- فتوی نمبر: 36-67
- تاریخ: 18 جولائی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > بیع فاسد کے احکام
استفتاء
ایک شخص اپنا گھر بیچتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ گھر(مبیع) پر قبضہ چار یا پانچ ماہ بعد دے گا اور گھر کی رقم (ثمن) پہلے ہی وصول کرلیتا ہے اور اس پر مشتری بھی راضی ہو تو:
1۔کیا یہ عقد درست ہے؟
2۔اگر یہ عقد درست نہیں تو اسکی درست صورت کیا ہوگی جس میں بائع کو ثمن پہلے مل جائے اور مبیع پر مشتری قبضہ چار یا پانچ ماہ بعد کرے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ عقد درست نہیں۔
2۔ہمارے ذہن میں ایسی کوئی جائز صورت نہیں۔
البنایہ شرح الہدایہ (8/186) میں ہے:
قال: ومن باع عينا على أن لا يسلمه إلى رأس الشهر فالبيع فاسد؛ لأن الأجل في المبيع العين باطل، فيكون شرطا فاسدا
الاصل لمحمد بن الحسن (ص: 98) میں ہے:
لو باع داراً على أن يسكنها البائع شهراً أو أقل أو أكثر فهو فاسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved