• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کا ایک مسئلہ

استفتاء

زید   کا انتقال 10/17/3کو ہوا  ۔درج ذیل تفصیل کے تحت ان کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟زید کے ورثاء میں  سے  زوجہ   ،ماں  ،4 بیٹے ،5 بیٹیاں ،4 بھائی اور 4 بہنیں  تھیں۔

ورثاء میں سے ماں کا انتقال17/12/3 کوہوا ۔اور 4 بھائیوں میں سے ایک بھائی خالد کاانتقال  19/11/30 کو ہوا،جن کی ایک بیوی، دوبیٹےاور ایک بیٹی ہیں ۔ مزید یہ کہ خالد کے ایک بیٹے  عمر کا بھی 18/3/15 میں انتقال ہو چکا تھا۔نیز زید کے والد ان  کے انتقال سے پہلے فوت ہو چکے  تھے  ۔ جبکہ واجد ،زینب،کلثوم،خدیجہ چاروں خالد کی رضاعی اولاد ہیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید    کے ترکہ کے کل  11232 حصے کیے جائیں گے۔جن میں سے 1404حصے ان کی بیوی  کو، 1224 حصےان کے  ہرہر بیٹے کو،612حصے ان کی ہرہر بیٹی کو،312حصے  ان کےہرہر بھائی کواور 156حصے ان کی  ہرہر بہن کو ملیں گے ۔اور خالد کی زوجہ کو ان میں سے 39 حصے اور ان کے بیٹے کو2   18حصے اور ان کی بیٹی کو 91حصے  ملیں گے ۔

خالد کی زندگی میں فوت ہونے والے  بیٹے (عمر ) اور خالد  کی رضاعی اولاد (واجد ،زینب ، کلثوم ، خدیجہ )   کا خالد   کی وراثت  میں کچھ  حصہ نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved