- فتوی نمبر: 31-323
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
ایک سوال پوچھنا تھا کہ کیا کھڑے ہو کر ہم پانی پی سکتے ہیں یا نہیں؟اگر کھڑے ہو کر پانی پی سکتے ہیں تو حدیث نمبر اور کتاب کا نام بھی بتا دیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عام حالات میں کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ تنزیہی ہے البتہ کوئی عذر ہو تو مکروہ تنزیہی بھی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض احادیث سے کھڑے ہو کر پانی پینے کی کراہت معلوم ہوتی ہے اور بعض سے جواز معلوم ہوتا ہے۔ اہل علم حضرات نے ان دونوں طرح کی احادیث میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ کھڑے ہوکر پانی پینے کی احادیث کسی نہ کسی عذر پر محمول ہیں۔
صحیح مسلم (رقم الحدیث:2025) میں ہے:
عن أبى سعيد الخدرى رضى الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشرب قائما
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے روکا ہے۔
صحیح مسلم (رقم الحدیث: 2026) میں ہے:
عن أبي هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يشربن أحد قائما، فمن نسي فليستقئ
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہوکر نہ پیئے ، اگر کوئی بھول کر پی لے تو چاہیے کہ وہ قے کردے۔
صحیح مسلم (رقم الحدیث: 2027) میں ہے:
عن ابن عباس رضی الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب من زمزم وهو قائم
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے زمزم سے پیا اس حال میں کہ آپﷺ کھڑے ہوئے تھے۔
شرح معانی الآثار (رقم الحدیث:2100) میں ہے:
عن ابن عمر رضى الله عنه قال كنا نشرب ونحن قيام على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانے میں کھڑے ہو کر پیتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ(رقم الحدیث:24130) میں ہے:
عن أنس: ” أن النبي صلى الله عليه وسلم: دخل على أم سليم، وفي البيت قربة معلقة، فشرب من فيها وهو قائم “
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ ام سلیم ؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا پس آپﷺ نے اس مشکیزے سے کھڑے ہوکر پانی پیا۔
عمدۃ القاری(9/278)میں ہے:
حتى قال فيها أقوالا باطلة، والصواب منها: أن النهي محمول على كراهة التنزيه، وأما شربه قائما فلبيان الجواز، ومن زعم نسخا فقد غلط، فكيف يكون النسخ مع إمكان الجمع
فیض القدیر(6/340) میں ہے:
قال القاضي: هذا النهي من قبيل التأديب والإرشاد إلى ما هو الأخلق والأولى وليس نهي تحريم حتى يعارضه أنه فعل ذلك مرة أو مرتين وفي حديث أنه أمر في خبر من شرب قائما أن يستقثه وشربه قائما مؤول بأنه لم يجد محلا للقعود لازدحام الناس على زمزم أو ليري الناس أنه غير صائم أو لابتلال المحل أو لبيان الجواز وقال الطيبي: وزعم النسخ أو الضعف غلط فاحش وكيف يصار إليه مع إمكان الجمع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved