- فتوی نمبر: 32-333
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ مرحوم زید ولد خالد نے وفات پائی،مرحوم کے باقی ماندہ ورثاء میں تین بھائی (عمر، بکر ،ضیاء)، دو بہنیں( زینب اور عائشہ ) اور مرحوم کی ایک بیوی( خدیجہ) ہے جو بے اولاد ہے اور مرحوم زید کی بھی کوئی اولاد نہیں ہے مرحوم کے ترکہ میں ایک گھر جو تین کمروں پر مشتمل ہے اور موضع***اور موضع **** میں آباد و غیر آباد جائیداد ہے لہذا مذکورہ بالا ورثاء میں مرحوم کی میراث شرعا کیسے تقسیم ہوگی؟
وضاحت مطلوب ہے: (1) سائل کون ہے اور اس کا سوال سے کیا تعلق ہے؟(2) کیا زید کی وفات کے وقت اس کے والدین حیات تھے؟اگر حیات تھے تو ابھی تک حیات ہیں یا فوت ہوچکے ہیں؟ اگر فوت ہوگئے ہیں تو کب فوت ہوئے؟
جواب وضاحت: (1)سائل زید کی بیوی کا بھائی ہے۔ (2) زید کے والدین زید کی وفات سے 6 سال پہلے وفات پاچکے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی جائیداد کے32 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوی کو 8 حصے (25 فیصد) ،مرحوم کے ہر ایک بھائی کو 6 حصے (18.75 فیصد) اور مرحوم کی ہر ایک بہن کو 3 حصے (9.37 فیصد) ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
4×8=32
| بیوی | 3 بھائی | 2 بہنیں |
| 4/1 | عصبہ | |
| 1 | 3 | |
| 1×8 | 3×8 | |
| 8 | 24 | |
| 8 | 6+6+6 | 3+3 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved