• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عمل کثیر کی مختلف صورتوں کا حکم

استفتاء

میں نے اپنے استاذ سے سنا تھا کہ عملِ کثیر مفسدات نماز میں سے ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں ۔

1۔ نماز میں کوئی ایسا کام کرنا کہ دیکھنے والا یوں سمجھے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا۔

2۔ ایک رکن میں ایک ہاتھ کو تین مرتبہ استعمال کرنا ۔

3۔ دونوں ہاتھوں کو ایک ہی وقت میں اکٹھے استعمال کرنا ۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ تینوں اقسام عملِ کثیر کی ہیں اور مفسدات نماز میں سے ہیں اور اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے دوبارہ نماز کا لوٹانا واجب ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ تینوں اقسام عملِ کثیر کی ہیں لہٰذا  ان میں سے کوئی بھی صورت پائی جائے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے اور نماز کا لوٹانا لازمی ہوتا ہے تاہم ان میں تھوڑی سی تفصیل ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔

پہلی صورت میں عملِ کثیر ہونے کا تحقق اس وقت ہوگا جب دیکھنے والے کو اس بندے کے نماز میں شروع ہونے کا علم نہ ہو۔اوردوسری صورت  میں عملِ کثیر  کا تحقق اس وقت ہوگا جب کوئی عمل ایک رکن یعنی (تین دفعہ سبحان اللہ کہنے) کی مقدار میں تین بار کیا جائے۔اور تیسری صورت میں محض دو ہاتھوں کا استعمال عملِ کثیر نہیں، بلکہ ایسا کام عملِ کثیر ہے جو عموماً دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہو، اگرچہ نماز کے اندر تکلف کر کے صرف ایک ہاتھ سے کیا جائے۔ اور جو عمل عموماً  ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہو، وہ عملِ کثیر نہیں، اگرچہ نماز کے اندر دونوں ہاتھ استعمال کر کے کیا جائے۔

البحر الرائق (2/12) میں ہے:

ثم اختلفوا فيما يعين الكثرة والقلة على أقوال أحدها ما اختاره العامة كما في الخلاصة والخانية أن كل عمل لا يشك الناظر أنه ليس في الصلاة فهو كثير وكل عمل يشتبه على الناظر أن عامله في الصلاة فهو قليل قال في البدائع وهذا أصح وتابعه الشارح والولوالجي وقال في المحيط إنه الأحسن وقال الصدر الشهيد إنه الصواب وذكر العلامة الحلبي أن الظاهر أن مرادهم بالناظر من ليس عنده علم بشروع المصلي في الصلاة فحينئذ إذا رآه على هذا العمل وتيقن أنه ليس في الصلاة فهو عمل كثير وإن شك فهو قليل ثانيها إن ما يقام باليدين عادة كثير وإن فعله بيد واحدة كالتعمم ولبس القميص وشد السراويل والرمي عن القوس وما يقام بيد واحدة قليل ولو فعله باليدين كنزع القميص وحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها ونزع اللجام وما أشبه ذلك كذا ذكره الشارح ولم يقيد في الخلاصة والخانية ما يقام باليدين بالعرف

وقيد في الخانية ما يقام بيد واحدة بما إذا لم يتكرر والمراد بالتكرر ثلاث متواليات لما في الخلاصة وإن حك ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته هذا إذا رفع يده في كل مرة ‌أما ‌إذا ‌لم ‌يرفع ‌في ‌كل ‌مرة فلا تفسد لأنه حك واحد .

وهو تقييد غريب وتفصيل عجيب ينبغي حفظه

تبیین الحقائق (1/165) میں ہے:

والكثير مفسد ‌واختلفوا ‌في ‌الفاصل بينهما، وهو على خمسة أقوال الأول أن ما يقام باليدين عادة كثير، وإن فعله بيد واحدة ……….. والثاني أن الثلاث المتواليات كثير وما دونه قليل حتى لو روح على نفسه بمروحة ثلاث مرات أو حك موضعا من جسده أو رمى ثلاثة أحجار أو نتف ثلاث شعرات فإن كانت على الولاء تفسد صلاته وإن فصل لا تفسد، وإن كثر

مسائل بہشتی زیور(1/216) میں ہے:

عمل کثیر کی چند صورتیں ہیں:

۱۔ دور سے دیکھنے والا کہ جس کے سامنے نماز شروع نہیں کی وہ عمل  ہوتے دیکھ کر یہ سمجھے کہ وہ شخص نماز میں نہیں ہے۔

۲۔ وہ کام جو عام طور سے دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہے جیسے عمامہ باندھنا ، تہہ بند باندھنا ……. اگرچہ نمازی  اس وقت اس کو ایک ہاتھ سے کرے۔

……….۴۔ عمل اگرچہ قلیل ہو لیکن اس کو ایک رکن (یعنی تین دفعہ سبحان اللہ کہنے) کی مقدار میں تین بار تک کرنے سے وہ عمل کثیر بن جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved