• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کی ایک صورت

استفتاء

میرے والدِ گرامی فوت ہوگئے ہیں اور وارثان میں 3بیٹے، 3 بیٹیاں اور ایک بیوی ہیں۔ والد مرحوم نے کل ترکہ پراپرٹی گھر جس کی مالیت تقریبا 2700000چھوڑی ہے، لہذا  گذارش ہے کہ شرعی مسئلہ واضح فرمادیں کہ وراثت کیسے تقسیم کی جائے اورکس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟

تنقیح: میت کے والدین کا میت سے پہلے انتقال ہوچکا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کل ترکہ کے 72 حصے کیے جائیں گے، ان میں سے 9حصے(یعنی 337500روپے) بیوی کو ،

14 -14حصے (یعنی 525000 روپے) ہر بیٹے کو اور7-7حصے(یعنی 262500روپے)  ہر بیٹی کو ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved