• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

لڑکی کے فوت ہونے کے بعد جہیز کے سامان میں وراثت کا حکم

استفتاء

جہیز کے سامان میں جب لڑکی فوت ہوجائے تو اس کے شوہر اور ایک بیٹی(ایک سال عمر) کا حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کس تناسب سے؟

وضاحت مطلوب ہے: اس مرحومہ لڑکی کے والدین اور بہن، بھائیوں میں سے کون کون زندہ ہے؟

جواب وضاحت: والدین ، ایک بھائی (عمر 27 سال)، ایک شادی شدہ بہن (عمر30سال) اور ایک غیر شادی شدہ بہن (عمر24 سال ) حیات ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں جہیز کا سامان لڑکی کی وراثت شمار ہوگا جس کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اس کے 13 حصے کیے جائیں گے جن میں سے شوہر کو 3 حصے (23.07 فیصد)، والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو 2،2 حصے (15.38فیصد فی کس) اور بیٹی کو 6 حصے (46.15 فیصد) ملیں گے جبکہ مرحومہ  کے بھائی، بہنوں کو وراثت میں سے کچھ نہ ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

12عول13

شوہروالدوالدہ1 بیٹی1 بھائی2 بہنیں
4/1سدس مع عصبہسدسنصفمحروممحروم
3226

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved