- فتوی نمبر: 35-62
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
سوال یہ ہے کہ اگر ایک لڑکی کسی لڑکے کو شادی کا پیغام خود بھیجے اور یہ منت مانے کہ اگر اس نے “ہاں” کر دی تو میں منت کے تین روزے رکھوں گی لڑکی نے لڑکے سے خود بات کی اور اس نے ہاں کر دی لیکن لڑکے نے گھر میں بات کی تو گھر والوں کے نہ ماننے کی وجہ سے لڑکے نے اگلے دن انکار کر دیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا لڑکی پر منت کے تین روزے رکھنا اب فرض ہوگا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں لڑکی پر تین روزے رکھنا واجب ہے۔
توجیہ: چونکہ لڑکی نے روزے رکھنے کو لڑکے کے “ہاں” کرنے پر معلق کیا تھا اور لڑکے نے “ہاں” کر دی لہذا لڑکی کے ذمہ تین روزے واجب ہو گئے۔
شامی (3/739) میں ہے:
(ثم إن) المعلق فيه تفصيل فإن (علقه بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوبا (إن وجد) الشرط (و) إن علقه (بما لم يرده ……….. (وفى) بنذره (أو كفر) ليمينه (على المذهب)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved