرورت پڑےتو اس کی پوری تفصیلات بتاکر مسئلہ معلوم کرلیا جائے ۔
حوالہ جات
1۔صحيح مسلم (رقم الحدیث 372) میں ہے :
عن عمران بن حصين؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:”يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب قالوا: من هم؟ يا رسول الله! قال هم الذين لا يسترقون. ولا يتطيرون ولا يكتوون. وعلى ربهم يتوكلون .
ترجمہ : رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار ( یعنی کثیر تعداد میں ) افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جونہ دم کراتے ہیں اور نہ فال و شگون لیتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور ( بس ) اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔
صحيح مسلم (رقم الحدیث:374) میں ہے:
حدثنا ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” عرضت علي الأمم، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم ومعه الرهيط، والنبي ومعه الرجل والرجلان، والنبي ليس معه أحد، إذ رفع لي سواد عظيم، فظننت أنهم أمتي، فقيل لي: هذا موسى صلى الله عليه وسلم وقومه، ولكن انظر إلى الأفق، فنظرت فإذا سواد عظيم، فقيل لي: انظر إلى الأفق الآخر، فإذا سواد عظيم، فقيل لي: هذه أمتك ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب”، ثم نهض فدخل منزله فخاض الناس في أولئك الذين يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب، فقال بعضهم: فلعلهم الذين صحبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال بعضهم: فلعلهم الذين ولدوا في الإسلام ولم يشركوا بالله، وذكروا أشياء فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «ما الذي تخوضون فيه؟» فأخبروه، فقال: «هم الذين لا يرقون، ولا يسترقون، ولا يتطيرون، وعلى ربهم يتوكلون»
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو میں نے کسی نبی کے ساتھ چند لوگوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمیوں کو دیکھا اورکسی نبی کے ساتھ ایک بھی امتی نہ دیکھاکہ اسی دوران میرے سامنے ایک بڑی جماعت لائی گئی،میں سمجھا کہ یہ میری امت کے لوگ ہیں لیکن مجھے بتلایا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت ہے۔اور مجھے حکم ہوا کہ آپ دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں ۔میں نے دیکھا تو ایک بڑی جماعت تھی،پھر کہا گیا کہ اب دوسری جانب دیکھیں تو وہاں بھی ایک بَڑی جماعت تھی۔مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت کے لوگ ہیں اور ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو بغیر حساب وعذاب کے جنت میں داخل ہونگے۔پھرآپﷺ منبر سے اترے اور حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے،تو لوگوں میں ان ستر ہزار افراد جو بغیر حساب و عذاب جنت میں داخل ہونگے کے بارے میں بحث مباحثہ شروع ہوگیا(کہ وہ کون لوگ ہونگے؟)کچھ لوگوں نے کہا:یہ وہ لوگ ہیں جنہیں آپﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔کچھ کہنے لگے:یہ وہ لوگ ہیں جو مذہب اسلام پر پیدا ہوئےاور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھرایا اور دیگر لوگوں کا بھی ذکر ہونے لگا کہ اسی دوران آپﷺ تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ تم کس مسئلے پر بحث مباحثہ کر رہے ہو؟جب آپﷺ کو مطلع کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرتے اور نہ دم کرواتے ہیں اور نہ فال و شگون لیتے ہیں اور (بس ) اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔
فتح الملہم (2/264) میں ہے:
قوله هم الذين لا يرقون، إلخ قد أنكر الشيخ تقي الدين بن تيمية هذه الرواية، وزعم أنها غلط من راويها، واعتل بأن الراقي يحسن إلى الذي يرقيه، فكيف يكون ذلك مطلوب الترك؟ وأيضاً فقد رقى جبريل النبي،ورقی النبی أصحابه، وأذن لهم في الرقي، وقال: من استطاع أن ينفع أخاه فليفعل، والنفع مطلوب، قال: وأما المسترقي فإنه يسأل غيره ويرجو نفعه، وتمام التوكل ينافي ذلك، قال: وإنما المراد وصف السبعين بتمام التوكل فلا يسألون غيرهم أن يرقيهم، ولا يكویهم، ولا يتطيرون من شيء.
وأجاب غيره بأن الزيادة من الثقة مقبولة، وسعيد بن منصور حافظ، وقد اعتمده البخاري ومسلم، واعتمد مسلم على روايته هذه، وبأن تغليط الراوي مع إمكان تصحيح الزيادة لا يصار إليه، والمعنى الذي حمله على التغلیط موجود في المسترقي، لأنه اعتل بأن الذي لا يطلب من غيره أن يرقيه : تام التوكل، فكذا يقال له : والذي غيره به ذلك ينبغي أن لا يمكنه منه لأجل تمام التوكل، وليس في وقوع ذلك من جبريل دلالة على المدعی ولا فی فعل النبي ﷺ له أيضاً دلالة؛ لأنه في مقام التشريع وتبيين الأحكام، ويمكن أن يقال: إنما ترك المذكورون الرقی والاسترقاء حسماً للمادة؛ لأن فاعل ذلك لا يأمن أن يكل نفسه إليه، فالرقية في ذاتها ليست ممنوعة وانما منع منها ما كان شركاً، أو احتمله، ومن ثم قال صلی الله عليه وسلم اعرضوا علی رقاکم لا باس بالرقی مالم یکن شرک)ففيه اشارة إلى علة النهى.
ہندیہ(9/169) میں ہے:
«اعلم بأن الأسباب المزيلة للضرر تنقسم إلى مقطوع به كالماء المزيل لضرر العطش والخبز المزيل لضرر الجوع وإلى مظنون كالفصد والحجامة وشرب المسهل وسائر أبواب الطب أعني معالجة البرودة بالحرارة ومعالجة الحرارة بالبرودة وهي الأسباب الظاهرة في الطب وإلى موهوم كالكي والرقية أما المقطوع به فليس تركه من التوكل بل تركه حرام عند خوف الموت وأما الموهوم فشرط التوكل تركه إذ به وصف رسول الله – صلى الله عليه وسلم وآله – المتوكلين وأما الدرجة المتوسطة وهي المظنونة كالمداواة بالأسباب الظاهرة عند الأطباء ففعله ليس مناقضا للتوكل بخلاف الموهوم وتركه ليس محظورا بخلاف المقطوع به بل قد يكون أفضل من فعله في بعض الأحوال وفي حق بعض الأشخاص فهو على درجة بين الدرجتين كذا في الفصول العمادية في الفصل الرابع والثلاثين.»
امداد الاحکام (1/330) میں ہے:
حدیث میں تمائم جاہلیت کی ممانعت ہے جو شرک سے خالی نہ تھے ، اور رقیہ بالقرآن کی اجازت ہے ، کما فی قصة اللديغ الذي رقاه الصحابة واخذوا عليه اجرا من الغنم ، پس چیچک کا گنڈا اور اسی طرح دیگر تعویذات و گنڈے بھی جو آیات و ادعیہ ماثورہ سے کيے جائیں فی نفسہ جائز ہیں ، اگر اس میں کراہت یا حرمت آئے گی تو کسی عارض کی وجہ سے آئے گی ، مثلاً عوام کا عقیدہ خراب ہو جاوے کہ وہ تعویذ و گنڈے کو مؤثر بالذات سمجھنے لگیں تو اس سے منع کیا جائے گا، اور ترک بہر حال اولی ہے ، مسنون صرف یہ ہے کہ ادعیہ و آیات کو پڑھ کر دم کیا جائے، واللہ تعالیٰ اعلم
عملیات و تعویذات کے شرعی احکام (ص35) میں ہے :
احادیث سے افضل اور اکمل حالت یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس کو (یعنی عملیات و تعویذات کو) نہ کیا جائے اور محض دعا پر اکتفا کیا جائے۔ اور ترک رقیہ (یعنی جھاڑ پھونک نہ کرنے ) کی فضیلت ترک دوا سے بھی زائد ہے کیونکہ عوام کے لیے تداوی ( علاج معالجہ ) میں مفسدہ کا احتمال بعید ہے اور جھاڑ پھونک میں نہیں۔
امداد الفتاوی (4/88)میں ہے:
سوال: مجھ کو اس میں شبہ ہوگیا ہے وہ یہ کہ ناجائز جھاڑ پھونک یا کہ جائز جھاڑ پھونک‘ جیسا کہ اکثر دستور ہے کہ قرآن شریف کی آیت سے جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور میں مطلق نہیں کرتا‘ تو یہ خیال میرا خراب تو نہیں ہے، اور کلامِ الہٰی کو کلامِ الہٰی جانتا ہوں ۔ اس سبب سے حضور کو تحریر کیا کہ میرا عقیدہ خراب تو نہیں ہے؟
الجواب: جائز تو ہےمگر افضل یہی ہے کہ نہ کیا جاوے، آپ کا عقیدہ ٹھیک ہے۔
فروع الایمان( ص:29) ميں ہے:
حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے اور بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ جو جھاڑ پھونک ممنوع ہے وہ نہیں کرتے اور بعض نے کہا ہے کہ افضل یہی ہے کہ جھاڑ پھونک بالکل نہ کرے اور بدشگونی یہ کہ مثلاً چھینکنے کو یا کسی جانور کے سامنے سے نکل جانے کو منحوس سمجھ کر وسوسہ میں مبتلا ہوجائیں۔ مؤثر حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہیں، اس قدر وسوسہ نہ کرنا چاہیے۔
فہم حدیث(1/537)میں ہے:
……….. حدیث میں وہ لوگ مراد ہیں جو ناجائز اسباب سے بھی بچتے ہیں اور جائز اسباب جو ظنیات کے درجے میں ہیں ان سے احتیاط کرتے ہیں اور بس اللہ تعالیٰ کے مسبب الاسباب اور مؤثر حقیقی ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور بڑے توکل والے ہیں۔اسی وجہ سے یہ صحابہ قرآنی تعویذ سے بھی پرہیز کرتے تھےورنہ قرآنی تعویذ لکھنا یا گلے میں لٹکانا کسی بھی اعتبار سے شرک کی بات نہیں ہے۔
2۔حوالہ نمبر ۱ :
فتح الباري لابن حجر (10/ 195 ) میں ہے :
«وقد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط: أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته، وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره، وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى»
اوجز المسالک (14/92) میں ہے:
وأجاد قبل ذلك في مسألة العدوى تقريراً أنيقا يليق بشأنه، أعلى الله مراتبه، يزيل الإشكالات الكثيرة في الروايات الواردة في هذا الباب ، فقال في العدوى الظاهر من النظر في الأحاديث التي وردت في أمثال هذه المواضع أن العرب كانت تزعم أن للعدوى تأثيراً في نفسه من غير افتقار إلى مؤثر سواه ، فنفى النبي ﷺ عن العدوى كل نوع من التأثير ، وإن كان لأمثال هذه مدخل في مسبباتها ، وإن كان بإذن منه سبحانه فقولهم إنه سبحانه وضع للنجوم وغيرها تأثيراً بحيث تعطل بعد ذلك ، أي لم يبق له قدرة على الإيجاد والإعدام سبحانه وتعالى، هذا شرك وكفر كما أن القول بأن لها تأثيراً في نفسها من غير أن يضعه الله سبحانه فيها ، وكذا القول بأنه تعالى يضع فيها ، تأثيراً ثم لا يؤثر سبحانه بل التأثير إنما يكون لها ، وفي هذا الوجه له خيار على الخلاف إن شاء ولا كذلك في الوجه الأول ، وكذا الاعتقاد بأن التأثير منه سبحانه وتعالى، إلا أن التخلف لا يمكن عما هو ظاهر حالها ، وأما إنها ليس لها دخل لا بكونها سبباً ولا أمارة فلم يذهب إلى ذلك إلا شرذمة من أهل الظاهر ، والذي ينبغي أن يعتقد عليه القلب أنه تعالى هو المؤثر يفعل ما يشاء حيث شاء ، وإنما أمثال هذه أمارات جرت عادته سبحانه وتعالى أنه يفعل بعد إظهارها ولو شاء لم يفعل من ظهور الأمارات أيضا كما أنه وضع في الأدوية أفعالاً وخواصاً وقد تتخلف عن موجبها كذلك نعتقد في العدوى وتأثيرات العدوى وتأثيرات النجوم وأمطار الأنواء أنه تعالى وضع فيها أثراً من غير أن يكون لها تأثير في إبدائه فأمرها ليس إلا كأمر الأمطار ، إذا تنشأت سحابة فالظاهر منها أن تمطر ومع ذلك فلسنا بالأمطار مستيقنين إلا أن يشاء الله رب العالمین،
امداد الاحکام (4/438) میں ہے:
اولا چند مقدمات ذہن نشین کرنا ضروری ہے:
1-حفاظت اعتقاد سب سے ضروری ہے ۔
2-اہل اسلام میں خصوصاً اہل سنت وجماعت میں کوئی فریق خدا کے سوا کسی شے کو مؤثر بالذات نہیں کہتا۔
امداد الاحکام (4/444) میں ہے:
ساری پریشانیوں کے انتظام سے مقدم حفاظت اعتقاد ہے اور فرار من الطاعون کے جائز کرنے میں حفاظت اعتقاد فوت ہوتی ہے لوگ طاعون کو متعدی اور مؤثر بالذات سمجھ لیں گے اور شریعت اس اعتقاد کا ابطال چاہتی ہے۔
احسن الفتاوی ( 8/255) میں ہے :
احادیث صحیحہ صریحہ کثیرہ سے رقیہ( دم )کا ثبوت بے غبار ہے ، تمیمہ ( تعویذ ) کی مندرجہ ذیل صورتیں ناجائز ہیں : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعویذ کو مؤثر بالذات سمجھا جائے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا اور اب بھی بعض جہال یونہی سمجھتے ہیں۔
یہ صورتیں بلاشبہ ناجائز ، حرام اور شرک ہیں ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/495) میں ہے :
تعویذ گنڈے کے جواز کی تین شرطیں ہیں:
اول:… کسی جائز مقصد کے لئے ہو، ناجائز مقاصد کے لئے نہ ہو۔دوم:… اس کے الفاظ کفر و شرک پر مشتمل نہ ہوں اور اگر وہ ایسے الفاظ پر مشتمل ہوں جن کا مفہوم معلوم نہیں تو وہ بھی ناجائز ہے۔سوم:…ان کو موٴثر بالذات نہ سمجھا جائے۔
حوالہ نمبر ۲ :
حوالہ نمبر ۱کے تحت اوجز المسالک کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔
امداد الفتاوی (4/368) میں ہے :
حدیث بسم الله الذي لا يضر مع اسمه میں بچپن سے اکثر اس دعا کو صبح و شام پڑھا کرتا ہوں، اور اکثر بليات مضر ہ سےمامون رہتا ہوں، لیکن بعض دفعہ شاذ و نادر کچھ گزند مثل چوٹ وغیرہ کے بعد دعا کے بھی پہنچ جاتی ہے تو طبیعت کچھ متزلزل سی ہو جاتی ہے تو اسکو کئی تاویلیں کر کے تسکین دی جاتی ہے، اور تزلزل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ حدیث شریف میں اس دعا کے پڑھنے والے کی نسبت عدم مضرت کا وعدہ آیا ہے ،پچھلے دنوں میں آپ کا وہ رسالہ جس میں سود وغیرہ کی بحثیں ہیں اور ایک بحث تعویذ وغیرہ کی بھی ہے۔۔۔۔ یہ لکھا تھا کہ ادعیہ ،ادویہ ، تعویذ وغیرہ کی تاثیرات قطعی ، ضروری نہیں جو برتقدیرِ تخلف ان کی نسبت بدظنی کی جائے ، اب عرض یہ ہے کہ حدیث مذکورہ بالا کی نسبت ایسا خیال کیا جائےیا نہ؟……..
الجواب : معنی حدیث ِعدم ِمضرت کے یہ ہیں کہ فی نفسہ اس دعا کا یہ اثر ہے اور مؤثر کی تاثیر ہمیشہ مقید ہوتی ہے عدم مانع کے ساتھ پس کسی مانع سے ترتب نہ ہونا نہ اس کے مقتضی ہونے میں خلل ڈالتا ہے اور نہ خبر ِمخبر ِصادق میں کوئی شبہ پیدا کرتا ہے ، اور میں نے جو لکھا ہے عاملین کی ادعیہ کے بارے میں لکھا ہے ، نہ کہ ادعیہ نبویہ میں اور ادویہ واردہ فی الحدیث پر اس کا قیاس صحیح نہیں ، کیونکہ وہ خبر منقول عن الخلق ہے ، بخلاف خبر متعلق ادعیہ کے کہ مستند الی الوحی ہے ۔
اشرف العملیات (ص:80) میں ہے:
اگر عملیات پر جازم (یعنی ایسا پختہ) اعتقاد ہو کہ اس میں ضرور فلاں تاثیر ہے اور اسی پر پوری نظر اور کامل اعتماد ہو جائے تو بھی ناجائز ہے ۔ اور یہی مراد ہے اس حدیث سے ” من تعلق شيئا وكل اليه” اور یہ یقینی بات ہے کہ آج کل اکثر عوام عملیات کو ایسا مؤثر سمجھتے ہیں کہ حق تعالی سے بھی غافل اور بے فکر ہو جاتے ہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/499) میں ہے :
اس ( تعویذ )کے جواز میں تو شبہ نہیں، البتہ تعویذ کی حیثیت کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ بعض لوگ تعویذ کی تاثیر کو قطعی یقینی سمجھتے ہیں، یہ صحیح نہیں، بلکہ تعویذ بھی من جملہ اور تدابیر کے ایک علاج اور تدبیر ہے اور اس کا مفید ہونا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔
حوالہ نمبر ۳ :
صحيح مسلم (رقم الحدیث 2200) میں ہے :
عن عوف بن مالك الأشجعي قال: « كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله، كيف ترى في ذلك؟ فقال: اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك
ترجمہ :حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ ہم جاہلیت کے دور میں ( کچھ پڑھ کر ) دم کرتے تھے ۔ ہم نے پوچھا یارسول اللہ آپ کی اس دم کے بارے میں کیا رائے ہے ؟آپ ﷺنے فرمایا دم کرنے میں جو کچھ تم پڑھتے ہو وہ مجھے بتاؤ ۔ (وہ سن کر آپ ﷺنے فرمایا ) بذات ِخود دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرکیہ کلمہ نہ ہو ۔
کفایت المفتی (9/78) میں ہے :
عملیات جب کہ جائز طریقے سے کیے جائیں ان کا کرنا جائز ہے ، ضروری ہے کہ ان میں غیر اللہ سے استمداد اور غیر معلوم المعنی الفاظ اور غیر اللہ کے لیے نذرو بھینٹ نہ ہو ۔
خیر الفتاوی (1/348) میں ہے :
فقہاء نے تعویذات کے متعلق ضابطہ یہ لکھا ہے کہ قرآنی آیات اور ادعیہ ماثورہ ( مسنون دعائیں ) یا ایسے کلمات جن سے کوئی کفر و شرک لازم نہ آتا ہو بلکہ شرک کا وہم بھی نہ ہوتا ہو ، ایسے دم اور تعویذات کرنا اور اس کا استعمال کرنا شرعاً درست ہے ، اس کے علاوہ شرکیہ کلمات والے تعویذات کا استعمال ناجائز ہے ۔
حوالہ نمبر ۱کے تحت آپ کے مسائل اور ان کا حل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ نمبر ۴ :
فتاوی شامی (600/9) میں ہے :
«ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به»
ترجمہ : تعویذات میں اگر قرآنی آیات یا اسمائے الٰہیہ لکھے ہوں تو ان میں کوئی حرج نہیں ہے……. فقہاء کرامؒ فرماتے ہیں کہ تعویذات اس وقت مکروہ ہوتے ہیں جب وہ عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں ہوں اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ان میں کیا لکھا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ان میں جادو یا کفر یا کوئی اور خلاف شرع بات شامل ہو ۔ اور جو تعویذات آیاتِ قرآنی یا دعاؤں پر مشتمل ہوں ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اشرف العملیات( ص 98)میں ہے:
بعض الفاظ جن کے معنی معلوم نہ ہوں، یا ایسا نقش جس میں ہند سے لکھے ہوں لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ کس چیز کے ہندسے ہیں ، ایسے نقش وتعویذ کا استعمال نا جائز ہے ۔
جیسا کہ اکثر تعویذ لکھنے والوں کا آج کل یہی حال ہے کہ اس نقش کی حقیقت بھی معلوم نہیں ہوتی لیکن ویسے ہی کسی کی تقلید سے یا کسی کتاب و بیاض وغیرہ سے نقل کر کے لکھ دیتے ہیں۔ البتہ جو ( عملیات ) منصوص ہیں (جیسے سورہ واقعہ کا پڑھنا یا حرز ابی دجانہ ؓ ) وہ اس سے مستثنیٰ ہیں اگرچہ ان کے معنیٰ معلوم نہ ہوں ( تب بھی ان کا ستعمال جائز ہے )۔ اسی طرح کسی معتبر عالم بزرگ سے جو نقش منقول ہو جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ ناجائز نقش نہیں کرتے ۔ ان کے بتلائے ہوئے نقش بھی استعمال کرنا جائز ہوگا۔ اگر چہ اس کے معنیٰ معلوم نہ ہوں ، واللہ اعلم۔
مسائل بہشتی زیور (2/462) میں ہے :
عمل اور تعویذ میں اگر ایسے الفاظ ہوں جن کا مطلب معلوم نہ ہو تو اس کو پڑھنا اور استعمال کرنا جائز نہیں ۔
حوالہ نمبر ۵ :
ملفوظات حکیم الامت (8/335) میں ہے :
عملیات بھی دوا کی طرح ایک ظاہری تدبیر ہے ۔ ۔۔۔ عوام عملیات کو ظاہری تدبیر سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ آسمانی اور ملکوتی چیز سمجھ کر کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے عملیات اور تعویذ گنڈوں کے متعلق عوام کے عقائد نہایت برے ہیں ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/495) میں ہے :
بعض لوگ تعویذ کو “روحانی عمل” سمجھتے ہیں، یہ خیال بھی قابل اصلاح ہے، روحانیت اور چیز ہے اور تعویذ وغیرہ محض دنیوی تدبیر و علاج ہے، اس لئے جو شخص تعویذ کرتا ہو اس کو بزرگ سمجھ لینا غلطی ہے۔
حوالہ نمبر ۶ :
مسائل بہشتی زیور (2/462) میں ہے :
جو عملیات دنیا کے واسطے ہوتے ہیں وہ موجب ِثواب نہیں ہوتے ۔ان میں ثواب کا اعتقاد رکھنا بدعت ہے ۔ایسے عملیات کو مسجد میں بیٹھ کر نہیں پڑھنا چاہیے۔
خطبات حکیم الامت (2 /135)میں ہے :
عملیات میں ایک بات قابل لحاظ یہ ہے کہ جو عملیات دنیا کے واسطے ہوتے ہیں وہ موجبِ ثواب نہیں ہوتے (یعنی ان کے کرنے میں ثواب نہیں ملتا )ان میں ثواب کا اعتقاد رکھنا بدعت ہے۔
حوالہ نمبر ۷:
ملفوظات حکیم الامت ( 4/204) میں ہے :
ایک خرابی اس میں یہ دیکھی گئی کہ اکثر لوگ تعویذ گنڈا کرنے والے کی بزرگی کے معتقد ہو جاتے ہیں بالخصوص جس کے تعویذ گنڈوں سے نفع ہو جاتا ہے ،حالانکہ بزرگی سے اس کو کوئی تعلق نہیں یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی طبیب کے کسی نسخے سے مریض کو شفا ہو جائے اور اس کو بزرگ خیال کرنے لگیں مگر تعویذ دینے والے کے معتقد ہیں ، نہ معلوم اس میں اور اس میں کیا فرق کرتے ہیں میرے نزدیک تو کوئی فرق نہیں( دونوں) دنیاوی فن ہیں۔فرق کی وجہ صرف یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکٹر کے علاج کو دنیوی امر سمجھتے ہیں اور عامل کے علاج کو دینی امر سمجھتے ہیں ۔ یہ جہالت اور حقیقت سے بے خبری ہے۔
حوالہ نمبر ۵کے تحت آپ کے مسائل اور ان کا حل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ نمبر ۸ :
ہندیہ (9/109) میں ہے:
«رجل يبيع التعويذ في المسجد الجامع ويكتب في التعويذ التوراة والإنجيل والفرقان ويأخذ عليه المال ويقول: ادفع إلي الهدية. لا يحل له ذلك، كذا في الكبرى.ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد، ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي.»
امداد الفتاویٰ (4/605) میں ہے:
سوال: ختم خواجگان کا (جو صوفیوں کا ایک طریقہ ہے قضائے حاجات دینی وجائز حاجات دنیاوی کے لئے) پڑھنا مسجد میں جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: باجرت ناجائز ہے اور بلا اجرت اتفاقاً جائز اور اعتیاداً ناجائز یہ تفصیل حاجات دنیویہ کے متعلق ہے اور حاجات دینیہ میں مثال کی ضرورت ہے۔
اشرف العملیات ( ص31) میں ہے :
اسی طرح ایسے عملیات ( جو دنیاوی کاموں کے لیے کیے جائیں۔ ناقل) کو مسجد میں بیٹھ کر نہ پڑھنا چاہیے اور نہ اس قسم کے تعویذ مسجدمیں بیٹھ کر لکھنے چاہییں ۔
عملیات و تعویذات کے شرعی احکام (ص34) میں ہے :
حضرت حاجی صاحب ( حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ )کی خدمت میں ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ مسجد میں پاخانہ کر رہا ہوں۔ حاجی صاحب ؒ نے فورا ارشاد فرمایا کہ تم مسجد میں کوئی عمل دنیا کے واسطے پڑھتے ہوگے اس نے اقرار کیا ۔آپ نے فرمایا کہ دنیا کے واسطے مسجد میں وظیفے نہ پڑھنا چاہیے۔ علوی عملیات کے جائز ہونے کے اتنے شرائط ہیں۔ یہ مسائل آپ نےکبھی نہ سنے ہوں گے۔
اصلاحی خطبات (مفتی تقی عثمانی صاحب ،15/58)میں ہے:
قرآن کریم کی آیات کو اورقرآن کریم کی سورتوں کو اور اللہ تعالی کے ناموں کو اپنے کسی دنیوی مقصد کے لئے استعمال کرنا زیادہ سے زیادہ جائز ہے،لیکن یہ کام عبادت نہیں اور اس میں ثواب نہیں ہے ،جیسے آپ کو بخار آیا اور آپ نے دوا پی لی ،تو یہ دوا پینا جائز ہے ،لیکن دوا پینا عبادت نہیں ،بلکہ ایک مباح کام ہے ،اسی طرح تعویذ اور جھاڑ پھونک میں اگرچہ اللہ کا نام استعمال کیا ،لیکن جب تم نے اس کو اپنے دنیاوی مقصد کے لئے استعمال کیا تو اب یہ بذا ت خود ثواب اور عبادت نہیں۔
مسائل بہشتی زیور (2/193) میں ہے:
اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ جو کام نہ طاعت ہو نہ معصیت ہو بلکہ مباح ہو خاص اس کے لیے مسجد میں جانا مکروہ ہے اور اگر پہلے سے مسجد میں حاضر ہے اور اتفاقا اس مباح کی حاجت پیش آئی اور محض اس کی نیت سے مسجد میں نہیں گیا تھا بلکہ عبادت یا درس کے لیے گیا تھا اور وہاں اس مباح کو بھی کر لیا جبکہ وہ کام کثیر نہ ہو تو جائز ہے۔
مسائل بہشتی زیور (2/462) میں ہے :
جو عملیات دنیا کے واسطے ہوتے ہیں وہ موجب ِثواب نہیں ہوتے ۔ان میں ثواب کا اعتقاد رکھنا بدعت ہے ۔ایسے عملیات کو مسجد میں بیٹھ کر نہیں پڑھنا چاہیے۔
حوالہ نمبر ۹ :
امداد المفتین(2/215) میں ہے :
سوال : عملیات میں یوم اور وقت کا تعین منجانب اللہ ہے یا اس کا تعلق کواکب سے ہے اور اس کا لحاظ شرعا کیسا ہے ؟
الجواب : اکثر عملیات میں وقت اور یوم کا تعین منجانب اللہ نہیں بلکہ محض تجربہ کی بنیاد پر لوگوں نے یہ تعینات کئے ہیں اگر ان اوقات و حالاتِ خاصہ کو مؤثر بالذات نہ سمجھے بلکہ ایسا معین سمجھے جیسے دھان مونجی ہونے کے لئے برسات کا موسم متعین کیا جاتا ہے اور کسی کام کے لئے جاڑے کا موسم کسی کے لئے گرمی کا تو ان تعینات میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔
التقی فی احکام الرقی (ص 25)میں ہے :
فی المشکاۃ باب الکہانۃ : عن أبى هريرة عن رسول الله صلی الله عليه وسلم مَا أَنْزَلَ الله مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِّنَ النَّاسِ بها کافرین ینزل الله الغیث فیقولون بکواکب. کذا رواه مسلم. اس سے ثابت ہوا کہ کواکب کی تاثیر غیبی کا قائل ہونا ایک گونہ کفر ہے۔ اکثر عملیات میں ساعت یا دن کی قید ہوتی ہے، جس کی رعایت بعض عامل کرتے ہیں ، بعض عامل مہینہ کے عروج ونزول کا لحاظ کرتے ہیں اور ان سب کی بنیاد وہی نجوم کی تاثیر کا اعتقاد ہے۔ یہ حدیث اس کو باطل اور معصیت ٹھہراتی ہے۔
حوالہ نمبر ۱۰ :
ملفوظات حکیم الامت (5/425)میں ہے :
بعض لوگوں کو تعویذ کے بارے میں عقیدہ میں غلو ہوتا ہے کہ ضرور نفع ہوگا اور اگر نہ ہوا تو اسمائے الٰہیہ سے غیر معتقد ہو جاتے ہیں،حالانکہ تعویذ پر جو آثار مرتب ہوتے ہیں وہ منصوص نہیں اور نہ ان کا کہیں وعدہ ہے، یہ سب گڑ بڑ جاہل عاملوں کی بدولت پیدا ہورہی ہے ۔اس کی وجہ سے عوام کے عقائد بہت خراب ہورہے ہیں جن کی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ فرمایا : کج فہم ( یعنی کم عقل جاہل) کو تعویذ وغیرہ نہ دینا چاہیے۔
حوالہ نمبر ۱۱ :
مسائل بہشتی زیور ( 2/462) میں ہے :
اور اگر مقصد ناجائز ہے مثلاًکسی اجنبی عورت کو مسخر کرنے کے واسطے پڑھا ہے تو حرام ہے کیونکہ اگر بلا نکاح ہی مسخر کرنا مقصود ہے تب تو حرام ہے اور اگر نکاح کے لیے مسخر کرنا ہے تو چونکہ اس شخص سے نکاح کرنا اس عورت کے ذمہ واجب نہیں ہے یہ بھی جائز نہیں ہے ۔
التقی فی احکام الرقی بحوالہ اشرف العملیات (ص 110 )میں ہے :
ناجائز اغراض و مقاصد کے لیے تعویذ لینا دینا دونوں ناجائز ہیں:
عملیات میں فاسد ، ناجائز غرض ہو تو اگر چہ وہ عملیات فی نفسٖہ جائز ہوں لیکن اس ناجائز مقصد کی وجہ سے وہ نا جائز ہو جائے گا۔ اس میں بھی بکثرت لوگ مبتلا ہیں ۔
حوالہ نمبر ۱۲ :
امداد الفتاوی(4/89) میں ہے :
سوال : بیوہ عورت کو کوئی عمل پڑھ کر نکاح کی خواہش کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ کوئی عمل قرآن سے پڑھ کر بیوہ عورت کو کھلانا واسطے نکاح کے جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: عمل باعتبار اثر کے دو قسم کے ہیں ، ایک قسم یہ کہ جس پر عمل کیا جاوے وہ مسخر اور مغلوب المحبّت ومغلوب العقل ہو جاوے ایسا عمل اس مقصود کے لئے جائز نہیں جو شرعاً واجب نہ ہو، جیسے نکاح کرنا کسی معیّن مرد سے کہ شرعاً واجب نہیں ، اس کے لئے ایسا عمل جائز نہیں۔ دوسری قسم یہ کہ صرف معمول کو اس مقصود کی طرف توجہ بلا مغلوبیت ہوجاوے، پھر بصیرت کے ساتھ اپنے لئے مصلحت تجویز کرلے، ایسا عمل ایسے مقصود کے لئے جائز ہے اس حکم میں قرآن وغیر قرآن مشترک ہیں ۔
احکام الجاہ( ص 39) بحوالہ اشرف العملیات( ص 87 )میں ہے :
کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور وہ نہیں چاہتی، اور اس پر(اس عورت سے) نکاح کرنا واجب بھی نہیں ، تو اس نے کسی سے تعویذ کر ایا اس غرض سے کہ وہ نکاح کرلے، تو یہ بھی جائز نہیں ، نہ ایسا تعویذ دینا جائز ہے، کیوں کہ اس میں بھی عامل کی قوت خیالیہ کا اثر ہوتا ہے اور قلب سے کسی کو مجبور کرنا جائز نہیں ۔
حوالہ نمبر ۱۳ :
مسائل بہشتی زیور (2/461) میں ہے :
تعویذ اورعمل میں یہ تفصیل ہے کہ اگر ان میں شیاطین سے استعانت ہو تو ہر حال میں حرام ہے خواہ مقصود اچھا ہو یا برا ہو ۔
حوالہ نمبر ۱۴ :
ملفوظات حکیم الامت( 4/107 )بحوالہ اشرف العملیات (ص 91 )میں ہے :
جنات کا وجود تو یقینی ہے، اور وہ مسخر بھی ہو جاتے ہیں لیکن ان کا مسخر ( یعنی تابع کرنا )جائز نہیں، کیوں کہ اس میں غیر کے قلب پر شرعی ضرورت کے بغیر بالجبر تصرف ہوتا ہے، اور یہ نا جائز ہے۔
التقی فی احکام الرقی (ص 29 )بحوالہ اشرف العملیات( ص129 )میں ہے :
بعض لوگ مؤکلوں کو تابع کرتے ہیں، جس کی حقیقت یہ ہے کہ عمل کے زور سے جنات اس شخص کی خدمت کرنے لگتے ہیں، سو اس طرح کسی سے خدمت لینا کہ اس کی طیب خاطر (دلی رضامندی) نہ ہو، حرام ہے، اور دلی رضا مندی نہ ہونے کے قرائن میں سے یہ بھی ہے کہ وہ جنات اُس عامل کو خوب ڈراتے اور دھمکاتے ہیں تا کہ وہ عمل چھوڑ دے اور بعضوں کو موقع پا کر ہلاک بھی کر دیتے ہیں ۔
معارف القرآن(7/268) میں ہے :
خلاصہ یہ ہے کہ جنات کی تسخیر اگر کسی کے لئے بغیر قصد و عمل کے محض منجانب اللہ ہو جائے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) اور بعض صحابہ کرام کے متعلق ثابت ہے وہ تو معجزہ یا کرامت میں داخل ہے، اور جو تسخیر عملیات کے ذریعہ کی جاتی ہے اس میں اگر کلمات کفریہ یااعمال کفریہ ہوں تو کفر، اور صرف معصیت پر مشتمل ہوں تو گناہ کبیرہ ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اگر یہ عمل تسخیر اسماء الہیہ یا آیات قرآنیہ کے ذریعہ ہو اور اس میں نجاست وغیرہ کے استعمال جیسی کوئی معصیت بھی نہ ہو ، تو وہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ مقصود اس سے جنات کی ایذاء سے خود بچنا یا دوسرے مسلمانوں کو بچانا ہو، یعنی دفع مضرت مقصود ہو، جلب منفعت مقصود نہ ہو ، کیونکہ اگر اس کو کسب مال کا پیشہ بنایا گیا تو اس لئے جائز نہیں کہ اس میں استرقاق حر یعنی آزاد کو اپنا غلام بنانا اور بلاحق شرعی اس سے بیگار لینا ہے، جو حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ نمبر ۱۵ :
ملفوظات حکیم الامت (5/425)میں ہے :
فرمایا : کج فہم ( یعنی کم عقل جاہل) کو تعویذ وغیرہ نہ دینا چاہیے۔ اگر کوئی اثر ظاہر نہ ہو تو سمجھتا ہے کہ اسمائے الٰہیہ یا کلام الٰہی میں بھی تاثیر نہیں، حالانکہ اس تا ثیر کا نہ وعدہ کیا گیا ہے نہ دعوی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اگر اتفاق سے آیت یا حدیث سے کامیابی نہ ہوئی اور معمولی عملیات سے ہوگئی تو اس سے اور بھی عقیدے میں فساد ہوگا کہ معمولی عملیات کو قرآن وحدیث سے زیادہ بابرکت سمجھے گا ۔
حوالہ نمبر ۱۶ :
امداد الفتاویٰ (4/486) میں ہے:
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ سونے چاندی کے تعویذ خصوصًا لڑکیوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: نہیں ۔ لأنه کالاٰنية لا کالحلية
احسن الفتاوی ( 8/255) میں ہے :
احادیث صحیحہ صریحہ کثیرہ سے رقیہ( دم )کا ثبوت بے غبار ہے ، تمیمہ ( تعویذ ) کی مندرجہ ذیل صورتیں ناجائز ہیں :
ٹوٹکا جو پیتل ، تانبے یا لوہے وغیرہ کے ٹکڑے کو باندھ کر کیا جاتا ہے ۔
مسائل بہشتی زیور (2/462) میں ہے :
سونے چاندی کے تعویذ کا استعمال نہ مردوں کے لیے جائز اور نہ عورتوں اور لڑکیوں کے لیے کیونکہ تعویذ کا خول برتن کے حکم میں ہے۔
مسائل بہشتی زیور (2/446)میں ہے :
لوہے ،تانبے،پیتل،اور رانگ کی بنی ہوئی انگوٹھی مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے پہننا نا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved