- فتوی نمبر: 36-348
- تاریخ: 19 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تشبہ کا بیان
استفتاء
حفظ کے دوران پڑھتے ہوئے سبق سناتے ہوئے یا یادکرتے ہوئے بچے ہلتے ہیں کیا یہ عمل یہودیوں کے مشابہ ہے ؟ اس بات کی تحقیق مطلوب ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآن پڑھتے ہوئے یا سناتے ہوئے ہلنے کا عمل یہودیوں کے مشابہ نہیں ہے ۔
توجیہ: بعض احادیث میں نماز میں اِدھر اُدھر ہلنے/مائل ہونے کو یہود کا عمل کہا گیا ہے تاہم ایک تو یہ نماز تک محدود ہے دوسرے ہمارے ہاں یہودیوں کا یہ عمل معروف نہیں جس کی وجہ سے مشابہت کی طرف عام طور سے دھیان جائے تیسرے اس کا عام عرف ہے اور جس چیز کا عام عرف ہو جائے وہ مشابہت سے نکل جاتی ہے۔
فيض القدير ، للمناوی (1/ 413) میں ہے:
«إذا قام أحدكم إلى الصلاة) أي دخل فيها بدليل قوله الآتي في الصلاة (فليسكن أطرافه) أي يديه ورجليه يعني لا يحركهما (ولا يتميل كما تتميل اليهود) أي لا يعوج يديه يمينا وشمالا لا كما يفعلونه في صلاتهم
(فإن تسكين) الثابت في أصول الحكيم الصحيحة فإن سكون (الأطراف من تمام الصلاة) أي من تمام هيئاتها ومكملاتها بل إن كثر التحرك كثلاث متوالية أبطل عند الشافعي. وذلك لأن الوقوف في الصلاة وقوف ذل وتخشع وقد أثنى الله على الخاشع فيها والخشوع البالغ الموجب للثناء خشوع القلب ومن لازمه خشوع الجوارح وقد يصلي المصلي بجوارحه وليس بخاشع فخشوع القلب هو المطلوب. وتمايل اليهود غير ناشئ عن خشوع قلوبهم بل سببه فيما قيل أنه أوحي إلى موسى أن هذه التوراة صارت في حجر بني إسرائيل ولا تكاد تعظمها فحلها بذهب لم تمسه الأيدي فأنزلت عليه الكيميا فحلاها بها فكان إذا قرأها تلذذ بها وهاجت اللذة فيتمايل طربا على كلام ربه فاستعملها اليهود بعده على خراب القلوب وخلاء الباطن. فهذا هو المشار إلى النهي عنه في الحديث.»
التيسير بشرح الجامع الصغیر، للمناوی (1/ 119) میں ہے:
«(إذا قام أحدكم إلى الصلاة فليسكن أطرافه) أي يديه ورجليه يعني لا يحركها بل يصير نفسه جمادا مجمدا لا يتحرك منه شيء (ولا يتميل كما تتميل اليهود) أي لا يعوج بدنه يمينا وشمالا كما يفعلونه ثم علل ذلك بقوله (فإن تسكين) وفي رواية سكون (الأطراف في الصلاة من تمام الصلاة) أي من تمام هيآتها ومكملاتها وسبب تمايل اليهود في الصلاة أن موسى كان يعامل بني إسرائيل على ظاهر الأمور فكان يعظم الأمور ولهذا أمر بتحلية التوراة بالذهب وقال السهروردي إنما كان يتمايل لأنه يرد عليه الوارد في صلاته وحال مناجاته فيموج به باطنه كتموج بحر ساكن يهب عليه الريح فكان تمايل تلاطم أمواج بحر القلب إذا هبت عليه نسمات الفضل فرأى اليهود ظاهره فتمايلوا من غير حظ لبواطنهم»
حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ ، لنجم الدين العامری، ت: ۱۰۶۱ھ (7/ 516) میں ہے:
التَّميل في الصلاة.
روى الحكيم الترمذي في “نوادره”، وابن عدي في “كامله”، وأبو نعيم في “حليته” عن القاسم بن محمد، عن أسماء بنت أبي بكر، عن أم رومان والدة عائشة رضي الله تعالى عنهم قالت: رآني أبو بكر الصديق رضي الله تعالى عنه أتميل في صلاتي، فزجرني زجرة كدت أنصرف من صلاتي، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إذا قام أحدكم إلى الصلاة فليسكن أطرافه، ولا يتميل كما يتميل اليهود؛ فإن تسكين الأطراف في الصلاة من تمام الصلاة
وعلى هذا: فالتميل عند قراءة القرآن، أو عند سماعه إذًا كان تصنعاً ورياءً، أو على سبيل العبث، فهو شبيه بتميل اليهود عند سماع التَّوراة.وإذا كان لغرض التفسح في نفس القارئ لو كان في قراءته أو سماعه متدبرًا لمعانيه، فأثر فيه التدبر هذه الحركة عن طرب، أو رغبة أو رهبة، فهذه حركة محمودة لا بأس بها.
الکوکب الدری (2/136) میں ہے:
[باب في كراهية إشارة اليد في السلام] أي مكتفيًا بها مقتصرًا عليها، فأما إذا كان التلفظ بلفظ التسليم أيضًا فلا وبذلك يعلم أن التصرف في شيء بالنقص والزيادة يخرجه عن التشبه
امداد الفتاوی (4/268) میں ہے :
سوال: اس ملک میں اُن لوگوں کا لباس اور وضع قطع اختیار کرنا کس قسم کا گناہ ہے؟ اگر آدمی شوق سے نہیں، بلکہ اس ضرورت سے اُن کا ظاہری لباس اور وضع قطع اختیار کرے کہ عوام کی نظر میں ایک انوکھا اور برا نہ معلوم ہو، اور لوگوں کو اس کی طرف انگشت نمائی نہ ہو اور شہر کے بچے اس پر ہنسے نہیں، تو کیا اس گناہ کی اہمیت کم ہوجاتی ہے، کس حد تک اجازت ہے؟
جواب: میں اس باب میں یہ سمجھے ہوئے ہوں کہ جس جگہ یہ لباس قومی ہے، جیسے ہندوستان میں، وہاں اس کا پہننا “من تشبه بقوم” میں داخل ہے، اور جہاں ملکی ہے، جس کی علامت یہ ہے کہ وہاں سب قومیں اور سب مذاہب کے لوگ ایک ہی لباس پہنتے ہیں، وہاں پہننا کچھ حرج نہیں۔ اب اس معیار پر آپ وہاں کی حالت خود ملاحظہ فرمائیں۔”
کفایت المفتی (9/164) میں ہے:
سوال: انگریزی بال، ہیٹ، کوٹ پتلون یہ چیزیں تشبہ بالقوم میں داخل ہیں یا نہیں ؟ نیز تشبہ صرف ہئیت مجموعی میں ہو گا یا جز سے بھی ہوجائے گا؟
جواب: ان میں سے ہر چیز تشبہ کے لئے کافی ہے مگر تشبہ کا حکم اسی صورت میں ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اسے دیکھ کر اس شبہ میں پڑ جائے کہ یہ شخص اس قوم کا فرد ہے مثلا ً ہیٹ لگانے والے کو کرسٹن سمجھا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved