- فتوی نمبر: 26-400
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرانام عمر ہے میراایک بھائی ہے زید اوردوبہنیں ہیں زینب اور فاطمہ -میرے بھائی زید کا ایک بیٹا خالد اور تین بیٹیاں عائشہ ،خدیجہ اور حفصہ ہیں۔میرے بھائی زید کے بیٹے خالد کا انتقال ہو گیا اس کے بعد میرے بھائی زید کا بھی انتقال ہوگیا۔خالد کی بیوی اور تین بیٹیاں ہیں۔زید کی بیوی کا بھی انتقال 2015 ءمیں ہو چکا تھا۔زید اور میرے والدین بھی اس دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں، والدہ1994ءمیں اور والد 2010ءمیں۔زید کے ترکہ کی تقسیم کیسے ہو گی۔جزاک اللہ
وضاحت :زید اور ان کے بیٹے خالد کی تاریخ وفات کیا ہے؟
جواب:خالد کا انتقال 18 اپریل 2021ءصبح9بجے ہوا تھا اور ان کے والد زید کا انتقال 18اپریل 2021ءکو رات 8بجے ہوا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم زید کے کل ترکہ کے 36 حصے کیے جائیں گے۔ان میں سے زید کی تین بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 8-8حصے،اس کی ہر بہن کو 3-3 حصے ،اور اس کے بھائی کو 6حصے ملیں گے۔ جبکہ خالد کی بیوی اور ان کی بیٹیوں کو محمد نواب کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved