• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دورانِ عدت کن کن لوگوں سے پردہ جائز ہے؟

استفتاء

دورانِ عدت کن کن لوگوں سے پردہ جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عدت سے  پردے  میں کچھ فرق نہیں پڑتا، لہٰذا جن سے پہلے پردہ تھا ان سے عدت میں بھی پردہ ہے یعنی جن مردوں سے کبھی بھی نکاح ہوسکتا ہو ان سے پردہ لازمی ہے۔

شرح النووی علی مسلم (رقم الحدیث: 3696) میں ہے:

(فأمرها أن تعتد في بيت أم شريك ثم قال تلك إمرأة يغشاها اصحابي)

ومعنى هذا الحديث أن الصحابة رضي الله عنهم كانوا يزورون أم شريك ويكثرون التردد إليها لصلاحها فرأى النبي صلى الله عليه وسلم أن على فاطمة من الاعتداد عندها حرجا من حيث إنه ‌يلزمها ‌التحفظ من نظرهم إليها ونظرها إليهم وانكشاف شيء منها وفي التحفظ من هذا مع كثرة دخولهم وترددهم مشقة ظاهرة فأمرها بالاعتداد عند بن أم مكتوم لأنه لا يبصرها ولا يتردد إلى بيته من يتردد إلى بيت أم شريك.

فتاویٰ محمودیہ (13/405) میں ہے:

سوال : کیا ان لوگوں سے کہ جن سے والدہ کا پردہ نہیں تھا کیا ان سب سے پردہ کرنا ضروری ہے ؟

جواب : جو شخص شرعا نامحرم ہو اس سے پردہ لازم ہے خواہ زمانہ عدت ہو یا نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved