• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

لیکوریا کے پانی کا حکم نیز لیکوریا کا پانی اگر مسلسل آتا رہے تو کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا کیا حکم ہے

استفتاء

لیکوریا کا مسئلہ: اگر جوانی سے مسلسل ہوتا رہے تو معذور کا جو حکم ہے اس میں کپڑے  پاک رکھنا ضروری نہیں۔

یہ جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ  لڑکیوں کا پانی اس معذور عورت کے لیے ناپاک نہیں سمجھا جائے گا۔ کیا یہ صحیح ہے؟

اکثر لوگوں کا کہنا یہی ہے کہ مسلسل یہ مسئلہ رہے تو پھر ناپاکی میں شمار نہیں ہوگا، نماز انہی کپڑوں میں ہو جاتی ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔ معذور عورت کے لیے کیا حکم ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: یہ مسئلہ کس نے بیان ہے؟

جواب وضاحت: یہ ایک ’’راہ حق‘‘ کے نام سے خواتین کا گروپ ہے، اس میں یہ مسئلہ بھیجا گیا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

لیکوریا  کا پانی ہر حال میں ناپاک ہے مسلسل ہو یا مسلسل نہ ہو۔ البتہ اگر فرج داخل (اندرونی شرمگاہ)  میں ٹشو یا کاٹن رکھنے کے باوجود لیکوریا کا پانی اتنا  نکلتا ہو کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اگر کپڑے تبدیل  کیے جائیں یا دھو لیے جائیں  تونماز ختم ہونے سے پہلے ہی  ایک درہم یا اس  سے زائد کے بقدر لیکوریا کا پانی کپڑوں کو لگ جائے گا تو  ایسی حالت میں کپڑے تبدیل کرنے یا دھونے کی ضرورت نہیں،  عذر کی وجہ سے  انہی کپڑوں میں نماز ہو جائے گی۔

مریض و معالج کے اسلامی احکام (67: از ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ) میں ہے:

فرج داخل کی رطوبت (Normal Vaginal Dischage) ہو یا رحم کی رطوبت (Utenine Discharge) ہو دونوں ناپاک ہیں۔ لہذا لیکوریا (Leucorrhoea)  نجس ہے، اس کے نکلنے سے وضوٹ جاتا ہے ۔

مریض و معالج کے اسلامی احکام (111 از ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ) میں ہے:

مسئلہ: اگر کسی کا زخم بہتا ہو، اس پر کپڑا باندھ لیا، کپڑے پر ہتھیلی کے پھیلاؤ سے زیادہ جگہ پر خون لگ گیا یا مریض کے پہنے ہوئے کپڑوں پر لگ گیا تو اگر زخم بہنے کی یہ حالت ہو کہ کپڑے دھونے یا بدلنے کے بعد نماز کے دوران ہی دوبارہ اتنے پھیلاؤ پر خون لگ جائے گا تو اس کو دھوئے بغیر یا تبدیل کیے بغیر ویسے ہی نماز پڑھ لے، اور اگر زخم کی ایسی حالت نہ ہو تو پھر نماز سے پہلے کپڑے کو دھونا یا تبدیل کرنا فرض ہے۔ اور اگر کپڑے پر  2.75 سم کے قطر کے پھیلاؤ کے برابر خون لگا ہو تو دوبارہ نجس نہ ہونے کی صورت میں کپڑے کو دھونا یا تبدیل کرنا  واجب ہے، اور اگر کپڑے پر  2.75 سم کے قطر کے پھیلاؤ سے کم خون لگا ہو تو دوبارہ نجس نہ ہونے کی صورت میں اس کو دھونا سنت ہے۔

عالمگیری (1/ 293) میں ہے:

مريض تحته ثياب نجسة إن كان بحال لا يبسط شيء إلا ويتنجس من ساعته يصلي على حاله.

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved