• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میت کے بھائیوں کے ہوتے ہوئے بھتیجوں کا وراثت میں حصہ

استفتاء

اگر میت کی بیٹیاں، بیوی، بھائی اور بہنیں موجود ہوں تو کیا میت کی میراث میں فوت شدہ بھائی کے بیٹوں (میت کے بھتیجوں) کا حصہ ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر ہوتا ہے تو کتنا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر میت کا بھائی موجود ہو تو  بھتیجوں کا میراث میں حصہ نہیں بنتا بشرطیکہ بھتیجوں کا والد اپنے بھائی سے پہلے فوت ہوا ہو اور اگر بعد میں فوت ہوا ہے تو بھتیجوں کے والد کا حصہ بھتیجوں کو بھی ملے گا۔

مفید الوارثین (ص: 143) میں ہے:

“اگر میت کے کوئی حقیقی یا علاتی بھائی موجود ہو(یا درجہ اول و دوم کا کوئی عصبہ موجود ہو) تو بھتیجا بالکل محروم ہے گا”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved