- فتوی نمبر: 32-257
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
کیا کولسن(Kolson) کمپنی کی Potato Sticks (پوٹاٹو اسٹکس) کھانا حلال ہے؟ ریپر اور اس پر درج اجزائے ترکیبی کی تصویر ارسال ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پاکستانی کمپنی کولسن(Kolson) کی بنی ہوئیPotato Sticks(پوٹاٹو اسٹکس) کے مرسلہ پیکٹ پرجو اجزائے ترکیبی درج ہیں ان میں سے کسی جز ءکے حرام ہونے پر کوئی قابل اعتبار دلیل موجود نہیں ہے لہذا جب تک مذکورہ Potato Sticks میں کسی حرام جزء کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنےنہیں آتی اس وقت تک اس Potato Sticks کا کھانا حلال ہے۔
توجیہ: آج کل بازار میں دستیاب مذکورہ کولسن(Kolson)کمپنی کے بنے ہوئے مذکورہ Potato Sticks(پوٹاٹو اسٹکس) کے پیکٹ پر14اجزائے ترکیبی درج ہیں ۔ان 14 اجزاء میں سے 9نباتاتی ،3معدنی ، 1حیوانی اور1مصنوعی ہیں۔ان اجزاء کی تفصیل اور ان كا حکم درج ذیل ہے:
نباتاتی اجزاء:
1۔Corn Grits (مکئی کا دلیہ)
2۔Semolina (سوجی)
3۔Shugar (چینی)
4۔Black pepper (کالی مرچ)
5۔Cumin powder (پسا ہوا زیرہ)
6۔Coriander powder (پسا ہوا دھنیا)
7۔E-330 (سٹرک ایسڈ پھلوں سے حاصل ہوتا ہے)
8Palm oil- (تاڑ [کھجور سے مشابہ ایک درخت کے پھل] اور اس کی گھٹلی سے حاصل شدہ تیل)
9Potato flakes- (آلو کے باریک ذرات)
نباتاتی اجزاء کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جزء نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں۔
معدنی اجزاء:
1۔Salt (نمک)
2۔ Black salt(کالا نمک)
3۔ E-102 ٹارٹرزائن(tartrazine)۔ آکسفورڈ انگلش اُردو ڈکشنری کے مطابق یہ ایک شوخ چمکیلا زرد رنگ کا مادہ ہے جو کھانوں،دواؤں اور آرائش کے سامان میں استعمال ہوتا ہے ۔
نوٹ: Wikipediaویب سائٹ کے مطابق ‘‘ کول تار سے بننے والی چیزوں میں tartrazineE102 (ٹارٹازائن ) بھی شامل ہے۔
معدنی اجزاء کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب حلال اور پاک ہیں ،لہذا نمک اور tartrazine (ٹارٹرزائن) حلال اور پاک ہیں۔
حیوانی اجزاء:
Chicken powder (چکن پاؤڈر)
حیوانی اجزاء کا حکم یہ ہے کہ یہ اگر حلال اور شرعی طریقہ سے مذبوض جانور سے حاصل کیے گئے ہوں اور حلال جانور کے ان اجزاء میں سے بھی نہ ہوں کہ جن کا کھانا حلال نہیں تو یہ اجزاء پاک اور حلال ہوں گے مذکورہ صورت میں جو حیوانی جزء ہے وہ چونکہ مرغی سے حاصل کیا گیا ہے اور مرغی حلال جانور ہے۔نیز مذکورہ صورت حال چونکہ اسلامی ملک کی ہے جہاں اسے شرعی طریقہ سے ذبح شدہ مرغی سے حاصل کیے جانے کا غالب گمان ہے لہذا اس جزء کو بھی حلال کہا جائے گا ۔
مصنوعی اجزاء:
E-635 سوڈیم رائبو نیوکلیٹائڈ(Sodium Ribonucleotide)
مصنوعی اجزاء بھی در حقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء(نباتاتی،معدنی اور حیوانی) میں سےکسی ایک سے یا ایک سے زائد سے ہی تیارہوتے ہیں ان سے ہٹ کرکسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے ، اس لیئے مصنوعی اجزاءکا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس Potato Stick میں ان میں سے کون سا مصنوعی فلیور استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن جب تک یہ معلوم نہ ہوسکے کہ یہ مصنوعی اجزاء کسی حرام یا ناپاک چیز سے تیار کیے گئے ہیں اس وقت تک انہیں یا جس مصنوع (پروڈکٹ )میں یہ اجزاء شامل ہیں اسے حرام نہیں کہا جاسکتا۔مذکورہ صورت میں چونکہ ان اجزاء کےکسی حرام یا ناپاک اشیاء سے تیار ہونے کا علم یا غالب گمان نہیں اس لیئے ان مصنوعی اجزاء کی وجہ سے مذکورہ مصنوع (پروڈکٹ) کو حرام نہیں کہا جائے گا بلکہ “الاصل فى الاشياء الاباحة” کے اصول کے پیش نظر انہیں حلال کہا جائے ا۔۔لہذا جب تک مذکورہ Potato Stick میں کسی حرام جزء کے شامل ہونے کا علم یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک اسے حلال کہا جائے گا۔
نوٹـ مصنوعی جزء کے حیوان سے حاصل ہونے کا احتمال شبہۃ الشبہۃ کا درجہ رکھتا ہے ا س لیے اس کا اعتبار نہ ہوگا،کیونکہ اس مصنوعی جزء کا حیوانی ہونا یقینی نہیں ہے بلکہ اس کے حیوانی ہونے کاصرف شبہ ہے پھر حیوانی ہونے کی صورت میں اس کے حیوان غیر مأکول اللحم یا غیر شرعی ذبیحہ کا جزءہونا یقینی نہیں ہے بلکہ اس کا بھی شبہ ہے ،لہذا مصنوعی جزء کو حیوانی ماننے کی صورت میں اس کے حرام ہونے کاشبہۃ الشبہۃ ہے اور شریعت میں حرام کے شبہہ کا اعتبار ہے اور اس سے بچنے کا حکم ہے حرام کے شبہۃ الشبہۃ کا اعتبار نہیں ہے اور ا س سے بچنا لازمی نہیں ہے۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer)کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
صحیح بخاری (رقم:5507) میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها: «أن قوما قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكر اسم الله عليه أم لا، فقال: سموا عليه أنتم وكلوه» قالت: وكانوا حديثي عهد بالكفر
فتح الباری (9/ 635) میں ہے:
«ويستفاد منه أن كل ما يوجد في أسواق المسلمين محمول على الصحة وكذا ما ذبحه أعراب المسلمين لأن الغالب أنهم عرفوا التسمية»
تبیین الحقائق(6/219) میں ہے:
’’ألا ترى أن أسواق المسلمين لا تخلو عن المحرم من مسروق ومغصوب، ومع ذلك يباح التناول اعتمادا على الظاهر‘‘
ہندیہ5/340) میں ہے:
أكل الطين مكروه، هكذا ذكر في فتاوى أبي الليث – رحمه الله تعالى – وذكر شمس الأئمة الحلواني في شرح صومه إذا كان يخاف على نفسه أنه لو أكله أورثه ذلك علة أو آفة لا يباح له التناول، وكذلك هذا في كل شيء سوى الطين، وإن كان يتناول منه قليلا أو كان يفعل ذلك أحيانا لا بأس به، كذا في المحيط
بہشتی زیور (ص:775) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:770) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضرہو یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
امداد الفتاوی(4/96)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved