• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا مونچھیں رکھنا حرام ہے؟

استفتاء

کیا مونچھیں رکھنا حرام ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مونچھیں رکھنا  حرام تو نہیں لیکن اتنی بڑی بھی نہیں ہونی چاہئیں کہ منہ میں آرہی ہوں یافاسق فاجر لوگوں سے مشابہت ہورہی ہو۔

سنن  ترمذی (4/ 471) میں ہے:

عن زيد بن أرقم، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من لم يأخذ من شاربه فليس منا».

الكوكب  الدری على جامع  الترمذی (3/ 402) میں ہے:

«قوله [من لم يأخذ من شاربه فليس منا] لكونه تزيا بغيرنا.»

فتح الباری (10/347) میں ہے:

وقال القرطبي ‌وقص ‌الشارب ‌أن ‌يأخذ ما طال على الشفة بحيث لا يؤذي الأكل ولا يجتمع فيه الوسخ

مرقاۃ المفاتیح (8/155) میں ہے:

(من تشبه بقوم) : أي ‌من ‌شبه ‌نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار

فتاویٰ محمودیہ (6/132) میں ہے:

سوال : اگر امام حافظ ہو اور وہ بڑی بڑی مونچھیں رکھتا ہو جن سے ہونٹ ڈھکے ہوئے ہوں اس کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟ داڑھی میں مونچھ رکھتا ہے ۔

جواب : اتنی بڑی مونچھ رکھنا جس سے ہونٹ بالکل ڈھک جائے حدیث شریف کے خلاف اور مکروہ ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل (7/81) میں ہے:

س… ایک شخص کی مونچھیں اتنی بڑی ہیں کہ پانی وغیرہ پیتے وقت مونچھیں اس پانی وغیرہ کے ساتھ لگ جاتی ہیں، تو ایسی مونچھوں اور اس پانی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟

ج… اتنی بڑی مونچھیں رکھنا شرعاً گناہ ہے، حدیث میں آتا ہے:

عن زید بن أرقم رضی الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: من لم یأخذ من شاربه فلیس منّا (مشکوٰة ص:381)

          ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جو شخص مونچھیں نہیں تراشتا وہ ہم میں سے نہیں۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل (7/75) میں ہے:

مونچھیں کٹوانا اور داڑھی رکھنا مسلمانوں کا شعار ہے، اس کے برعکس مونچھیں بڑھانا اور داڑھی منڈانا مجوسیوں اور مشرکوں کا شعار ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو مسلمانوں کا شعار اپنانے اور مجوسیوں کے شعار کی مخالفت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اسلامی شعار کو چھوڑ کر کسی گمراہ قوم کا شعار اختیار کرنا حرام ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 “من تشبه بقوم فهو منهم  (الجامع الصغير)

          ترجمہ: جو شخص کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved