• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد میں عملیات وظائف کا اہتمام کروانا

استفتاء

ہماری مسجد میں لوگوں کو نفلی اعتکاف کروایا جاتا ہے اور اس میں مندجہ ذیل اعمال کا اہتمام کروایا جاتا ہے۔

(1)صلوۃ الحاجت دو رکعت ہر نماز کے بعد(2)تلاوت کم از کم تین پارے(3)آیت الکرسی 41 مرتبہ(4) سورت یٰسین 7 مرتبہ(5)آخری پانچ سورتیں چھ بسم اللہ کے ساتھ بغیر سورۃ اللہب کے( 6)ربنا اغفرلنا وتب علینا انك أنت التواب الرحیم 100مرتبہ(7) وجعلنا من بين أيديهم سدا ومن خلفهم سداً فأغشیناهم فهم لايبصرون 100مرتبہ(8)اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذبك من شرورهم 100مرتبہ(9)لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين300مرتبہ(10)لا حول ولا قوة الا بالله300مرتبہ(11) قل هو الله احد200مرتبہ (12)اللهم اكفناهم بما شئت100مرتبہ(13)اللهم اغفرلي وللمومنين وللمومنات والمسلمين والمسلمات27 مرتبہ۔

کیا اس طرح کروانا درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہمارے خیال میں مذکورہ اعمال میں چند امور کا خیال رکھنے کی ضرورت  ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

1۔ صلوۃ الحاجت۔ 2۔ تلاوت

یہ دو اعمال چونکہ نفلی ہیں اور انفرادی ہیں اس لیے ان دو  اعمال میں اس امر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ معتکفین  پر ان اعمال کی کارگذاری یا  پوچھ گچھ کا ایسا دباؤ نہ ہو کہ جس کی وجہ سے معتکفین  کا ان اعمال میں لگنا خواہی نخواہی ہو۔

3۔ آیت الکرسی 41 مرتبہ۔4۔ سورت یٰسین 7 مرتبہ

ان دو اعمال کے ساتھ مخصوص تعداد کے ذکر  سے معلوم ہوتا ہےکہ ان دو اعمال کا کرنا بطور تلاوت کے نہیں ہے بلکہ بطور وظیفہ کے ہے اور جو  آیت قرآنی  یا سورت بطور وظیفہ کے پڑھی جائے اس پر ثواب نہیں ملتا لہذا اسے ثواب کا کام سمجھنا درست نہیں اور بطور وظیفہ کے کسی آیت یا سورت کو پڑھنا اگر کسی دنیاوی مقصد کے پیش نظر ہو تو اسے مسجد میں نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں  یہ ایک دنیاوی کام ہے جس کا مسجد میں ہونا مناسب نہیں۔

5۔ آخری پانچ سورتیں

اول تو اس عمل میں بھی انہی امور کا خیال رکھنا چاہیے جن کا تذکرہ نمبر 3 اور نمبر 4 کے ذیل میں ہوا اور دوسرے  اس عمل کی غرض وغایت ہمیں معلوم نہ ہوسکی۔

6۔ ربنا اغفرلنا….. الخ

اس عمل کو اگر استغفار کی نیت سے کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر وظیفہ کی نیت سے کیا جائے تو اس میں امور کا خیال رکھنا چاہیے جن کا تذکرہ نمبر 3 اور نمبر 4 کے ذیل میں ہوا۔

7۔ وجعلنا من بين أيديهم … الخ

یہ عمل بھی  بظاہر بطور وظیفے کے ہے لہٰذا اس میں بھی وہ تفصیل جاری ہوگی جو نمبر 3 اور نمبر 4 کے ذیل میں بیان ہوئی۔

8۔ اللهم انا نجعلك في نحورهم ….. الخ

یہ عمل اگر بطور دُعا کے کیا  جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر بطور وظیفہ کے کیا جائے تو اس میں بھی وہی تفصیل ہوگی جو نمبر 3 اور نمبر 4 میں ذکر ہوئی۔

9۔لا إله إلا أنت سبحانك ……. الخ

یہ عمل اگر استغفار کی نیت سے کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر بطور وظیفے کے کیا جائے تو اس میں بھی وہی تفصیل ہوگی جو نمبر 3 اور نمبر4 کے تحت ذکر ہوئی۔

10۔لا حول ولا قوة الا بالله

اس عمل کو اگر بطور ذکر کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر بطور وظیفے کے کیا جائے تو اس میں بھی وہی تفصیل ہوگی جو نمبر 3 اور نمبر 4کے تحت ذکر ہوئی۔

11۔ قل هو الله احد

یہ عمل بظاہر بطو ر وظیفہ کے ہے لہٰذا اس کا حکم بھی نمبر 3 اور نمبر 4 والا ہوگا۔

12۔اللهم اكفنا …. الخ13۔ اللهم اغفرلي …. الخ

یہ دونوں اعمال  اگر بطور دُعا کے ہوں تو ان میں کوئی حرج نہیں اور اگر بطور وظیفہ کے ہوں تو اس میں بھی وہی تفصیل ہوگی جو نمبر 3 اور نمبر 4  کے تحت ذکر ہوئی۔

مذکورہ بالا باتوں کے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں:

العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ ،لابن عابدینؒ(2/128)میں ہے:

…إن الرقية بالقرآن ليست بقربة أي لأن المقصود بها الاستشفاء دون الثواب

شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختامات والتہالیل،لابن عابدینؒ(157)میں ہے:

فحاصل كلامه انه لو عمل لغيره عملا ليس بطاعة كرقية ملدوغ ونحوها من بناء دار او خياطة ثوب وامثال ذلك يجوز اخذ المال عليه وان كانت الرقية بقراءة قرآن او علاج غيره كوضع ترياق او بما اشبه ذلك لان ذلك ليس المراد منه القربة والثواب…

ہندیہ (9/109) میں ہے:

«رجل يبيع التعويذ في المسجد الجامع ويكتب في التعويذ التوراة والإنجيل والفرقان ويأخذ عليه المال ويقول: ادفع إلي الهدية. لا يحل له ذلك، كذا في الكبرى.ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد، ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي.

امداد الاحکام (1/332) میں ہے:

سوال:  ۔۔۔ جو شخص کسی غرض کے لیے آیات قرآنی یا درود شریف پڑھے، کیااس کو بھی قرآن شریف کے ہرحرف پر نیکیاں یادرود شریف پرثواب یا تقرب رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام حاصل ہوسکے گا، جواب سے مطلع فرمایاجائے۔

الجواب:۔۔۔ جوعملیات دنیوی غرض کے لیے پڑھے جائیں ان میں ثواب نہیں ہے،فقط

ملفوظات حکیم الامت(1/365)میں ہے:

ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے اس کی طرف لوگوں کی نظر بہت ہی کم جاتی ہے وہ یہ کہ اوراد و وظائف دنیا کے کام کے واسطے پڑھو گے تو اس پر اجر نہ ہوگا اور دعا اگر دنیا کے واسطے بھی ہو گی وہ بھی عبادت ہو گی اور اجر ملے گا۔

خطبات حکیم الامت (2 /135)میں ہے :

عملیات میں ایک بات قابل لحاظ یہ ہے کہ جو عملیات دنیا کے واسطے ہوتے ہیں وہ موجبِ ثواب نہیں ہوتے (یعنی ان کے کرنے میں ثواب نہیں ملتا )ان میں ثواب کا اعتقاد رکھنا بدعت ہے۔

مسائل بہشتی زیور (2/462) میں ہے :

جو عملیات دنیا کے واسطے ہوتے ہیں وہ موجب ِثواب نہیں ہوتے ۔ان میں ثواب کا اعتقاد رکھنا بدعت ہے ۔ایسے عملیات کو مسجد میں  بیٹھ کر نہیں پڑھنا چاہیے۔

اشرف العملیات ( ص31) میں ہے :

اسی طرح ایسے  عملیات ( جو دنیاوی کاموں کے لیے کیے جائیں۔ ناقل) کو مسجد میں بیٹھ کر نہ پڑھنا چاہیے اور نہ اس قسم کے تعویذ مسجدمیں بیٹھ کر لکھنے چاہییں  ۔

عملیات و تعویذات کے شرعی احکام (ص34)  میں ہے  :

حضرت حاجی صاحب ( حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ  )کی خدمت میں ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ مسجد میں پاخانہ کر رہا ہوں۔ حاجی صاحب ؒ  نے فورا ارشاد فرمایا کہ تم مسجد میں کوئی عمل دنیا کے واسطے پڑھتے ہوگے اس نے اقرار کیا  ۔آپ نے فرمایا کہ دنیا کے واسطے مسجد میں وظیفے نہ پڑھنا چاہیے۔ علوی عملیات کے جائز ہونے کے اتنے شرائط ہیں۔ یہ مسائل آپ نےکبھی نہ سنے ہوں گے۔

اصلاحی خطبات (مفتی تقی عثمانی صاحب ،15/58)میں ہے:

قرآن کریم کی آیات کو  اورقرآن کریم کی سورتوں کو اور اللہ تعالی کے ناموں کو اپنے کسی دنیوی مقصد کے لئے استعمال کرنا زیادہ سے زیادہ جائز ہے،لیکن یہ کام عبادت نہیں اور اس میں ثواب نہیں ہے، جیسے آپ کو  بخار آیا اور آپ نے دوا پی لی ،تو یہ دوا پینا جائز ہے ،لیکن دوا پینا عبادت نہیں ،بلکہ ایک مباح کام ہے ،اسی طرح تعویذ اور جھاڑ پھونک  میں اگرچہ اللہ کا نام استعمال کیا ،لیکن جب تم نے اس کو اپنے دنیاوی مقصد کے لئے استعمال کیا تو اب یہ بذا ت خود ثواب اور عبادت نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved