• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“میں نے طلاق دی” کے الفاظ سے طلاق كا حكم

استفتاء

اگر شوہر نے ایک بار کہا کہ “میں نے طلاق دی” تو اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہوگئی ہے تو کتنی ہوئی ہیں اور اس کے رجوع کی کیا صورت ہوگی؟یہ واقعہ 24/10/4 کو پیش آیا تھا۔

نوٹ:بیوی شوہر کے بیان سے اتفاق کرتی ہے کہ ایک بار یہی الفاظ بولے تھے اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر شوہر نے واقعتاً صرف ایک طلاق ان الفاظ سے دی ہے کہ”میں نے طلاق دی” تو ان الفاظ کی رو سے ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی ہے لہذا عدت گزرنے سے پہلے پہلے شوہر  رجوع کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ (2/198) میں ہے:

(الفصل الأول ‌في ‌الطلاق ‌الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية.

بدائع الصنائع (3/283) میں ہے:

أما ‌الطلاق ‌الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved