- فتوی نمبر: 36-365
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہمارا ایک بھائی زید ***ٹیکسٹائل مل میں کام کرتا تھا اور اس کے بعد عرفان کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور خراب ہونے کے بعد اس نے ادھر سے چھٹی لی اور گھر واپس آگیا یہاں پر اس کا علاج شروع ہو گیا دوران علاج ایک ماہ بعد بھائی زید فوت ہو گئے اور ان کے والد ان کے انتقال سے پہلے فوت ہو گئے ہیں ، زید کی بیوہ زینب حیات ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں اور ان کی والدہ (فاطمہ ) حیات ہیں اور محمد عرفان کے دو بھائی (بکر اور خالد ) حیات ہیں ،ان کی کوئی بہن نہیں ہے اور ان کی ٹیکسٹائل مل میں اماؤنٹ یا بقایا رقم ہے وہ ان تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی یا ان کی بیوہ کو ملے گی ؟مرحوم کے زیرِ کفالت افراد میں صرف بیوہ ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: ٹیکسٹائل مل میں اماؤنٹ یا بقایا رقم سے کونسی رقم مراد ہے؟
جواب وضاحت: اس رقم سے مراد گریجویٹی فنڈ ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ٹیکسٹائل مل سے ملنے والا گریجویٹی فنڈ صرف مرحوم کی بیوی کو ملے گا۔
توجیہ: قانون کی رو سے گریجویٹی فنڈ چونکہ صرف زیرِ کفالت افراد کو دیا جاتا ہے، اس لیے وہ ترکہ نہیں ہے، بلکہ صرف زیرِ کفالت افراد کا حق ہے اور مذکورہ صورت میں مرحوم کے زیرِ کفالت افراد میں صرف بیوی ہے، لہٰذا یہ گریجویٹی فنڈ کی رقم صرف بیوی کی ملکیت ہوگی۔
امداد الفتاویٰ (9/581) میں ہے:
چونکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور وہ وظیفہ محض تبرع واحسان سرکار کا ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا ، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے۔
مسائل بہشتی زیور (2/501) میں ہے:
فیملی پنشن یا کوئی اور فنڈ جو حکومت یا ادارے کی جانب سے ہمدردی کی بنیادوں پر ملے وہ ترکہ میں شامل نہیں بلکہ ان افراد کا حق ہے جو میت کے زیر کفالت تھے اور وہ رقم ان افراد میں برابر برابر تقسیم ہوگی البتہ اگر تصریح کی گئی ہو کہ یہ فنڈ صرف فلاں شخص کے لیے ہے تو پھر اس کا حق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved