• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

Medical Billing کے کاروبار کی شرعی حیثیت

استفتاء

سوال: Medical Billing کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

تفصیلات:

امریکہ میں علاج معالجہ بہت مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے علاج کیلئے ہیلتھ انشورنس کا سہارا لیتے ہیں یعنی وہ اپنی ہیلتھ انشورنس کروا لیتے ہیں اور علاج کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں  ڈاکٹر کو معاوضہ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے

اب مسئلہ یہ ہے کہ جب مریض کسی ڈاکٹر سے appointment لینے کےلیے کال کرتا ہے تو ڈاکٹر کیلئے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ مریض کس انشورنس کمپنی سے انشورڈ ہے اور اس کی انشورنس پالیسی کا سٹیٹس کیا ہے؟ سٹیٹس سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک آنکھوں کا ڈاکٹر  تحقیق کے بغیر ہی کسی مریض کا چیک اپ کر دے اور بعد میں انشورنس کمپنی سے معاوضہ claim کرے تو انشورنس کمپنی جواباً کہے کہ اس شخص کی پالیسی میں آنکھوں کے علاج کی تو انشورنس ہے ہی نہیں تو ڈاکٹر کو علاج کا معاوضہ نہیں ملے گا لہٰذا ڈاکٹر کو یہ تمام تحقیقات علاج شروع کرنے سے قبل کرنا ہوتی ہیں اب ڈاکٹر اس جھنجھٹ سے بچنے کیلئے یہ کام خود کرنے کی بجائے کسی کمپنی یا فرد کے حوالے کر دیتا ہے یہ کمپنی ڈاکٹر کیلئے درج ذیل امور سر انجام دیتی ہے:

1۔مریض کے انشورنس سٹیٹس کے متعلق ڈاکٹر کو آگاہ کرتی ہے اور یقینی بناتی  ہے کہ مریض کا علاج کرنے کی صورت میں انشورنس کمپنی علاج پر آنے والا خرچہ ادا کرنے کی پابند ہے۔

2۔علاج پر آنے والے اخراجات کا بل ڈاکٹر کے نمائندے کے طور پر انشورنس کمپنی کو بھجواتی ہے۔ اسی لئے اس طرح کی کمپنیوں کو میڈیکل بلنگ کی کمپنی کہا جاتا ہے۔اب انشورنس کمپنی بل  وصول ہونے کے بعد ڈاکٹر کو علاج کا معاوضہ ادا کرتی ہے اور ڈاکٹر اس معاوضے میں سے طے شدہ تناسب سے یعنی معاوضے کا 2 یا 3 فیصد رقم میڈیکل بلنگ کمپنی کو ادا کرتا ہے۔میڈیکل بلنگ کی یہ کمپنیاں عموما پسماندہ ممالک مثلا بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک میں بیٹھ کر کام کرتی ہیں۔

برائے مہربانی اسلام کی رُو سے میڈیکل بلنگ کے بزنس کی شرعی حیثیت بتا دیں کہ آیا اس طرح کے بزنس کی اسلام میں کوئی ممانعت تو نہیں؟

تنقیح: اس کام میں ہمیں بعض اوقات کلائنٹ سے اپنی پہچان بھی چھپانی  پڑتی ہے۔ نیز بعض لوگ اس طرح کے کام میں اپنا نام بھی غیر مسلموں والا ظاہر کرتے ہیں لیکن  ہم ایسا نہیں کرتے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ بزنس جائز  ہے البتہ جن صورتوں میں آپ کو  اپنی پہچان چھپانی پڑتی ہے  ان صورتوں میں جائز نہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں ڈاکٹر اجیر ہے اور مریض مستاجر ہے، مستاجر کے ذمے ہے کہ اجیر یعنی ڈاکٹر کو  اجرت دے پھر چاہے وہ اپنے پاس سے اجرت  دے یا پھر  کسی اور پر حوالہ کردے۔ مذکورہ صورت میں مستاجر یعنی مریض نے ڈاکٹر کو انشورنس کمپنی پر حوالے کردیا ہے کہ جو اجرت تم نے مجھ سے لینی تھی وہ انشورنش کمپنی سے لے لو   ، ڈاکٹر اپنی جائز اجرت لے رہا ہے اور بلنگ کمپنی ڈاکٹر کی وکیل بالاجرۃ ہے لہٰذا جب ڈاکٹر کا کام اور اس  کی اجرت جائز ہے تو اس کے وکیل کی اجرت بھی جائز   ہوگی۔ (مأخذ تبویب قدیم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved