• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث سے متعلق ایک مسئلہ

استفتاء

میرے والد صاحب وفات پا چکے ہیں  ہم تین بھائی اور چھ بہنیں ہیں  میری والدہ وفات پا چکی  ہیں میرے دادا دادی میرے والد کی زندگی میں ہی وفات پا چکے  تھے میرے والد صاحب نے LDA سے ایک پلاٹ خریدا LDA ایک سرکاری ادارہ ہے  جو گھر بنانے کے لیے زمین فروخت کرتا ہے ہم تین بھائیوں نے باپ کے ساتھ مالی مدد کی، دو نے کم اور ایک نے زیادہ۔ مکان تعمیر ہو رہا تھا تو معلوم ہوا پلاٹ متنازع ہے کہ ایک شخص نے جعلی رجسٹری بنا کر ہائی کورٹ میں دعویٰ کر رکھا تھا ہائی کورٹ میں کیس تھا عدالتی حکم سے میرا باپ کیس میں پارٹی بن گیا عدالتی کارروائی جاری تھی کہ اس دوران میرے والد کی وفات ہوگئی میرے باپ کی زندگی میں عدالتی فیصلہ نہ آسکا ۔عدالتی کارروائی میں ہم دو بھائی خرچہ کرتے رہے مکان پر ہمارا قبضہ تھا اور متنازع شخص اپنا حق ثابت نہ کرسکا تو کیس ہمارے حق میں ہوگیا LDA میں مکان وارثان کے نام منتقل کروایا. LDA کے اخراجات بہنوں سے پوچھ کر کیے گئے اب وراثت کی تقسیم میں بہنوں کا ایک  حصہ اور بھائیوں کا دو ہے .پوچھنا یہ تھا کہ جب تک باب زندہ تھا وہاں تک کا خرچہ باپ کے ساتھ سلوک تھا تدفین کے بعد کا خرچہ LDA اور ہائی کورٹ کا خرچہ مکان کی قیمت سے نکالا جائے گا یا کل قیمت ہی  میں بہن کا ایک حصہ اور بھائی کا دو حصہ ہوگا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ بھائیوں نے جو خرچہ کیا ہے وہ بطور قرض  کیا تھا لہذا پہلے اس مقدار (LDA  اور ہائی کورٹ کے خرچے) کو والد صاحب کے ترکے( اگر صرف مکان ہے تو اس کی قیمت) سے نکالا جائے گا پھر باقی  ترکہ ایک اور دو کی نسبت سے  تقسیم ہوگا ۔

الاختیار لتعلیل المختار (٨٠٤)میں ہے :

يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها ثم تقضى ديونه ثم تنفذ وصاياه ثم يقسم الباقي بين ورثته.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved