• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دی، طلاق دیتا ہوں” کہنےسے طلاق کا حکم

استفتاء

میں اہلِ سنت والجماعت سے تعلق رکھتی ہوں اور ایک شرعی مسئلے میں آپ سے رہنمائی کی درخواست گزار ہوں۔

01 اکتوبر 2025 بروز بدھ کو ہمارے گھر میں ایک معمولی گھریلو بات پر میرے اور میرے شوہر (زید) کے درمیان بحث ہو گئی۔ میرے شوہر اس وقت  شدید غصے کی حالت میں تھے، یہاں تک کہ غصے کی شدت سے کانپ رہے تھے اور اپنا ہوش کھو بیٹھے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں انہیں پہلے کبھی اس کیفیت میں نہیں دیکھا تھا۔ اس دن انہوں نے مجھ پر بہت زیادہ تشدد بھی کیا۔ وہ اپنے آپ میں بالکل نہیں لگ رہے تھے۔وہ پہلے سے ہی نیند کی کمی اور اپنے والد کی بیماری کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے، جس کی وجہ سے غصے میں انہیں اپنے الفاظ اور  افعال  پر بالکل قابو نہیں تھا۔

اسی شدید غصے اور بے قابو کیفیت کے عالم میں انہوں نے ایک ہی مجلس میں بار بار یہ الفاظ کہے کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دی، طلاق دیتا ہوں”۔ میں نے خود یہ الفاظ نہیں سنے، لیکن میرے شوہر کا بیان ہے کہ وہ غصے کی شدت میں مسلسل یہی جملے دہراتے رہے۔

میرے شوہر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان کی طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی اور نہ ہی انہیں طلاق کے شرعی احکام کا علم تھا۔ ان کا ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ نکاح ختم کریں۔ یہ الفاظ صرف غصے کی شدت میں بے اختیار ان کی زبان سے نکل گئے۔  ان کی نیت 3 الگ الگ طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی۔ انہوں  نے صرف اپنی بات پر زور دینے اور غصے کے اظہار کے لیے ایک ہی بات کو 3 دفعہ دہرایا تھا۔

وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔

جواب وضاحت: *******

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا  تو شوہر نے کہا کہ طلاق کے الفاظ یہی  تھے اور غصے میں   مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کررہا ہوں اور مجھ سے کوئی خلاف عادت قول یا فعل بھی صادر نہیں ہوا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے  اور کیا کررہا ہے، غصے کی ایسی نوعیت میں  دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، نیز شوہر کی  اگرچہ طلاق دینے کی نیت نہیں تھی لیکن  چونکہ شوہر نے طلاق کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ صریح تھے جن سے طلاق کی نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے  لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی  ہیں  جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

واضح رہے کہ تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں  چاہے اکٹھی ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجلس میں دی جائیں جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور ائمہ اربع رحمہم اللہ  کا یہی مذہب ہے

چنانچہ ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:

عن مجاهد قال كنت عند ابن عباس رضي الله عنه فجاءه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثاً فسكت حتى ظننت أنه سيردها إليه فقال ينطلق أحدكم فيركب الأحموقة ثم يقول يا ابن عباس یا ابن عباس يا ابن عباس إن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و انك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجاً عصيت ربك و بانت منك امرأتك.

ترجمہ: مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ( بیٹھا) تھا کہ ایک شخص  ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے؟ اس پر ) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے ، پھر انہوں نے فرمایا: تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے (اور تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اے ابن عباس!  اے ابن عباس ! اے ابن عباس ! (کوئی راہ نکالیے  کی دہائی دینے لگتا ہے) بے شک اللہ کا فرمان ہے: ” ومن یتق الله يجعل له مخرجا ” (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں) تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا ( اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے ) تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر ) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی۔

مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:

عن نافع عن ابن عمر قال … أما أنت ‌طلقتها ‌ثلاثا، فقد عصيت ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك، وبانت منك.

ترجمہ:نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے ( اکٹھی تین طلاق دینے والے سے) کہا تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (یعنی بتایا ہوا طریقہ ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے (طلاق مغلظ کے ساتھ ) جدا ہو گئی ہے۔

مؤطا امام مالک  (ص: 521، باب طلاق البکر،  ط میر محمد کتب خانہ ) میں ہے:

أن رجلاً من أهل البادية طلق امرأته ثلاثاً قبل أن يدخل بها … فقال أبو هريرة الواحدة تبينها و الثلاث تحرمها حتى تنكح زوجاً غيره و قال ابن عباس مثل ذلك.

ترجمہ: اہل بادیہ (جنگل کے رہنے والوں) میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو رخصتی سے پہلے ہی (اکٹھی) تین طلاقیں دے دیں۔۔۔۔ تو مسئلہ پوچھنے پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (جواب میں ) فرمایا ایک طلاق دی تو اس سے جس عورت کی رخصتی نہ ہوئی ہو نکاح سے نکل جاتی ہے اور تین طلاقیں (اکٹھی ) دی ہوں (یعنی یوں کہا کہ تجھ کو تین طلاق ) تو یہ اس عورت کو حرام کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ دوسرے شخص سے نکاح کرے، اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایا۔

عمدۃ القاری (1/232)میں  ہے :

مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفة واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة وآخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.

مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( 6/436) میں ہے:

قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفة والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا……وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.

رد المحتار(4/439) میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله. اه……………

(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

بدائع الصنائع (3/101)  میں ہے:

‌أما ‌الصريح ‌فهو ‌اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: ” أنت طالق ” أو ” أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة ” مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها

درمختار (4/509) میں ہے:

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved