• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا صوفی کمپنی کا صوفی کلاسک صابن استعمال کرنا جائز ہے؟

استفتاء

کیا صوفی کمپنی کا صوفی کلاسک صابن استعمال کرنا جائز ہے؟  اس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں:

Sodium Tallowate(سوڈیم ٹیلویٹ), Sodium palmate(سوڈیم پالمیٹ)  , Sodium palm Kernelate(سوڈیم پام کرنلیٹ), Sodium Cocoate(سوڈیم کوکوایٹ ), Cocamidopropyle Betaine(کوکامائیڈروپائل بیٹین), Sodium chloride(سوڈیم کلورائڈ), Sodium Stearate(سوڈیم اسٹیریٹ),TetrasodiumEDTA(ٹیٹرا سوڈیم), Titanium dioxide(ٹائیٹینیم ڈائی آکسائڈ), Glycerine(گلیسرین), Perfume(پرفیوم), Water(پانی), Citric Acid(سٹرک ایسڈ)

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صوفی کلاسک  کا استعمال درست ہے کیونکہ مذکورہ صابن کے پیکٹ پر درج اجزاء ناپاک نہیں ہیں، نیز اگر صابن میں ناپاک چیز شامل ہو تب بھی صابن بن جانے سے اس ناپاک چیز کی حقیقت بدل جاتی ہے اور اصل حقیقت کے بدل جانے کی وجہ سے اسے پاک ہی شمار کیا جاتا ہے۔

توجیہ: مذکورہ صابن کے کاغذ پر تیرہ  (13) اجزائے ترکیبی مذکور ہیں جن میں سے آٹھ(8)  نباتاتی ، دو (2) معدنی ، ایک (1) حیوانی اور دو (2)  مصنوعی اجزاء درج ہیں ان اجزاء کی تفصیل اور ان کا حکم درج ذیل ہے

نباتاتی اجزاء:

1۔Sodium palmate (سوڈیم پالمیٹ)  دو اجزاء کے کیمیائی رد عمل سے بنتا ہے پام آئل اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ

2۔Sodium palm kernelate (سوڈیم پام کرنلیٹ)

ان دونوں اجزاء کو Palm oil (کھجور کا تیل) Palm Kernel oil (کھجور کی گھٹلی کا تیل) Sodium hydroxideسے حاصل کیا جاتا ہے۔

3۔Sodium cocoate(سوڈیم کوکوایٹ ) ناریل  کے تیل، ہائیڈروجن، آکسیجن سے تیار شدہ۔

4۔ Sodium Stearate (سوڈیم اسٹیریٹ) پودوں کی چکنائی  اور تیل   اسٹیرک ایسڈٖ ، سوڈیم ہائڈرو آکسائیڈ اس کے اجزاء میں شامل ہے۔

5۔ Cocamidopropyle Betaine (کوکامائیڈروپائل بیٹین) ناریل کے تیل سے حاصل کردہ۔یہ صابن میں جھاگ بنانے اور گاڑھا  کرنے کے لیے استعمال  ہوتا ہے۔

6۔Glycerine (گلیسرین) گلیسرین نباتات سے بھی حاصل ہوتی ہے اور حیوانات  سے بھی   لیکن کھانے پینے کی اشیاء  اور کاسمیٹک کی اشیاء میں عموماً نباتاتی استعمال ہوتی  ہے۔

چناچہ Musim Mass websiteمیں ہے:

Natural glycerine is derived from plant oils or animal fats. Vegetable-based glycerine often comes from palm oil, coconut oil, soy, or rapeseed. This type is commonly used in food, cosmetics, and pharmaceuticals, and is suitable for vegan products.

ترجمہ: قدرتی گلیسرین نباتاتی تیل یا حیوانی چربی سے حاصل کی جاتی ہے۔ نباتاتی گلیسرین عموماً پام آئل، ناریل کے تیل، سویا بین یا ریپ سیڈ (کینولا) کے تیل سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ قسم عام طور پر غذائی اشیاء، کاسمیٹکس اور دواسازی میں استعمال ہوتی ہے اور ویگن مصنوعات کے لیے بھی موزوں سمجھی جاتی ہے۔

7۔ Perfumeخوشبو (الکوحل اور پانی کے امتزاج سے حاصل کیا جاتا ہے)

اگرچہ  یہ مذکورہ اجزاء معدنیات اور حیوانات  سے بھی حاصل ہوتے ہیں لیکن تجارتی سطح پر  نباتاتی استعمال  ہونے کے باعث انہیں نباتاتی اجزاء  میں شامل کیا ہے۔

8۔Citric acid (سٹرک ایسڈ)  لیموں، کینو اور مالٹے میں پایا  جانے  والا ایسڈ۔

معدنی اجزاء:

9۔ Sodium chloride(سوڈیم کلورائڈ) کھانے کا نمک

10۔ Water(پانی)

حیوانی جز:

11۔ Sodium Tallowate (سوڈیم ٹیلویٹ)  گائے اور بھیڑ کی پگھلائی ہوئی چربی سے تیار کیا جاتا ہے جو چربی کو صابن میں بدلنے کا کام دیتا ہے۔اس عمل کے لیے سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

توجیہ: مذکورہ صابن بنانے میں جو چربی استعمال ہوتی ہے وہ حلال جانور( گائے اور بھیڑ ) کی ہے لہذا اگر ان جانوروں کو ذبح کیا گیا ہو تو چربی پاک ہے اور اگر انہیں ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ مردار گائے اور بھیڑ کی چربی ہو تو اس صورت میں یہ چربی ناپاک ہے۔ البتہ صابن بن جانے کی صورت میں چونکہ اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور چربی پاک ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ جز بھی پاک ہے۔

مصنوعی اجزاء:

12۔ TetrasodiumEDTA(ٹیٹرا سوڈیم)

13۔ Titanium dioxide(ٹائیٹینیم ڈائی آکسائڈ)

ان  کے بنیادی اجزاء میں ایسیٹک ایسڈ،  ایتھیلین ڈائنامین اور سوڈیم ہائڈرو آکسائیڈ کا نمک ہے۔ اور کاربن ، ہائڈروجن، نائیٹروجن، آکسیجن سوڈیم بھی شامل ہے جوکہ پاک ہیں اس  لیے یہ اجزاء بھی پاک ہیں۔

شامی (1/315) میں ہے:

(و) يطهر (زيت) تنجس (‌بجعله ‌صابونا) به يفتى للبلوى …….. وعبارة المجتبى: ‌جعل ‌الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى ……. ‌وعليه ‌يتفرع ‌ما ‌لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ

فتاویٰ محمودیہ (18/206) میں ہے:

سوال: اگر ناپاک تیل یا  چربی سے صابن بنا لیا جائے تو اس صابن کا کیا حکم ہے؟

جواب: جب صابن بنانے سے اصل حقیقت بدل گئی تو وہ پاک ہے۔

فتاویٰ عثمانی (8/498) میں ہے:

جو صابن یا گلیسرین مردار کی چربی سے بنائے گئے ہوں اگر ان کو بناتے وقت کیمیاوی عمل  کے ذریعے چربی کی حقیقت بدل کر کچھ اور ہوجائے اور ظاہر یہی ہے کہ صابن  بن جانے سے چربی کی حقیقت بدل جاتی ہے تو یہ صابن اور گلیسرین پاک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved