- فتوی نمبر: 32-315
- تاریخ: 06 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
جہیز کے سامان میں جب لڑکی فوت ہوجائے تو اس کے شوہر اور ایک بیٹی(ایک سال عمر) کا حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو کس تناسب سے؟
وضاحت مطلوب ہے: اس مرحومہ لڑکی کے والدین اور بہن، بھائیوں میں سے کون کون زندہ ہے؟
جواب وضاحت: والدین ، ایک بھائی (عمر 27 سال)، ایک شادی شدہ بہن (عمر30سال) اور ایک غیر شادی شدہ بہن (عمر24 سال ) حیات ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جہیز کا سامان لڑکی کی وراثت شمار ہوگا جس کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اس کے 13 حصے کیے جائیں گے جن میں سے شوہر کو 3 حصے (23.07 فیصد)، والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو 2،2 حصے (15.38فیصد فی کس) اور بیٹی کو 6 حصے (46.15 فیصد) ملیں گے جبکہ مرحومہ کے بھائی، بہنوں کو وراثت میں سے کچھ نہ ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
12عول13
| شوہر | والد | والدہ | 1 بیٹی | 1 بھائی | 2 بہنیں |
| 4/1 | سدس مع عصبہ | سدس | نصف | محروم | محروم |
| 3 | 2 | 2 | 6 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved