- فتوی نمبر: 26-275
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو غصے میں کہے کہ ’’میری آنکھوں سے دور ہو جا‘‘ جبکہ اس کی طلاق کی نیت نہ ہو تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے کہ: سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟
جواب وضاحت :یہ میرے رشتہ دار کا مسئلہ ہے۔
شوہر (زید ) کا بیان:
شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ بیان دیا کہ میری بیوی بار بار میکے جانے کا مطالبہ کر رہی تھی، میں نے منع کیا لیکن وہ باز نہ آئی تو میں نے اپنی بیوی کو غصے میں کہا کہ ’’میری آنکھوں سے دور ہو جا‘‘ میری طلاق کی نیت بالکل نہیں تھی، کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتا آپ کی ان الفاظ سے کہ ’’میری آنکھوں سے دور ہو جا‘‘ طلاق کی نیت نہیں تھی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم طلاق کی نیت نہ ہونے پر آپ کو بیوی کے سامنے قسم دینی ہو گی، اگر آپ نے قسم دینے سے انکار کیا تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار کرے گی۔
توجیہ: مذکورہ جملہ کنایات طلاق کی پہلی قسم میں سے ہے جس سے طلاق کا واقع ہونا ہر حال میں نیت پر موقوف ہوتا ہے تاہم طلاق کی نیت نہ ہونے پر شوہر کو بیوی کے سامنے قسم دینی پڑتی ہے، اگر شوہر قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار کرنے کی پابند ہوتی ہے ۔
نوٹ: بائنہ طلاق میں سابقہ نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اکٹھے رہنے کے لیےنیا مہر مقرر کر کے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوتا ہے۔
درمختارمع ردالمحتار (4/517) میں ہے:
(فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا.
درمختارمع ردالمحتار (4/521) میں ہے:
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا
و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية
درمختارمع ردالمحتار (4/521) میں ہے:
والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى
درمختار (5/42) میں ہے:
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved