- فتوی نمبر: 36-155
- تاریخ: 29 اگست 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > متفرقات عقائد و نظریات
استفتاء
کیا یہ دعوی درست ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معیار حق ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ دعوی درست ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے” معیار حق” ہونے كا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قرآن وسنت سے حق و باطل کی پہچان ہوتی ہے اسی طرح حضرات صحابہ کرامؓ کی جماعت بھی حق و باطل کی پہچان کا ذریعہ ہیں،لہذا جس طرح جس شخص کا جو عقیدہ یا عمل قرآن و سنت سے ہٹا ہوا ہونے کی وجہ سے حق سے ہٹا ہوا کہلائے گا اسی طرح جس شخص کا عقیدہ و عمل حضرات صحابہ کرامؓ سے ہٹا ہوا ہوگا وہ حق سے ہٹا ہوا ہوگا۔نیز جس طرح قرآن کے صحیح فہم کے لیے حدیث ضروری ہے اسی طرح قرآن وحدیث دونوں کے صحیح فہم اور عملی تفسیر کے لیے حضرات صحابہ کرامؓ کی قولی وفعلی زندگی ضروری ہے۔
حضرات صحابہ کرامؓ کے عقیدہ وعمل میں معیار حق ہونے اور قرآن و حدیث کے فہم میں معیار ہونے کے مختصر دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
دلیل نمبر1:قرآن مجید سورۃ البقرہ آیت نمبر:137،میں ہے:
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا﴾
ترجمہ:سو اگر وہ(یہود و نصاری)بھی اسی طریقے سے ایمان لے آئیں جس طریقے سے تم (اہل اسلام)ایمان لائےہو تو وہ بھی راہ حق پر لگ جائیں گے۔
تشریح:مذکورہ آیت میں “آمَنْتُمْ” کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ ہیں، اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ومعتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے اختیار فرمایا جو اعتقاد اس سے سرمو مختلف ہو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ۔ (ماخوذ من معارف القرآن)
دلیل نمبر2:قرآن مجید سورۃ البقرہ آیت نمبر:13،میں ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ﴾
ترجمہ: اور جب کہا جاتا ہے ان کو ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے ۔
تشریح: مذکورہ آیت میں منافقین کے سامنے صحیح ایمان کا ایک معیار رکھا گیا کہ “اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاس” یعنی ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے اور لوگ، اس میں ناس سے مراد باتفاق مفسرین صحابہ کرامؓ ہیں کیونکہ وہی حضرات ہیں جو نزول قرآن کے وقت ایمان لائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان معتبر ہے جو صحابہ کرامؓ کے ایمان کی طرح ہو جن چیزوں میں جس کیفیت کے ساتھ ان کا ایمان ہے اسی طرح کا ایمان دوسروں کا ہوگا تو ایمان کہا جائے گا، ورنہ نہیں اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا ایمان ایک کسوٹی ہے جس پر باقی ساری امت کے ایمان کو پرکھا جائے گا جو اس کسوٹی پر صحیح نہ ہو اس کو شرعا ایمان اور ایسا کرنے والے کو مومن نہ کہا جائے گا اس کے خلاف کوئی عقیدہ اور عمل خواہ ظاہر میں کتنا ہی اچھا نظر آئے اور کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائے اللہ کے نزدیک ایسا ایمان معتبر نہیں ۔(ماخوذمن معارف القرآن)
تفسیر قرطبی(2/142)میں ہے:
قوله تعالى:” فإن آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا” الخطاب لمحمد صلى الله عليه وسلم وأمته. المعنى: فإن آمنوا مثل إيمانكم، وصدقوا مثل تصديقكم فقد اهتدوا، فالمماثلة وقعت بين الإيمانين.
تفسیر رازی(4/74)میں ہے:
فإن آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا وإن تولوا فإنما هم في شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم (137)
اعلم أنه تعالى لما بين الطريق الواضح في الدين، وهو أن يعترف الإنسان بنبوة من قامت الدلالة على نبوته، وأن يحترز في ذلك عن المناقضة: رغبهم في مثل هذا الإيمان فقال: فإن آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا.
من وجوه: ….ورابعها: أن يكون قوله: فإن آمنوا بمثل ما آمنتم به أي فإن صاروا مؤمنين بمثل ما به صرتم مؤمنين فقد اهتدوا، فالتمثيل في الآية بين الإيمانين والتصديقين.
دلیل نمبر3:سنن ترمذی(حدیث نمبر:2641)میں ہے:
عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:….تفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة»، قالوا: ومن هي يا رسول الله؟ قال:ما أنا عليه وأصحابي.
ترجمہ:آپ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے تہتر(73)فرقے ہوجائیں گے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک فرقے کے،صحابہ کرامؓ نے پوچھا وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
تشریح:مذکورہ حدیث میں آپﷺ نےاپنے اور صحابہ کے قول و فعل اور اعتقاد کو معیار حق قرار دیا ہے لہذا جو شخص اپنے کسی اعتقاد یا قول وفعل میں آپ ﷺ اورصحابہ کرامؓ کے بتلائے ہوئے طریقے سے ہٹے گا وہ جہنم میں جائے گا۔
المفاتیح فی شرح المصابیح،للمظہری الحنفی،ت:727ھ(1/278)میں ہے:
قوله عليه الصلاة والسلام:”ما أنا عليه وأصحابي”يعني: ما أنا وأصحابي عليه من الاعتقاد والقول والفعل فهو حق، وما عداه فهو باطل.
دلیل نمبر4: سنن ترمذی(حدیث نمبر:2676)میں ہے:
عن العرباض بن سارية قال:وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بعد صلاة الغداة موعظة بليغة…. قال: أوصيكم بتقوى الله، والسمع والطاعة، وإن عبد حبشي، فإنه من يعش منكم يرى اختلافا كثيرا، وإياكم ومحدثات الأمور؛ فإنها ضلالة، فمن أدرك ذلك منكم فعليه بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عضوا عليها بالنواجذ.
ترجمہ:حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ نے ہمیں نصیحت فرمائی۔۔۔ ( آخر میں فرمایا) تم پرلازم ہے کہ میرے اور میرے ہدایت یافتہ خلفائےراشدین کے طریقے کو مضبوطی سے پکڑو۔
تشریح: اس حدیث میں خلفائے راشدین کے طریقہ کو “سنت” کہنا اس کی دلیل ہے کہ جس طرح حضور اکرم ﷺ کی سنت حجت ہے اسی طرح خلفائے راشدین کی سنت بھی حجت ہے ۔
علامہ تورپشتی ؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وإنما ذكر سنتهم في مقابلة سنته؛ لأنه علم أنهم لا يخطئون فيما يستخرجونه ويستنبطونه من سنته بالاجتهاد، ولأنه عرف أن بعض سنته لا يشتهر إلا في زمانهم فأضاف إليهم؛ لبيان أن مَنْ ذهب إلى ردِّ تلك السُّنة مخطئٌ، فأطلق القول باتباع سنتهم سدًا للباب.(الفتوحات الوهبية،ص:۱۹۸)
یعنی حضور اکرمﷺنے اپنے طریقہ کو سنت فرمایا اور ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کے طریقہ کو بھی سنت سے تعبیر فرمایا یہ اس لیے کہ حضوراکرمﷺ جانتے تھے کہ میرے خلفاء میری سنت کو سامنے رکھ کر جو کچھ استنباط کریں گے اس میں خطا نہیں کریں گے ۔ یا پھر اس لیے ان کے طریقہ کو سنت فرمایا کہ حضورﷺکی بعض سنتیں خلفائے راشدین کے زمانہ میں مشہور ہونے والی ہیں پہلے ہی سے حضوراکرمﷺ نے تنبیہ فرما دی اور سد باب کر دیا کہ کوئی اس پر اعتراض نہ کر سکے اور نہ رد کر سکے ۔ اس سے واضح طو رپر ثابت ہوگیا کہ خلفائے راشدین کا طریقہ یقیناً ہمارے لیے حجت او رمعیار ہے ۔(فتاوی رحیمیہ ،ج:3ص:99)
معارف القرآن ،مفتی شفیع عثمانیؒ(1/354)میں ہے:
فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِه شروع سورۃ بقرہ سے یہاں تک ایمان کی حقیقت کہیں مجمل کہیں مفصل بیان کی گئ ہے ،اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے جو تمام تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے کیونکہ آمَنْتُمْ کے مخاطب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام ہیں، اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ومعتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا جو اعتقاد اس سے سرمو مختلف ہو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ۔
توضیح اس کی یہ ہے کہ جتنی چیزوں پر یہ ایمان لائے ان میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو اور جس طرح اخلاص کے ساتھ ایمان لائے اس میں کوئی فرق نہ آئے کہ وہ نفاق میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات فرشتے اور انبیاء علیہم السلام ورسل ، آسمانی کتابیں اور ان کی تعلیمات کے متعلق جو ایمان واعتقاد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اختیار کیا وہی اللہ کے نزدیک مقبول ہے اس کے خلاف اس میں کوئی تاویل کرنا یا کوئی دوسرے معنی مراد لینا اللہ کے نزدیک مردود ہے فرشتوں اور انبیاء ورسل کے لیے جو مقام آپ کے قول وعمل سے واضح ہوا اس سے ان کو گھٹانا یا بڑھانا ایمان کے منافی ہے،اس توضیح سے ان تمام باطل فرقوں کے ایمان کا خلل واضح ہوگیا جو ایمان کے دعویدار ہیں مگر حقیقت ایمان سے بےبہرہ ہیں کیونکہ زبانی دعویٰ ایمان کا تو بت پرست مشرکین بھی کرتے تھے اور یہود ونصاریٰ بھی اور ہر زمانے میں زندیق وملحد بھی مگر چونکہ ان کا ایمان اللہ پر اور رسولوں پر اور فرشتوں پر اور یوم قیامت وغیرہ پر اس طرح کا نہیں تھا جیسا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اس لئے وہ اللہ کے نزدیک مردود نامقبول ہوا۔
زبدۃ الفقہ،لسید زوار حسین شاہؒ(22)میں ہے:
………..غیر صحابی نے جس صحابی کی تقلید کی وہ نجات پا گیا اس لیے تمام صحابہ کرام متبوع و معیار شریعت ہیں، ان کی شان میں زبان طعن دراز کرنا اللّٰہ تعالیٰ اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب اور سخت حرام ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس وبال سے بچائے آمین۔
فتاوی رحیمیہ(3/97)میں ہے:
حضرات صحابہ معیار حق ہیں :
(سوال ) کیافرماتے ہیں مفتیان عظام اس بارے میں کہ صحابہ کرام رضی اﷲعنہم اجمعین معیار حق ہیں یا نہیں ؟ مودودی جماعت ان کو معیار حق تسلیم نہیں کرتی ، سوال یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے معیار حق ہونے کے کیا معنی ہیں ؟ صحابۂ کرام ؓ اگر معیار حق ہیں تو ا س کے کیا دلائل ہیں تفصیل سے بیان فرمائیں ۔ بینوا توجروا۔از بارہ مولا کشمیر۔
(الجواب)حامداً و مصلیاً : صحابہ کرام رضی اﷲعنہم اجمعین معیار حق ہیں ۔ اس کا معنی و مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال افعال حق وباطل کی کسوٹی ہیں ان حضرات نے جو فرمایا یا جو دینی کام کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ حجت اور ذریعہ فلاح ہے………….
فتاوی رحیمیہ(6/65)میں ہے:
ایک بنیادی نکتہ جو کبھی فراموش نہ ہونا چاہیے:
صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین معیار حق ہیں ۔ان کے جذبات ورجحانات صراط مستقیم کے مقدس نشانات اور دین کامل کی عملی تصویریں ہیں ۔ کیونکہ دین حق کے بانی حضرت حق جل مجدہ نے اپنے کلام پاک میں شہادت دی ہے کہ یہی ہیں راہ راست پر ۔اولئک ھم الراشدون(سورہ حجرات ع۱)
یہی ہیں وہ پاک نفوس کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے ۔ ایمان کو ان کے دلوں میں سجا دیاہے۔ کفر فسق اور معصیت سے بہت سخت اور شدید نفرت ان کے اندر پیدا کر دی ہے (سورۂ حجرات ع۱)
پرہیز گاری پر ان کو پختہ کر دیا ہے۔ کلمہ تقوی ان کے لیے لازم کر دیا ہے اور ان پر چپکا دیا ہے۔ یہ تقویٰ اور پرہیز گاری کے سب سے زیادہ مستحق اور اس کے پورے اہل ہیں ۔سورہ فتح ع۳۔
فتاوی محمودیہ(2/203)میں ہے:
سوال:- بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم معیار حق نہیں ہیں اور نہ کوئی پیغمبر سوائے رسول اللہﷺ کے، پس رسول اللہﷺ ہی معیار حق ہیں، اس کا مفصل جواب تحریر فرمائیں۔
الجواب حامداً ومصلیاً! ہر ہر پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کے دین کو صحیح پہنچایا ہے اس میں ذرّہ برابر تصرّف نہیں کیا، کمی، زیادتی نہیں کی، کوئی حکم نہیں چُھپایا، کوئی اپنی طرف سے اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات اللہ پاک کی طرف غلط منسوب نہیں کی، تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بالکل معیار حق ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت نبی کریمﷺ سے جس قدر دینِ برحق سیکھا وہ دوسروں کو اسی طرح پہنچایا، اس میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات آنحضرتﷺ کی طرف غلط منسوب نہیں کی، جس بات کو صحابہ کرامؓ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ حضرت رسول مقبولﷺ کا ارشاد ہے وہ بالکل صحیح ہے اس کو صحیح ماننا لازم ہے، صحابہ کرام پر اگر اعتماد نہ ہو اور ان کے نقل دین کے حق کو تسلیم نہ کیا جائے،تو پھر سارے دین سے اعتماد ختم ہو جائے گا اور صحیح دین دوسروں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں رہے گی جیسا کہ روافض نے صحابۂ کرام پر اعتماد نہیں کیا تو ان کے نزدیک نہ احادیث قابل اعتماد ہیں اور نہ قرآن پر ان کو اعتماد ہے، ان کے پاس دین بر حق پہنچنے کی کوئی صورت نہیں ہے وہ اس نعمتِ الٰہی اور ذریعہ نجات سے محروم ہیں لہٰذا نقل دین میں صحابہ کرامؓ معیار حق ہیں۔ فقط واللہ تعالی اعلم
اسلامی عقائد،حضرت ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحبؒ(233)میں ہے:
صحابہ معیار حق اور واجب الاتباع ہیں :
فان آمنوا بمثل ماآمنتم بِه فقد اهتدوا(سورة البقرة:137)
اگر دوسرے لوگ ایمان لائیں جس طرح پر تم ایمان لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پا لیں گے۔
اس آیت میں ایمانیات میں صحابہ کے ایمان کو معیار بنایا گیا ہےاور تمام انسانوں کے لیے ہدایت کو ان کے جیسا ایمان لانے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved