- فتوی نمبر: 37-40
- تاریخ: 11 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > لباس و وضع قطع
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ میرے چہرے پر ابھی تازی تازی داڑھی آئی ہے میں نے سنا ہے کہ اگر پہلی داڑھی نہ کٹوائیں اور ویسے ہی داڑھی رکھ لیں تو وہ زیادہ بڑھتی نہیں ہے ، چھوٹی ہی رہتی ہے لیکن میں لمبی داڑھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا میں اس نیت سے داڑھی کٹوا سکتا ہوں کچھ دیر تک کہ میں نے لمبی داڑھی رکھنی ہے میں کچھ دیر تک داڑھی کٹواتا رہو ں پھر اس کے بعد کٹوانا چھوڑ دوں اور پھر پوری لمبی داڑھی رکھ لوں کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایسا کرنا جائز نہیں۔
شامی (3/456) میں ہے:
وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم
فتاوی محمودیہ (19/418) میں ہے:
سوال:ایک صاحب ہیں جن کی داڑھی نہیں آئی ہے فی الحال ان کا چہرہ بالکل صاف ہے ۔ کئی آدمیوں نے اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ داڑھی کی جگہ پر استرہ یا بلیڈ پھیریں تو داڑھی کی جگہ بال اگ سکتے ہیں حالانکہ وہ صاحب امامت کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں جبکہ چہرہ پر بالکل بال نہ ہوں استرہ یا بلیڈ داڑھی کے بال آنے کی غرض سے پھیر واسکتے ہیں یا نہیں ۔
الجواب: چہرہ پر بالوں کا اگنا قدرت کی طرف سے ہے اپنی اختیاری چیز نہیں اگر بالکل بال نہ اگیں تو بندہ گنہگار نہیں۔ لہذا بال اگانے کیلئے استرہ یا بلیڈ چہرے پر پھیرنے کی ضرورت نہیں لیکن بال اگنے کے بعد ان کو منڈوانا گناہ ہے۔
فتاوی رحیمیہ ( 10 / 116) میں ہے :
سوال : میری داڑھی نکلی ہے مگر درمیان میں بعض جگہ بالکل بال نہیں ہیں اس لئے بدنمااور برا معلوم ہوتا ہے بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ اگر خالی جگہ پر استرا پھیرا جائے تو بال نکل آتے ہیں اس نیت سے موضع ریش پر استرا پھیرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: موضع ریش کا بعض حصہ بالوں سے خالی ہو تو بال نکل آئیں اور ریش بھر جائے اس غرض سے خالی جگہ پر بطور علاج استرا پھیلانے میں مضائقہ نہیں لیکن اگر موضع ریش پر چھوٹے اور متفرق بال ہوں تو بڑھانے اور ملانے کی غرض سے ان بالوں کو مونڈنا درست نہ ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved